حدیث نمبر: 144
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ " . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : أُمِرَ النَّاسُ بِحُضُورِ الصَّلاةِ فِي الْجَمَاعَةِ لِفَضْلِ الْجَمَاعَةِ عَلَى الانْفِرَادِ وَرُخِّصَ فِي التَّخَلُّفِ عَنِ الْجَمَاعَةِ لِمَعْنًى وَذَلِكَ أَنْ يَحْضُرَ عَشَاءُ أَحَدِهِمْ وَتُقَامَ الصَّلاةُ أَوْ تُقَامَ الصَّلاةُ وَهُوَ يَحْتَاجُ إِلَى الْوُضُوءِ حَاجَةً حَاضِرَةً وَقَدْ نُهِيَ أَنْ يُصَلِّيَ وَهُوَ يُدَافِعُ الأَخْبَثَيْنِ الْغَائِطَ وَالْبَوْلَ وَلَوْ صَلَّى أَجْزَأَ عَنْهُ صَلاتُهُ وَلَكِنَّهُ مُرَخَّصٌ لَهُ لِلْعُذْرِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ وَمَحْبُوبٌ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ الصَّلاةَ لا شَاغِلَ لِقَلْبِهِ عَنْهَا وَلا مُعَجِّلَ لَهُ عَنْ إِكْمَالِهَا وَالأَغْلَبُ مِمَّا يَعْرِفُ النَّاسُ أَنَّهُ إِذَا دَخَلَهَا وَبِهِ حَاجَةٌ إِلَى تَعْجِيلِ قَضَاءِ الْحَاجَةِ كَادَ أَنْ يَجْمَعَ أَمْرَيْنِ الْعَجَلَةَ عَنِ الإِكْمَالِ وَالشُّغُلَ عَنِ الإِقْبَالِ وَقَدْ يُخَافُ هَذَا عَلَى مَنْ حَضَرَ عَشَاؤُهُ لِحَاجَةِ النَّاسِ إِلَى الْمَطْعَمِ وَتَوَقَانِ أَنْفُسِهِمْ إِلَيْهِ وَلاسِيَّمَا أَهْلِ الصَّوْمِ وَالْحَاجَةِ إِلَى الْمَأْكَلِ . ═════ متابعت ═════ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ وَأَحَدُكُمْ صَائِمٌ فَلْيَبْدَأْ بِالْعَشَاءِ قَبْلَ صَلاةِ الْمَغْرِبِ وَلا تَعْجَلُوا عَنْ عَشَائِكُمْ " . ═════ متابعت ═════ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، ح وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، أَخْبَرَهُ قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قُرِّبَ الْعَشَاءُ وَحَضَرَتِ الصَّلاةُ فَابْدَءُوا بِهِ قَبْلَ أَنْ تُصَلُّوا الْمَغْرِبَ " .
نوید مجید طیب

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”جب رات کا کھانا لگ جائے اور نماز عشاء کی اقامت ہو جائے تو پہلے رات کا کھانا کھا لو۔“ ابو جعفر کہتے ہیں: محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کو باجماعت نماز کا حکم اکیلے پڑھنے سے فضیلت کے باعث دیا گیا ہے اور جماعت سے پیچھے رہنے کی رخصت بھی خاص وجہ سے دی گئی ہے۔ (جس کا ذکر آگے ہے) اور یہ کہ رات کا کھانا آ جائے نماز کھڑی ہو جائے (تو رخصت ہے) یا وضو کی ضرورت ہو جیسے پیشاب آیا ہوا ہو تو اس حالت میں نماز پڑھنا منع ہے لیکن اگر ان حالات میں نماز پڑھ لیتا ہے تو نماز تو ہو جائے گی لیکن عذر کی وجہ سے رخصت دی گئی ہے۔ پسندیدہ بات یہ ہے کہ نماز اس حالت میں پڑھے جب کوئی ٹینشن نہ ہو نہ دل کہیں اور مشغول ہو اور نہ جلدی برتی جائے بلکہ (اکمل طریقے سے پرسکون نماز ادا کی جائے) عام طور پر معلوم بات ہے کہ لوگ جب ٹینشن کی حالت میں نماز پڑھتے ہیں تو پھر نماز عجلت سے پڑھتے ہیں اور دل دماغ بھی کہیں اور ہوتا ہے۔ یہی حالت ہوتی ہے اس کی جو کھانا چھوڑ کر آیا ہوتا ہے خصوصاً روزہ دار جو سارے دن کا بھوکا ہوتا ہے اسے شدید حاجت ہے کھانے کی (یعنی یہ تمام چیزیں نماز سے توجہ ہٹاتی ہیں جبکہ نماز اطمینان اور توجہ کا نام ہے)۔

وضاحت:
➊ نماز سکون کا نام ہے، نماز میں اطمینان، سکون، حضور قلب اور خشوع وخضوع مطلوب ہے اس لیے ہر قسم کی پریشانی سے آزاد ہو کر اللہ باری تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونا چاہیے۔ اگر شدید بھوک نہیں، شوقیہ پیٹ پوجا ہو رہی ہے تو پہلے نماز پڑھنی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ گوشت کھا رہے تھے کہ نماز کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چھری رکھ کر نماز کے لیے چل دیئے۔ [صحیح البخاری: 208]
➋ بعض نے اس حدیث سے صرف نماز مغرب مراد لی ہے اور یہ حکم صرف روزے دار کے لیے خاص سمجھا ہے لیکن راجح یہ ہے کہ ٹینشن اور عدم سکون کی علت جہاں بھی پائی جائے گی وہاں یہی حکم ہو گا چاہے دوپہر کا کھانا ہو، کیونکہ شریعت کی منشا رفع الحرج اور دفع المشقہ بھی ہے کہ دوبارہ کون کھانا گرم کرے۔ دین اسلام نے انسانی فطرت کا بھی لحاظ رکھا ہے۔ ثانیاً: جب مغرب میں اجازت ہے، جس نماز کا وقت دوسری نمازوں کی نسبت بہت کم ہے، تو دوسری نمازوں میں بھی بالاولیٰ یہی حکم ہو گا۔ واللہ اعلم!
➌ اس رخصت کے باوجود مسلمانوں کو چاہیے کہ دعوتیں نماز کے اوقات سامنے رکھ کر کیا کریں، کھانا لگایا ہی «بعد الصلاة» کریں، کسی بھی رخصت کو دائمی حکم بنا لینا درست نہیں خصوصاً جب ہمارے معاشرے میں کھانے کے بعد گپ شپ کا عام رواج ہے، بعد میں کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ جماعت تو ہو گئی ہے ابھی ٹھهر کر پڑھ لیں گے، اس لیے اس کا حل یہی ہے کہ دعوتیں نماز کے بعد رکھی جائیں۔ رمضان المبارک میں نماز مغرب کی جماعت کچھ دیر بعد کھڑی کرنی چاہیے تاکہ روزے دار بقدر ضرورت کچھ کھا پی لیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الأذان / حدیث: 144
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاطعمة، باب اذا حضر العشاء فلا يعجل عن عشائه، رقم: 5465؛ صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب كراهة الصلاة بحضرة ... الخ، رقم: 557