حدیث نمبر: 303
وَأَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : " إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِهِ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ تَضْحَكُ " .
نوید مجید طیب

عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی بعض بیویوں کا بوسہ روزے کی حالت میں لے لیتے پھر ہنس پڑتی (کیونکہ بعض سے مراد وہ خود تھی)۔

وضاحت:
➊ بوسہ دینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ دیتے اور ساتھ لیٹ بھی جایا کرتے تھے لیکن اپنے جذبات پر خوب ضبط رکھنے والے تھے۔ [سنن ابی داؤد: 2382]
➋ امہات المومنین رضی اللہ عنہن کا مخفی خانگی امور کا بیان کرنا امت کی آگاہی کے لیے فرض تھا وگرنہ بہت سے اہم امور امت سے اوجھل رہتے، میاں بیوی کے تعلقات شریعت کی نظر میں کس طرح ہونے چاہئیں، غسلِ جنابت کا طریقہ، میاں بیوی کا اکٹھا غسل کرنا، وغیرہ وغیرہ پوشیدہ مسائل امہات المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کر کے امت کی بہت سی مشکلات آسان کر دی ہیں۔
➌ عام امت میں سے کسی کے لیے جائز نہیں کہ کوئی مرد دوسرے مرد سے یا عورت دوسری عورت سے اپنے خاوند کا بوس و کنار و جماع کرنے کا تذکرہ کرے کسی امتی کے طریقوں میں امت کی کوئی رہنمائی نہیں بلکہ بہت سارے مفاسد ہیں۔
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد شادیوں کی ایک حکمت یہ بھی بیان ہوئی ہے کہ گھریلو زندگی میں جو رہنمائی تھی امت تک پہنچ جائے۔
➎ جماع کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور کفارہ لازم آتا ہے جماع سے کم تر معاملات بوس و کنار، ساتھ لیٹنا، جسم ساتھ لگانے معانقہ کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، تاہم اگر خدشہ ہو کہ بوس و کنار سے معاملہ آگے بڑھ جائے گا بے قابو ہو کر جماع کر بیٹھے گا تو اس شخص کو بوس و کنار سے بھی پر ہیز کرنا چاہیے۔
➏ مرد عالمہ عورت سے اور عورت عالمِ دین سے شرعی مسئلہ پوچھ سکتی ہے البتہ الفاظ میں احتیاط برتی جائے گی۔ تا کہ مسئلہ بھی معلوم ہو جائے اور شرم و حیا بھی برقرار رہے۔
➐ ضمناً معلوم ہوتا ہے کہ مذی کے خروج سے روزہ نہیں ٹوٹتا البتہ منی کے خروج سے ٹوٹ جاتا ہے۔ «والله اعلم»
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب صيام من أصبح جنبا / حدیث: 303
تخریج حدیث صحیح بخاری، الصوم، باب القبله للصائم، رقم : 1928، صحیح مسلم، الصيام، باب بيان ان القبلة فى الصوم ..... الخ، رقم : 1106