السنن المأثورة
ما جاء في الجمع بين الصلاتين في المطر— بارش کی صورت میں نمازیں جمع کرنے کا بیان
ما جاء في الجمع بين الصلاتين في المطر باب: بارش کی صورت میں نمازیں جمع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 29
أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ الإِنْسَانُ أَرْبَعِينَ آيَةً .نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر قرآت کرتے جب رکوع کا ارادہ فرماتے تو اتنی مقدار پہلے کھڑا ہو جاتے جتنی دیر میں انسان چالیس آیات پڑھ سکتا ہے۔
وضاحت:
➊ مذکورہ احادیث میں کھڑے ہونے کی طاقت رکھنے کے باوجود نفلی نماز بیٹھ کر پڑھنے کا جواز موجود ہے، لیکن امتی اگر بیٹھ کر نفل پڑھیں تو ان کو کھڑے ہو کر پڑھنے کی نسبت آدھا ثواب ملتا ہے۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے سے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر آدمی کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو یہ افضل ہے اور جو بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے تو اسے کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نسبت آدھا ثواب ہوتا ہے۔ [صحیح بخاری: 1115]
➋ فرض نماز کھڑا ہونے کی طاقت ہو تو بیٹھ کر پڑھنا جائز نہیں کیونکہ قیام رکن اور فرض ہے۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر نفل نماز بیٹھ کر بھی ادا فرماتے تو ان کو نصف نہیں بلکہ پورا ثواب ملتا تھا سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا تو کہنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ بیٹھ کر آدمی کی نماز آدھی نماز کے برابر ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أجل، ولكني لستُ كأحدٍ منكم» ہاں ایسا ہی ہے لیکن میرا معاملہ آپ لوگوں کی طرح نہیں۔ [صحیح مسلم: 735]
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نفل اس وقت شروع کیے جب جسم بھاری ہو گیا اور عمر رسیدہ ہوئے۔ [صحیح بخاری: 590، صحیح مسلم: 732]
➎ ہمارے معاشرے میں نوافل کو مستقل طور پر ہر عمر کے انسان کا بیٹھ کر بلا عذر پڑھنا خلاف سنت ہے۔
➏ نوافل سے متعلق یہ تصور گویا یہ فرضی نماز کا حصہ ہیں کسی طور پر بھی درست نہیں نیکی ایسے انداز میں نہیں کرنی چاہیے کہ وہ دین میں اضافہ اور رسم محسوس ہونے لگے۔
➐ ان احادیث میں اس امر کا بھی جواز ہے کہ ایک رکعت کا بعض حصہ کھڑے ہو کر اور بعض حصہ بیٹھ کر بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر رکوع کھڑے ہو کر فرماتے کیونکہ نماز کی ابتدا کھڑا ہو کر کی ہوتی درمیان میں بیٹھتے پھر رکوع کے لیے کھڑے ہو جاتے۔
➑ نفلی نماز میں زیادہ رکعات کی بجائے لمبی قرآت کرنا زیادہ افضل ہے۔ ہاں اگر قرآن یاد نہیں چھوٹی سورتیں ہی یاد ہیں تو ان کو ٹھہر ٹھہر کر متعدد دفعہ دہرایا بھی جا سکتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آیت پر پوری رات بھی قیام فرمایا: ﴿إِن تُعَذِّبُهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [المائدہ: 118] پوری رات بار بار پڑھتے گئے اور روتے گئے اور ساتھ ساتھ امت کے غم میں روتے گئے۔ [سنن نسائی: 1010، سنن ابن ماجہ: 1350]
➒ زیادہ رکعات خشوع و خضوع کا خیال رکھتے ہوئے پڑھنا بھی مشروع ہے جیسا کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عليك بكثرة السجود لله اللہ کے حضور کثرت سے سجدے کیا کرو۔ یہ عمل اللہ کو محبوب ہے۔ [صحیح مسلم: 488]
➓ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا رات دن رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر نظر رکھنا اور ایک ایک عمل نوٹ کر کے امت تک ابلاغ کرنا بھی احادیث بالا سے عیاں ہے۔
➋ فرض نماز کھڑا ہونے کی طاقت ہو تو بیٹھ کر پڑھنا جائز نہیں کیونکہ قیام رکن اور فرض ہے۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر نفل نماز بیٹھ کر بھی ادا فرماتے تو ان کو نصف نہیں بلکہ پورا ثواب ملتا تھا سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا تو کہنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ بیٹھ کر آدمی کی نماز آدھی نماز کے برابر ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أجل، ولكني لستُ كأحدٍ منكم» ہاں ایسا ہی ہے لیکن میرا معاملہ آپ لوگوں کی طرح نہیں۔ [صحیح مسلم: 735]
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نفل اس وقت شروع کیے جب جسم بھاری ہو گیا اور عمر رسیدہ ہوئے۔ [صحیح بخاری: 590، صحیح مسلم: 732]
➎ ہمارے معاشرے میں نوافل کو مستقل طور پر ہر عمر کے انسان کا بیٹھ کر بلا عذر پڑھنا خلاف سنت ہے۔
➏ نوافل سے متعلق یہ تصور گویا یہ فرضی نماز کا حصہ ہیں کسی طور پر بھی درست نہیں نیکی ایسے انداز میں نہیں کرنی چاہیے کہ وہ دین میں اضافہ اور رسم محسوس ہونے لگے۔
➐ ان احادیث میں اس امر کا بھی جواز ہے کہ ایک رکعت کا بعض حصہ کھڑے ہو کر اور بعض حصہ بیٹھ کر بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر رکوع کھڑے ہو کر فرماتے کیونکہ نماز کی ابتدا کھڑا ہو کر کی ہوتی درمیان میں بیٹھتے پھر رکوع کے لیے کھڑے ہو جاتے۔
➑ نفلی نماز میں زیادہ رکعات کی بجائے لمبی قرآت کرنا زیادہ افضل ہے۔ ہاں اگر قرآن یاد نہیں چھوٹی سورتیں ہی یاد ہیں تو ان کو ٹھہر ٹھہر کر متعدد دفعہ دہرایا بھی جا سکتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آیت پر پوری رات بھی قیام فرمایا: ﴿إِن تُعَذِّبُهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [المائدہ: 118] پوری رات بار بار پڑھتے گئے اور روتے گئے اور ساتھ ساتھ امت کے غم میں روتے گئے۔ [سنن نسائی: 1010، سنن ابن ماجہ: 1350]
➒ زیادہ رکعات خشوع و خضوع کا خیال رکھتے ہوئے پڑھنا بھی مشروع ہے جیسا کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عليك بكثرة السجود لله اللہ کے حضور کثرت سے سجدے کیا کرو۔ یہ عمل اللہ کو محبوب ہے۔ [صحیح مسلم: 488]
➓ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا رات دن رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر نظر رکھنا اور ایک ایک عمل نوٹ کر کے امت تک ابلاغ کرنا بھی احادیث بالا سے عیاں ہے۔