السنن المأثورة
باب ما جاء في الصلاة في السفر— سفر میں نماز کا بیان
باب ما جاء في الصلاة في السفر باب: سفر میں نماز کا بیان
أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ : مَرَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ بِمَجْلِسِنَا , فَقَامَ إِلَيْهِ فَتًى مِنَ الْقَوْمِ , فَسَأَلَهُ عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَزْوِ وَالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ , فَجَاءَ فَوَقَفَ عَلَيْنَا , فَقَالَ : إِنَّ هَذَا سَأَلَنِي عَنْ أَمْرٍ , فَأَرَدْتُ أَنْ تَسْمَعُوهُ , أَوْ كَمَا قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمْ يُصَلِّ إِلا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ , وَحَجَجْتُ مَعَهُ , فَلَمْ يُصَلِّ إِلا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ , وَشَهِدْتُ مَعَهُ الْفَتْحَ , فَأَقَامَ بِمَكَّةَ ثَمَانِ عَشْرَةَ لَيْلَةً , لا يُصَلِّي إِلا رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ يَقُولُ لأَهْلِ الْبَلَدِ : " صَلُّوا أَرْبَعًا , فَإِنَّا سَفْرٌ " , وَاعْتَمَرْتُ مَعَهُ ثَلاثَ عُمَرٍ لا يُصَلِّي إِلا رَكْعَتَيْنِ وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ , وَغَزَوْتُ , فَلَمْ يُصَلِّ إِلا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ , وَحَجَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حَجَّاتٍ , فَلَمْ يُصَلِّ إِلا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ , وَحَجَّ عُثْمَانُ سَبْعَ سِنِينَ مِنْ إِمَارَتِهِ لا يُصَلِّي إِلا رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ صَلاهَا بِمِنًى أَرْبَعًا .ابونصرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا گزر ہماری مجلس سے ہوا تو قوم کا ایک نوجوان کھڑا ہوا اور اُن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوات، حج، عمرہ میں کتنی رکعات پڑھتے تھے؟ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ آئے اور ہم میں کھڑے ہو کر فرمانے لگے اس نوجوان نے ایک اہم سوال کیا ہے میں چاہتا ہوں اس کا جواب تم بھی سنو یا اس طرح کا کوئی کلمہ کہا۔ فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوات میں دو دو رکعات ہی پڑھتے حتی کہ مدینہ واپس لوٹ آتے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج بھی کیا آپ دو دو ہی رکعات پڑھتے حتی کہ مدینہ واپس لوٹ آتے اور میں فتح مکہ کے موقع پر بھی شریک ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھارہ راتیں مکہ میں قیام کیا اس دوران دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے پھر اہل مکہ کو کہتے کہ تم چار رکعات مکمل پڑھ لو ہم مسافر ہیں۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمرہ و حج سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی کیا غزوات میں بھی شریک ہوا ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی دو رکعتیں ہی پڑھتے حتی کہ مدینہ واپس لوٹ آتے، میں نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی متعدد حج کیے۔ آپ بھی دو ہی رکعات پڑھتے حتی کہ مدینہ واپس آتے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں سات سال حج کیا وہ بھی دو ہی رکعتیں پڑھتے پھر منی میں چار رکعتیں پڑھی۔
➋ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ سفر میں نماز قصر اداء کی جائے گی یعنی جو نماز آدھی ہو سکتی ہے وہ آدھی دو رکعات پڑھی جائے گی فجر پہلے ہی دو رکعات ہے دو رکعات ہی پڑھی جائے گی۔ نماز مغرب کی تین رکعات فرض ہیں تو تین ہی پڑھیں گے ڈیڑھ رکعت یا دو رکعت نہیں ہوگی البتہ سفر میں فجر کی سنتوں اور نماز وتر کا اہتمام کرنا بھی مسنون ہے۔
➌ شریعت نے مقدار سفر مقرر نہیں کی بلکہ عرف عام پر چھوڑ دیا ہے، جس کو لگے کہ وہ سفر کر رہا ہے اپنی آبادی، بستی سے نکلتے ہی نماز قصر شروع ہو جائے گی حتیٰ کہ اقامت گاہ پر پہنچ جائے۔ دوران سفر دو رکعات ہی پڑھے گا۔
➍ انسان کی اقامت گاہ دو طرح کی ہوتی ہے: (1) اقامت مستقلہ ... جو آدمی کا اپنا گھر ہے جدھر ہمیشہ رہتا ہے۔ وہ اقامت مستقلہ ہے۔
(2) اقامت موقتہ ... جہاں عارضی طور پر رہائش پذیر ہے جیسے سرکاری ملازم، ہاسٹل میں طلبہ، کاروباری حضرات جو عارضی رہائش رکھے ہوئے ہیں، طلبہ عرب ممالک جاتے ہیں بطور علامت اقامت شناختی کارڈ حاصل کرتے ہیں جو اقامت موقتہ کی واضح دلیل ہوتی ہے۔ تو اس طرح کی دونوں اقامت گاہوں میں پوری نماز ادا کرنا ہو گی، بعض طلبہ سعودی عرب میں چار سال تعلیم کے لیے جاتے ہیں اس دوران قصر نماز ادا کرتے ہیں ان کا نظریہ یہ ہوتا ہے کہ جب تک سعودی نیشنلٹی نہیں دیتا ہم قصر پڑھیں گے ہم مسافر ہیں ایسا عمل ہمارے نزدیک درست نہیں کیونکہ اقامت موقتہ کے احکام اقامت مستقلہ کے ہی ہیں۔
➎ سفر کی مقدار مسافت کسی نے نو میل، کسی نے 84 کلومیٹر کسی نے ایک دن رات کی مسافت اور کسی نے تین دن تین رات کی مسافت مقرر کی ہے یہ علماء کرام کے اپنے اپنے استدلال اور اجتہاد ہیں اس طرح کی قید کے مسئلہ میں کوئی واضح نص موجود نہیں سفر چونکہ ایک جیسے نہیں ہوتے اس لیے شریعت کو متعین کرنے کی ضرورت تھی۔
➏ ایک مسافر کتنے دن تک نماز قصر کر سکتا ہے اس سلسلہ میں جو مختلف اقوال ہیں: جائے پڑاؤ کے بارے میں احتیاط کے پیش نظر بعض نے کہا ہے کہ اگر سفر کا علم ہو جائے کہ اتنے دن بعد سفر کروں گا تو صرف چار دن قصر کرے پھر پوری نماز پڑھے اور اگر صورت حال غیر یقینی ہو تو جائے پڑاؤ پر چاہے پورا سال قیام کرے نماز قصر ہی ادا کرے گا۔ راقم کے نزدیک یقینی و غیر یقینی صورت حال کی بھی کوئی نص نہیں محض احتیاط ہی ہے۔ ہاں شاید یہ علماء چار ایام کے بعد اقامت موقتہ تصور کر لیتے ہیں۔
➐ حج وعمرہ والے اگر نماز اکیلے پڑھیں تو نماز قصر کریں گے اگر مقامی امام کی اقتداء میں پڑھیں تو پوری پڑھنا ہوگی۔
➑ سفر میں عام نوافل کوئی پڑھنا چاہے تو اجازت ہے اور مسنون ہے۔
➒ سفر جہاد اور سفر حج و عمرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء عظام نے قصر نماز ہی اداء کی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی چند سال نماز قصر ہی سفر حج میں ادا فرماتے تھے پھر منی میں چار رکعات یعنی مقیم کی نماز پڑھائی، تو بعض صحابہ نے اس پر اعتراض بھی کیا۔
➓ دوران سفر مکمل نماز پڑھنا بھی جائز ہے جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دوران سفر نماز مکمل پڑھتی تھیں۔ [صحيح بخاري، رقم الحديث: 1090]
⓫ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی منی میں مکمل نماز سے متعلق علماء کرام نے مختلف توجیہات بیان کی ہیں، بعض کا کہنا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے چونکہ مکہ میں جائیداد بنالی تھی اس لیے وہ وہاں مکمل نماز پڑھتے تھے مولانا داؤد راز رحمہ اللہ لکھتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے منی میں پوری نماز پڑھی تو فرمایا: میں نے یہ اس لیے کیا کہ بہت سے عوام مسلمان جمع ہیں ایسا نہ ہو کہ وہ نماز کی دو رکعت ہی سمجھ لیں۔ [حواله كتاب الصلاة من صحيح البخاري، ترجمه و شرح مولانا داؤد راز رحمه الله]
⓬ بعض حضرات کہتے ہیں اس وقت اونٹ گدھے گھوڑے پر سفر تھا اب سفر کی جدید ترین اور تیز رفتار سہولیات میسر ہیں لہذا قصر کی کیا ضرورت ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ٹیکنالوجی سنت رسول کو ختم نہیں کر سکتی یہی بات سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کی کہ اب سفر پر امن ہو گئے ہیں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے یہی سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صدقة تصدق الله بها عليكم فاقبلوا صدقته» یہ نماز قصر صدقہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم پر کیا ہے، لہذا تم اللہ تعالیٰ کے صدقہ کو قبول کرو۔ [صحيح مسلم، رقم الحديث: 686]
⓭ بالا حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر کوئی اہم سوال ہو تو داعی، معلم کو دیگر لوگوں کو متوجہ کرانا چاہیے تاکہ سب لوگوں کو دین کا علم ہو جائے۔
⓮ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے اپنے جواب کے دلائل میں سنت رسول کے علاوہ خلفاء الراشدین کے عمل کا بھی تذکرہ فرمایا اور یہی عمل صالح کی معراج ہے کہ اس کے دلائل وحی سے ماخوذ ہوں اور اصحاب رسول اس پر عمل پیرا رہے ہوں۔
لوٹ جا عہد نبی کی سمت رفتار جہاں
پھر مری پسماندگی کو ارتقا در کار ہے