السنن المأثورة
باب ما جاء في حضور النساء مساجد الجماعة— عورتوں کا مساجد میں با جماعت نماز میں حاضر ہونے کا بیان
باب ما جاء في حضور النساء مساجد الجماعة باب: عورتوں کا مساجد میں با جماعت نماز میں حاضر ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 180
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ وَلْتَخْرُجْنَ وَهُنَّ تَفِلاتٌ " . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : يَعْنِي غَيْرَ مُتَطَيِّبَاتٍ .نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی بندیوں کو مساجد میں آنے سے نہ روکو انہیں چاہیے کہ زیب وزینت کے بغیر بڑی چادروں میں لپٹی ہوئی نکلیں۔“
وضاحت:
➊ عورتیں مسجد میں نماز کے لیے آ سکتی ہیں لیکن عورت کی افضل نماز گھر میں ہے، عید کے لیے عورتوں کو خصوصی حکم ہے کہ عید میں شریک ہوں چاہے حیض کی حالت میں ہوں جو نماز تو نہ پڑھیں البتہ مسلمانوں کی دعا میں شریک ہو جائیں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ بغیر زیب و زینت کے آئیں خوشبو نہ لگائیں بے پردگی نہ ہو۔
➋ ایک روایت میں ہے جو عورت خوشبو لگا کر نامحرم کے پاس سے گزرتی ہے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں (یعنی اس کی خوشبو انہیں اپنی طرف متوجہ کر دے) تو وہ زانیہ ہے۔[سنن نسائی: 5129]
➌ غسل جنابت کے حکم سے مراد خوشبو کو اچھی طرح دھونا ہے جیسے غسل جنابت میں اعضاء اچھی طرح دھوئے جاتے ہیں۔ (واللہ اعلم)
➍ زانیہ سے مراد زنا کی دعوت دینے کا سبب بننے والی ہے اگر حقیقی زانیہ اور حقیقی غسل جنابت مراد ہوتا تو ایسی عورت کو رجم کا بھی حکم ہوتا جس سے اشارہ ملتا ہے کہ اصل چیز کا حکم سبب پر بولا گیا ہے کہ اس عمل کا بالآخر انجام بدکاری ہے لہذا انجام سے ڈرانا مقصود ہے۔
➎ خوشبو لگا کر عورت کا باہر نکلنا کبیرہ گناہ ہے چاہے مسجد میں ہی جانا مقصود ہو اس سے ان بہنوں اور بیٹیوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیے جو خوشبو لگا کر، بے پردہ ہو کر اپنے بدن کی نمائش کرنے بازاروں، دفتروں اور پارکوں میں ہر نظر کے لیے شاملاٹ بن جاتی ہیں۔ اگر مجبورا گھر سے نکلنا پڑے تو بغیر خوشبو کے سادہ حالت میں با پردہ ہو کر نکلیں جیسا کہ اسلام کا حکم ہے۔
➏ عورت کا بناؤ سنگھار صرف شوہر کے لیے ہے اور کسی مقام پر جائز نہیں نہ شادیوں میں، نہ سکولوں، کالجوں میں اور نہ پرائی عورتوں کے سامنے تاکہ دوسری اس کا حسن اپنے خاوند کے سامنے نہ بیان کرے۔
➐ جس عورت کا خاوند نہیں پسند کرتا کہ اس کی بیوی سرخی لگائے اسے خاوند کے لیے بھی نہیں لگانی چاہیے۔
➑ عورتوں کو غیر شرعی طریقے اختیار کر کے زینت اپنانا ممنوع ہے۔ [صحیح بخاری: 4886]
➒ بڑی عمر کے بزرگوں کو جب فتنہ کا اندیشہ نہ ہو عورتوں کو نصیحت کرنی چاہیے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حکومتی عہدے پر بھی فائز رہے ہیں محاسب کے آفیسر بازاروں میں عورتوں کو وعظ و نصیحت کے علاوہ، اگر قانون موجود ہو تو مار پیٹ بھی کر سکتے ہیں۔
➓ بعض الناس کی طرف سے فتنہ کے اندیشہ کے پیش نظر خواتین کو مساجد میں آنے سے روکنا خلافِ شرع ہے۔
➋ ایک روایت میں ہے جو عورت خوشبو لگا کر نامحرم کے پاس سے گزرتی ہے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں (یعنی اس کی خوشبو انہیں اپنی طرف متوجہ کر دے) تو وہ زانیہ ہے۔[سنن نسائی: 5129]
➌ غسل جنابت کے حکم سے مراد خوشبو کو اچھی طرح دھونا ہے جیسے غسل جنابت میں اعضاء اچھی طرح دھوئے جاتے ہیں۔ (واللہ اعلم)
➍ زانیہ سے مراد زنا کی دعوت دینے کا سبب بننے والی ہے اگر حقیقی زانیہ اور حقیقی غسل جنابت مراد ہوتا تو ایسی عورت کو رجم کا بھی حکم ہوتا جس سے اشارہ ملتا ہے کہ اصل چیز کا حکم سبب پر بولا گیا ہے کہ اس عمل کا بالآخر انجام بدکاری ہے لہذا انجام سے ڈرانا مقصود ہے۔
➎ خوشبو لگا کر عورت کا باہر نکلنا کبیرہ گناہ ہے چاہے مسجد میں ہی جانا مقصود ہو اس سے ان بہنوں اور بیٹیوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیے جو خوشبو لگا کر، بے پردہ ہو کر اپنے بدن کی نمائش کرنے بازاروں، دفتروں اور پارکوں میں ہر نظر کے لیے شاملاٹ بن جاتی ہیں۔ اگر مجبورا گھر سے نکلنا پڑے تو بغیر خوشبو کے سادہ حالت میں با پردہ ہو کر نکلیں جیسا کہ اسلام کا حکم ہے۔
➏ عورت کا بناؤ سنگھار صرف شوہر کے لیے ہے اور کسی مقام پر جائز نہیں نہ شادیوں میں، نہ سکولوں، کالجوں میں اور نہ پرائی عورتوں کے سامنے تاکہ دوسری اس کا حسن اپنے خاوند کے سامنے نہ بیان کرے۔
➐ جس عورت کا خاوند نہیں پسند کرتا کہ اس کی بیوی سرخی لگائے اسے خاوند کے لیے بھی نہیں لگانی چاہیے۔
➑ عورتوں کو غیر شرعی طریقے اختیار کر کے زینت اپنانا ممنوع ہے۔ [صحیح بخاری: 4886]
➒ بڑی عمر کے بزرگوں کو جب فتنہ کا اندیشہ نہ ہو عورتوں کو نصیحت کرنی چاہیے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حکومتی عہدے پر بھی فائز رہے ہیں محاسب کے آفیسر بازاروں میں عورتوں کو وعظ و نصیحت کے علاوہ، اگر قانون موجود ہو تو مار پیٹ بھی کر سکتے ہیں۔
➓ بعض الناس کی طرف سے فتنہ کے اندیشہ کے پیش نظر خواتین کو مساجد میں آنے سے روکنا خلافِ شرع ہے۔