حدیث نمبر: 114
وَأَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لأَتَخَلَّفُ عَنْ صَلاةِ الصُّبْحِ مِمَّا يُطَوِّلُ بِنَا فُلانٌ ، فَقَالَ : فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضِبَ فِي مَوْعِظَةٍ قَطُّ غَضَبَهُ يَوْمَئِذٍ ، فَقَالَ : " إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ فَأَيُّكُمْ أَمَّ النَّاسَ فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ وَالسَّقِيمَ وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ " .
نوید مجید طیب

سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! فلاں امام صاحب لمبی نماز پڑھاتے ہیں اس لیے میں نماز سے پیچھے رہتا ہوں۔ ابو مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نصیحت کے وقت اس دن سے زیادہ کبھی غضب ناک نہیں دیکھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک تم میں سے بعض لوگوں کو دین سے متنفر کرنا چاہتے ہیں، یقیناً تم میں سے بعض لوگوں کو دین سے متنفر کرنا چاہتے ہیں۔ تم میں سے جو کوئی امامت کرائے اسے چاہیے کہ ہلکی نماز پڑھائے بے شک مقتدیوں میں بڑی عمر کے، بیمار، کمزور اور ضروری کام کاج والے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں۔“ (سب کا لحاظ رکھنا چاہیے)

حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 114
تخریج حدیث صحیح مسلم، الصلاة، باب امر الائمة بتخفيف الصلاة في تمام ، رقم : 466۔