السنن المأثورة
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة— سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة باب: سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 134
أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ ، فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَفْتَتْهُ فِيهِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَتْ ذَلِكَ بِالْحَيْضَةِ ، وَإِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ ، فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي " ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلاةٍ ، وَكَانَتْ تَجْلِسُ فِي مِرْكَنٍ فَيَعْلُو الْمَاءَ حُمْرَةُ الدَّمِ ، ثُمَّ تَخْرُجُ وَتُصَلِّي .نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بنت جحش سات سال سے استحاضہ کی مریضہ تھیں تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا آپ ﷺ نے فتویٰ دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ حیض کا خون نہیں یہ رگ کا خون ہے غسل کرو اور نماز پڑھو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پھر وہ ہر نماز کے لیے غسل فرماتی تھیں وہ ایک ٹپ میں بیٹھتیں تو خون کی سرخی پانی کے اوپر چڑھ آتی پھر نکل کر نماز ادا کرتیں۔