حدیث نمبر: 129
وَأَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ " .
نوید مجید طیب

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”(اگر امام بھول جائے) تو مردوں کے لیے سبحان اللہ کہنا ہے اور عورتوں کے لیے تالی بجانا ہے۔“

وضاحت:
➊ امام اگر نماز میں بھول جائے مثلاً تشہد میں نہیں بیٹھنا تھا، بھول کر بیٹھ گیا وغیرہ تو مرد مقتدی «سبحان الله» کہے گا اور اگر مردوں میں سے کوئی بھی متنبہ نہیں ہوا تو عورت اپنی ہتھیلی دوسرے ہاتھ کی پشت پر مارے گی تاکہ امام کو پتا چلے کہ بھول گیا ہوں۔ ➋ اس حدیث کا پس منظر ہے جس کی تفصیل حدیث نمبر 130، 131 میں بیان ہوئی ہے۔
➌ اگر امام قراءت بھول جائے اور پیچھے مرد مقتدیوں میں سے کسی کو قرآن یاد نہ ہو لیکن عورت کو یاد ہو تو وہ بول کر لقمہ دے گی، بوقت ضرورت خاموش رہنا جائز نہیں۔ واللہ اعلم۔
➍ نسیان بنی آدم کی فطرت میں ہے لہٰذا یہ کوئی معیوب بات نہیں۔
➎ دوران نماز مقتدیوں کو یکسوئی کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تاکہ امام کے بھول جانے پر اسے فوراً متنبہ کر سکیں۔
➏ عورت کو مردوں کی موجودگی میں حتی الوسع بولنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 129
تخریج حدیث صحیح بخاری، الصلاة، باب التصفيق للنساء، رقم: 1203، صحیح مسلم، الصلاة، باب تسبيح الرجل وتصفيق المرأة، رقم: 422