السنن المأثورة
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة— سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة باب: سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 118
وَأَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ ، قَالَ : " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَؤُمَّ النَّاسَ وَأَنْ أُقَدِّرَهُمْ بِأَضْعَفِهِمْ فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ وَالسَّقِيمَ وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ " .نوید مجید طیب
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں لوگوں کو امامت کراؤں تو ان کے کمزوروں کا خیال رکھوں کیونکہ ان میں بوڑھے، بیمار، کمزور اور حاجت مند ہوتے ہیں۔
وضاحت:
➊ لوگوں کو جماعت کراتے ہوئے ہلکی اور کامل یعنی رکوع و سجود اطمینان سے لیکن قرأت کم چھوٹی سورتیں پڑھ کر جماعت کرائی جائے، اور جب آدمی اکیلا پڑھے تو جتنا مرضی لمبا قیام کرے آج کل کے ائمہ چونکہ آوازوں کے سُر لگانے پر ہی اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہیں اس لیے لوگوں کو تو خوب لمبی نماز پڑھاتے ہیں تاکہ لوگ زیادہ سنیں اور جب اکیلے پڑھتے ہیں تو تلاوت قرآن کے سارے فضائل بھول کر سورہ اخلاص پر اکتفا کرتے ہیں جو کہ قابل ملامت ہے۔ سختی لوگوں پر نہیں اپنے ڈھانچے پر کریں بعض دفعہ لوگوں کی تربیت کی نسبت اپنی تربیت زیادہ ضروری ہوتی ہے۔
➋ ان احادیث سے امام بخاری رحمہ اللہ نے چند مسائل استنباط کیے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں: (الف) امام کو چاہیے قیام ہلکا کرے لیکن رکوع و سجود میں اتمام ہو۔
(ب) استاد شاگردوں کی جب کوئی ناگوار بات دیکھے تو وعظ کرے۔
(ج) استاد تعلیم دیتے وقت شاگردوں پر خفا ہو سکتا ہے۔
(د) جب اکیلا نماز پڑھے تو قرآت و قیام طویل کر سکتا ہے۔
(ذ) امام سے طوالت کی شکایت کی جا سکتی ہے۔ کچھ تخفیف کریں بہت لمبی نماز پڑھاتے ہیں۔ یہ امام بخاری رحمہ اللہ کی فقاہت ہے جس کا مقابلہ فرضی مسائل سے نہیں کیا جا سکتا ہے۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ اس بات کی دلیل ہے کہ اماموں کو مقتدیوں کا خیال رکھنا چاہیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دورانِ امامت عورتوں کا بھی خیال رکھتے بچہ روتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ہلکی کر دیتے کہ اس کی ماں تکلیف محسوس نہ کرے۔ [البخاری: 708]
➋ ان احادیث سے امام بخاری رحمہ اللہ نے چند مسائل استنباط کیے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں: (الف) امام کو چاہیے قیام ہلکا کرے لیکن رکوع و سجود میں اتمام ہو۔
(ب) استاد شاگردوں کی جب کوئی ناگوار بات دیکھے تو وعظ کرے۔
(ج) استاد تعلیم دیتے وقت شاگردوں پر خفا ہو سکتا ہے۔
(د) جب اکیلا نماز پڑھے تو قرآت و قیام طویل کر سکتا ہے۔
(ذ) امام سے طوالت کی شکایت کی جا سکتی ہے۔ کچھ تخفیف کریں بہت لمبی نماز پڑھاتے ہیں۔ یہ امام بخاری رحمہ اللہ کی فقاہت ہے جس کا مقابلہ فرضی مسائل سے نہیں کیا جا سکتا ہے۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ اس بات کی دلیل ہے کہ اماموں کو مقتدیوں کا خیال رکھنا چاہیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دورانِ امامت عورتوں کا بھی خیال رکھتے بچہ روتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ہلکی کر دیتے کہ اس کی ماں تکلیف محسوس نہ کرے۔ [البخاری: 708]