حدیث نمبر: 28
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ , فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرُ مَا يَكُونُ ثَلاثِينَ , أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ , ثُمَّ رَكَعَ , ثُمَّ سَجَدَ , ثُمَّ يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ " .
نوید مجید طیب

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تو قرآت بھی بیٹھ کر ہی فرماتے جب قرآت کی تیس یا چالیس آیات باقی ہوتیں تو کھڑے ہو جاتے اور کھڑے ہو کر پڑھتے پھر رکوع پھر سجدہ کرتے پھر دوسری رکعت میں بھی پہلی رکعت کی طرح عمل کرتے۔

حوالہ حدیث السنن المأثورة / ما جاء في الجمع بين الصلاتين في المطر / حدیث: 28
تخریج حدیث صحیح بخاری، الصلاة، باب اذا صلى قاعداً ثم صح، رقم: 1119، صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب جواز النافلة قائمًا وقاعدًا، رقم: 731