السنن المأثورة
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة— سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة باب: سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 119
وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " ، قَالَ : " وَشَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَتْ : يَا رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ فَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ مِنْ حَرِّهَا ، وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْبَرْدِ مِنْ زَمْهَرِيرِهَا " .نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ”جب گرمی شدت پکڑ جائے تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے۔“ اور فرمایا: ”جہنم نے رب سے شکایت کی کہنے لگی اے پروردگار! میرے بعض حصے نے دوسرے کو کھا لیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک سانس سردی میں لیتی ہے اور ایک گرمی میں، جو تم انتہائی گرمی اور انتہائی سردی محسوس کرتے ہو وہ اسی سے پیدا ہوتی ہے۔“