حدیث نمبر: 128
َنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَمِّهِ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ ، يُحَدِّثُ مِثْلَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
نوید مجید طیب

عیسیٰ بن طلحہ رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم ﷺ سے یہی روایت بیان کرتے سنا۔

وضاحت:
➊ اذان کا جواب دیتے ہوئے جیسے جیسے کلمات مؤذن کہتا ہے اسی طرح کہا جائے گا، البتہ «حي على الصلاة» اور «حي على الفلاح» کی جگہ «لا حول ولا قوة الا بالله» پڑھا جائے گا۔
➋ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے منبر پر بیٹھ کر اذان کا جواب دیا پھر خطبہ میں یہ حدیث بیان کی۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس سے استدلال کیا ہے کہ منبر پر بیٹھ کر بھی اذان کا جواب دیا جا سکتا ہے۔
➌ مزید مسائل اور فوائد کے لیے دیکھئے [شرح حدیث نمبر: 39]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 128
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاذان، باب ما يقول اذا سمع المنادى، رقم: 612