حدیث نمبر: 11
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، مِثْلَهُ , غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَكَانَ مَالِكٌ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الآخِرَةِ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى فَاسْتَوَى قَاعِدًا قَامَ وَاعْتَمَدَ عَلَى الأَرْضِ .
نوید مجید طیب

خالد الحذاء رحمہ اللہ کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ جب پہلی رکعت کے دوسرے سجدے سے سر اٹھاتے تو سیدھے بیٹھ جاتے کھڑے ہوتے ہوئے ہاتھ زمین پر ٹیکتے نہ کہ گھٹنے پکڑ کر کھڑے ہوتے۔

وضاحت:
➊ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری سالوں میں آپ کے پاس رہے قبیلے کے ہم عمر نوجوانوں کے ساتھ مدینہ طیبہ آئے، اور انہوں نے مدینہ میں بیس دن قیام فرمایا، دورانِ قیام انہوں نے دین کے بنیادی امور کی تعلیم پائی، نماز اور اس سے متعلقہ مسائل خوب سیکھے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: «صَلُّوْا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلَّى» تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا۔ اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور عملی طور پر لوگوں کو نماز نبوی کی تعلیم بھی ارشاد فرمائی۔ [صحيح بخاري، رقم الحديث: 631]
➌ بلا سبب و ضرورت محض تعلیم کے لیے نماز کی ادائیگی کرنا درست ہے۔
➍ وہی نماز عند اللہ مقبول و منظور ہے جو طریقہ نبوی سے مماثلت و مطابقت رکھتی ہوگی۔
➎ جلسہ استراحت مسنون عمل ہے۔
➏ جلسہ استراحت سے متعلق بعض الناس کا یہ تاویل پیش کرنا کہ اس کا تعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑھاپے سے ہے، لہذا اس پر عمل ضروری نہیں باطل ہے۔ سنت نبوی کا صدور کسی بھی صورت اور حالت میں ہوا ہو وہ قابل اتباع ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة في السفر / حدیث: 11
تخریج حدیث سنن الترمذى الصلاة، باب ماجاء كيف النهوض من السجود رقم 287 وقال حسن صحيح وقال الالباني: صحيح.