السنن المأثورة
باب ما جاء في حضور النساء مساجد الجماعة— عورتوں کا مساجد میں با جماعت نماز میں حاضر ہونے کا بیان
باب ما جاء في حضور النساء مساجد الجماعة باب: عورتوں کا مساجد میں با جماعت نماز میں حاضر ہونے کا بیان
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ مَوْلَى أُبَيٍّ ، قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : هَكَذَا قَرَأَهُ عَلَيْنَا الْمُزَنِيُّ عَنْ مَوْلَى أَبِي رُهْمٍ , قَالَ : لَقِيَ أَبُو هُرَيْرَةَ امْرَأَةً ، فَقَالَ : أَيْنَ تُرِيدِينَ ؟ فَقَالَتِ : الْمَسْجِدَ قَالَ : وَلَهُ خَرَجْتِ أَوْ لَهُ تَطَيَّبْتِ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ ثُمَّ خَرَجَتْ تُرِيدُ الْمَسْجِدَ لَمْ يُقْبَلْ لَهَا كَذَا وَكَذَا وَلا صِيَامٌ حَتَّى تَرْجِعَ فَتَغْتَسِلَ غُسْلَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ " .مولی ابی زہم رحمہ اللہ سے روایت ہے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو راستے میں ایک عورت ملی جس سے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”کہاں جا رہی ہو؟“ کہنے لگی: ”مسجد میں“ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”مسجد کے لیے نکلی ہو اور خوشبو بھی لگائی ہے؟“ کہنے لگی: ”ہاں“ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو عورت خوشبو لگائے، پھر مسجد کے لیے گھر سے نکلے تو اس کی اتنے عرصے تک نماز قبول نہیں ہوتی اور نہ روزہ قبول ہوتا ہے حتی کہ گھر جا کر غسل جنابت کرے۔“