السنن المأثورة
باب ما جاء في القراءة في الركوع والسجود— رکوع اور سجدوں میں قرأت کا بیان
باب ما جاء في القراءة في الركوع والسجود باب: رکوع اور سجدوں میں قرأت کا بیان
حدیث نمبر: 166
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَالَ الإِمَامُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جب امام «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تم «اللهمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» کہو پس شان یہ ہے کہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل گئی اس کے گناہ معاف کر دیے گئے۔“
وضاحت:
➊ جہری نمازوں میں اونچی آمین کہنا سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و سنت سواد اعظم ہے، عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے امامت کرائی، مقتدیوں نے اتنی اونچی آواز سے آمین کہی کہ مسجد گونج اٹھی۔ [صحیح بخاری: باب جہر الامام بالتامین]
➋ احناف میں سے علامہ عبدالحی لکھنوی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ: «قد ثبت الجهر من رسول صلى الله عليه وسلم باسانيد متعددة تقوى بعضها بعضا»
اونچی آمین کہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد اسناد سے ثابت ہے جو ایک دوسری کو تقویت دیتی ہیں۔ ابن ہمام رحمہ اللہ نے فتح القدیر میں اور ان کے شاگرد ابن امیر الحاج رحمہ اللہ نے حلیۃ المصلی میں بھی بلند آواز میں آمین کہنے کو درست گردانا ہے۔ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ نے غنیہ الطالبین میں اونچی آمین اور رفع الیدین کو مدلل بیان کیا ہے۔
➌ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ تم چونکہ فرشتوں کی آمین نہیں سنتے لہذا تم بھی آہستہ کہو گے تو موافقت ہوگی جبکہ یہ بے مقصد بات ہے۔ مقصود آمین کا بآواز بلند کہنا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا عہد صحابہ رضی اللہ عنہم میں آمین سے مسجد گونج اٹھی تھی۔
➍ فرشتوں کی آواز آئے گی تو ہم آمین کہیں گے یہ بعینہ مشرکین مکہ جیسا مطالبہ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا﴾ [الاسراء: 92]
یا اللہ کو اور فرشتوں کو سامنے لے آ۔
﴿یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓىٕكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَىٕذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ﴾ [الفرقان: 22]
جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن مجرموں کے لیے کوئی بشارت نہیں ہوگی۔
﴿قُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓىٕكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَىٕنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا﴾ [الاسراء: 95]
کہہ دیجیے: اگر زمین میں فرشتے ہوتے جو یہاں مطمئن ہو کر چلتے پھرتے تو ہم ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ ہی رسول بنا کر نازل کرتے۔
➎ متبع سنت کو عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عمل صحابہ رضی اللہ عنہم ہی کافی ہے اور جس نے عناد کرنا ہے وہ فرشتوں کی آواز سن کر بھی نہیں کرے گا جیسا کہ مشرکین کی عادات قرآن مجید نے بیان کیں۔
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق
➏ اگر امام کی آمین سنائی نہ دے پھر بھی مقتدی کو آمین کہنی چاہیے۔ جیسا کہ حدیث بالا سے واضح ہے۔
➐ بعض روایات میں آمین پر «رب اغفر لي آمين» کا اضافہ درست نہیں یہ اضافہ سنداً ضعیف ہے۔ بھلا اس سے بڑا عاشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون ہو گا جو ایسے اضافے جو احادیث میں تو ہیں لیکن سنداً ضعیف ہیں ان کو مسترد کر دیتا ہے کہ ان کی سند میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچتی، میں کسی بے سند بات کو اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کر سکتا ایسا عقیدہ رکھنے والا ہی صحیح عاشق۔
➑ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہودی تم سے کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا سلام کہنے اور آمین پر تم سے حسد کرتے ہیں۔ کیونکہ خود وہ اس نیکی سے محروم ہیں وہ چاہتے ہیں باقی بھی کوئی نہ کہے، یہاں سلام سے مراد ملاقات کے وقت جو السلام علیکم ہے جو ایک دوسرے کو ملاقات کے وقت مسلمان کہتے ہیں اور اونچی آمین اسلام کا شعار ہے۔ جیسے رفع الیدین اور سورۃ فاتحہ اسلام کے شعائر ہیں۔ [سنن ابن ماجہ: 856]
➋ احناف میں سے علامہ عبدالحی لکھنوی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ: «قد ثبت الجهر من رسول صلى الله عليه وسلم باسانيد متعددة تقوى بعضها بعضا»
اونچی آمین کہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد اسناد سے ثابت ہے جو ایک دوسری کو تقویت دیتی ہیں۔ ابن ہمام رحمہ اللہ نے فتح القدیر میں اور ان کے شاگرد ابن امیر الحاج رحمہ اللہ نے حلیۃ المصلی میں بھی بلند آواز میں آمین کہنے کو درست گردانا ہے۔ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ نے غنیہ الطالبین میں اونچی آمین اور رفع الیدین کو مدلل بیان کیا ہے۔
➌ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ تم چونکہ فرشتوں کی آمین نہیں سنتے لہذا تم بھی آہستہ کہو گے تو موافقت ہوگی جبکہ یہ بے مقصد بات ہے۔ مقصود آمین کا بآواز بلند کہنا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا عہد صحابہ رضی اللہ عنہم میں آمین سے مسجد گونج اٹھی تھی۔
➍ فرشتوں کی آواز آئے گی تو ہم آمین کہیں گے یہ بعینہ مشرکین مکہ جیسا مطالبہ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا﴾ [الاسراء: 92]
یا اللہ کو اور فرشتوں کو سامنے لے آ۔
﴿یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓىٕكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَىٕذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ﴾ [الفرقان: 22]
جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن مجرموں کے لیے کوئی بشارت نہیں ہوگی۔
﴿قُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓىٕكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَىٕنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا﴾ [الاسراء: 95]
کہہ دیجیے: اگر زمین میں فرشتے ہوتے جو یہاں مطمئن ہو کر چلتے پھرتے تو ہم ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ ہی رسول بنا کر نازل کرتے۔
➎ متبع سنت کو عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عمل صحابہ رضی اللہ عنہم ہی کافی ہے اور جس نے عناد کرنا ہے وہ فرشتوں کی آواز سن کر بھی نہیں کرے گا جیسا کہ مشرکین کی عادات قرآن مجید نے بیان کیں۔
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق
➏ اگر امام کی آمین سنائی نہ دے پھر بھی مقتدی کو آمین کہنی چاہیے۔ جیسا کہ حدیث بالا سے واضح ہے۔
➐ بعض روایات میں آمین پر «رب اغفر لي آمين» کا اضافہ درست نہیں یہ اضافہ سنداً ضعیف ہے۔ بھلا اس سے بڑا عاشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون ہو گا جو ایسے اضافے جو احادیث میں تو ہیں لیکن سنداً ضعیف ہیں ان کو مسترد کر دیتا ہے کہ ان کی سند میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچتی، میں کسی بے سند بات کو اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کر سکتا ایسا عقیدہ رکھنے والا ہی صحیح عاشق۔
➑ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہودی تم سے کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا سلام کہنے اور آمین پر تم سے حسد کرتے ہیں۔ کیونکہ خود وہ اس نیکی سے محروم ہیں وہ چاہتے ہیں باقی بھی کوئی نہ کہے، یہاں سلام سے مراد ملاقات کے وقت جو السلام علیکم ہے جو ایک دوسرے کو ملاقات کے وقت مسلمان کہتے ہیں اور اونچی آمین اسلام کا شعار ہے۔ جیسے رفع الیدین اور سورۃ فاتحہ اسلام کے شعائر ہیں۔ [سنن ابن ماجہ: 856]