حدیث نمبر: 16
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ جَاءَ , وَمَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ يَخْطُبُ , فَقَامَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ , فَجَاءَ إِلَيْهِ الْحَرَسُ لِيُجْلِسُوهُ , فَأَبَى أَنْ يَجْلِسَ حَتَّى صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ , فَلَمَّا قَضَيْنَا الصَّلاةَ أَتَيْنَاهُ , فَقُلْنَا لَهُ : يَا أَبَا سَعِيدٍ , كَادَ هَؤُلاءِ أَنْ يَقَعُوا بِكَ , فَقَالَ : مَا كُنْتُ لأَدَعَهُمَا لِشَيْءٍ بَعْدَ شَيْءٍ رَأَيْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ رَجُلٌ وَهُوَ يَخْطُبُ , فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ , فَقَالَ : " أَصَلَّيْتَ ؟ " قَالَ : لا , قَالَ : " فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ " , قَالَ : ثُمَّ حَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ , فَأَلْقَوْا ثِيَابًا , فَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ فِيهَا ثَوْبَيْنِ , فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الأُخْرَى جَاءَ الرَّجُلُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَصَلَّيْتَ ؟ " قَالَ : لا , قَالَ : " فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ " , قَالَ : ثُمَّ حَثَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ , فَطَرَحَ أَحَدَ ثَوْبَيْهِ , فَصَاحَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ : " خُذْهُ " , فَأَخَذَهُ , ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْظُرُوا إِلَى هَذَا ! جَاءَ تِلْكَ الْجُمُعَةَ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ , فَأَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ , فَطَرَحُوا ثِيَابًا , فَأَعْطَيْتُهُ مِنْهَا ثَوْبَيْنِ , فَلَمَّا جَاءَتْ هَذِهِ الْجُمُعَةُ أَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ , فَجَاءَ فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ " .
نوید مجید طیب

عیاض بن عبد اللہ بن ابی سرح رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے سیدنا ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ کو دیکھا بروز جمعہ مسجد میں آئے مروان بن الحکم رحمہ اللہ خطبہ دے رہے تھے تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ دو رکعت نماز پڑھنے کھڑے ہوئے پہرے دار ان کو بٹھانے آیا کہ گورنر کا خطبہ سنو لیکن سیدنا ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ نے بیٹھنے سے انکار کیا اور دو رکعت مکمل کیں جب نماز جمعہ ختم ہو گئی ہم سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ہم نے کہا: اے ابو سعید رضی اللہ عنہ یہ تو آپ سے ہاتھا پائی کرنے والے تھے سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو یہ دو رکعتیں کسی صورت چھوڑنے والا نہیں تھا جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے ایک آدمی پراگندہ حالت میں مسجد میں آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے پوچھا: کیا تو نے نماز دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھی ؟ اس نے کہا: نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ دو رکعت پڑھ پھر بیٹھ ، سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دلائی لوگوں نے کپڑے صدقہ کیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو دو کپڑے اس صدقہ میں سے دیئے پھر اگلے جمعہ وہی آدمی آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو نے نماز دو رکعت پڑھ لی ؟ اس نے کہا: نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دو رکعت پڑھ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ کی خطبہ میں ترغیب دینے لگے تو اسی آدمی نے اپنا ایک کپڑا سب سے پہلے پھینکا یعنی ایک چادر صدقہ کرنے کی غرض سے پھینک دی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو سختی سے کہا: اپنی چادر واپس اٹھاؤ تو اس نے اٹھالی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کو دیکھو پچھلے جمعہ کو پراگندہ حالت میں آیا تھا میں نے لوگوں کو کہا: صدقہ کرو لوگوں نے کپڑے صدقہ کیے تھے جس سے میں نے اسے دو کپڑے دیئے تھے اور آج صدقہ کا حکم دیا تو اس نے اپنی ایک چادر واپس صدقہ میں پھینک دی۔

حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة في السفر / حدیث: 16
تخریج حدیث سنن ابی داؤد ،الزكاة، باب الرجل يخرج من ماله، رقم : 1675 وقال الالبانی حسن مختصرا سنن ترمذی، الجمعة، باب الركعتين اذا جاء الرجل والامام يخطب، رقم : 511 وقال الالبانی حسن صحیح بدون ذكر الصدقة، سنن نسائی، الجمعة، باب حث الامام على الصدقة يوم الجمعة في خطبته ، رقم : 1408 وقال الالبانی حسن من غير ذكر الصلاة، سنن ابن ماجة، الصلاة، باب ماجاء فيمن دخل المسجد والامام يخطب ، رقم: 1113 مختصراً۔