السنن المأثورة
باب ما جاء في الصلاة في السفر— سفر میں نماز کا بیان
باب ما جاء في الصلاة في السفر باب: سفر میں نماز کا بیان
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، وَمُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ , وَغَيْرُهُمَا قَالُوا : أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي عَمَّارٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهْ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : إِنَّمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة النساء آية 101 وَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ ! فَقَالَ عُمَرُ : عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ , فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ , فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ " .سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے جب تم سفر میں ہو تو تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں ، اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے۔ سورۃ النساء، آیت نمبر: 101 اب لوگ امن میں ہیں کسی دشمن کا خوف نہیں پھر قصر کیوں؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے بھی اسی بات پر تعجب کیا تھا جس پر تمہیں تعجب ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نماز قصر اللہ کی طرف سے تم پر صدقہ ہے لہذا تم اللہ کا صدقہ قبول کرو۔
➋ سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ نے سوچا اب سب مسلمان ہو گئے ہیں کسی جنگ کا خطرہ نہیں تو نماز ابھی بھی قصر ہے کیونکہ آیت قرآنی کہتی ہے سفر میں قصر اس صورت میں ہے جب تمہیں دشمن کا ڈر ہو اب دشمن تو رہا نہیں پھر قصر کیوں؟ تو اس کا جواب خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل گیا کہ آیت کے نزول کے وقت کفار کے حملے کا ڈر تھا اس لیے اس کا ذکر آیت میں آیا ہے وگر نہ یہ حکم تا قیامت باقی ہے۔
➌ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر فہم قرآن ممکن نہیں اور احادیث قرآنی آیات کی بہترین تفسیر ہیں۔
➍ سنت پر عمل کرنے سے سکون ملتا ہے اجر ملتا ہے سنت زندہ ہوتی ہے۔ امن سکون، سہولت، نت نئی ایجادات مسنون عمل کو ختم نہیں کرسکتیں۔
➎ سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے دن مسلمان ہوئے، غزوہ طائف،حنین اور تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شریک سفر رہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں بعض علاقوں کے گورنر بھی رہے۔ 43 ھ کے بعد وفات پائی۔