حدیث نمبر: 210
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعَ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلا هَاءَ ، وَهَاءَ ، وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ , وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ " .
نوید مجید طیب

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”سونے کا سودا چاندی کے ساتھ سود ہے الا یہ کہ نقدا ایک ہاتھ لو اور ایک ہاتھ دو ہو اور گندم گندم کے عوض ادھار ہوتو سود ہے، جو کا سودا جو سے ادھار کی صورت میں سود ہے۔“

وضاحت:
➊ اس حدیث میں خرید و فروخت کا سود بیان ہوا ہے۔ اصول یہ ہے کہ اشیاء خوردنی اگر بعوض اشیاء خوردنی ہوں تو دونوں طرف سے مال حاضر ہو، ایک ہاتھ لو اور دوسرے ہاتھ دو، ورنہ سود ہے اور اگر دونوں اشیاء ہم جنس ہیں تو وزن بھی برابر برابر اور نقد و نقد کی بھی شرط ہے ورنہ سود ہے اور اگر جنس مختلف ہے ایک طرف گندم جبکہ دوسری طرف جو ہے تو وزن کم زیادہ ہو سکتا ہے لیکن نقد و نقد کی اس میں بھی شرط ہے ورنہ سود ہے۔
➋ اگر پیسوں کے عوض خریدنا ہے تو ادھار بھی جائز ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 210
تخریج حدیث صحیح بخاری ، البيوع، باب ما يذكر في بيع الطعام والحكرة رقم : 2134، صحیح مسلم ، المساقاة، باب الصرف بيع الذهب بالورق نقدا، رقم : 1586 ۔