حدیث نمبر: 113
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ : إِذَا قَعَدْتَ عَلَى حَاجَتِكَ فَلا تَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلا بَيْتَ الْمَقْدِسِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَقَدِ ارْتَقَيْتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَنَا فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلا بَيْتَ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ ، وَقَالَ : " لَعَلَّكَ مِنَ الَّذِينَ يُصَلُّونَ عَلَى أَوْرَاكِهِمْ ؟ " قُلْتُ : لا أَدْرِي وَاللَّهِ ، يَعْنِي الَّذِي يَسْجُدُ وَلا يَرْتَفِعُ عَنِ الأَرْضِ يَسْجُدُ وَهُوَ لاصِقٌ بِالأَرْضِ . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ , قَالَ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَلَيْسَ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ مُخَالِفًا عِنْدَنَا حَدِيثَ أَبِي أَيُّوبَ ، فَيُكْرَهُ لِلَّذِي فِي الصَّحْرَاءِ اسْتِقْبَالُ الْقِبْلَةِ وَاسْتِدْبَارُهَا ؛ لأَنَّهُ لا مُؤْنَةَ عَلَيْهِ فِي تَرْكِ الاسْتِقْبَالِ وَالاسْتِدْبَارِ وَلا مِرْفَقَ لَهُ فِيهِمَا وَإِذَا بُنِيَتِ الْكُنُفُ فِي الْمَنَازِلِ تَوَضَّأَ فِيهَا كَمَا أَمْكَنَهُ لِلْمِرْفَقِ وَقَدْ كَتَبْتُ هَذَا بِتَفْسِيرِهِ فِي غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ .
نوید مجید طیب

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، بے شک لوگ کہتے ہیں قضائے حاجت کے وقت قبلہ یا بیت المقدس کی طرف منہ نہ کرو اور عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو رسول اللہ ﷺ کو دو اینٹوں پر بیٹھے (قضائے حاجت کرتے) دیکھا، آپ ﷺ کا رخ بیت المقدس کی طرف تھا (یعنی پیٹھ بیت اللہ کی طرف تھی)۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے شاگرد واسع رحمہ اللہ کو کہا: شاید تو ان لوگوں میں سے ہے جو اپنے چوتڑوں پر نماز پڑھتے ہیں؟ واسع رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے کہا کہ میں نہیں جانتا اللہ کی قسم کہ آپ کی کیا مراد ہے؟ (امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے وہ شخص مراد لیا جو نماز میں زمین سے بلند نہیں ہوتا اور سجدہ میں زمین سے چمٹ جائے جو کہ غلط اور خلاف سنت عمل ہے)۔ ابو جعفر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے مزنی رحمہ اللہ سے سنا وہ فرما رہے تھے۔ کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما والی حدیث اور حدیث ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ میں تضاد نہیں ہے کھلی فضا میں استقبال استدبار مکروہ ہے کیونکہ اس حدیث پر صحرا میں عمل کرنے میں کوئی مشقت نہیں لہذا کوئی نرمی نہیں اور گھروں میں لیٹرینوں میں جیسے ممکن ہو سکے گا عمل کرے گا امام صاحب رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے اس حدیث کو وضاحت کے ساتھ کسی دوسری جگہ بیان کیا ہے۔

وضاحت:
➊ وہ احادیث جن میں قبلہ رو ہو کر قضائے حاجت کی ممانعت کا حکم ہے اور جن احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے متعلق ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی ان کی بہترین تطبیق کر دی گئی ہے کہ ممانعت کا تعلق صحرا اور کھلی فضا کے ساتھ ہے۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے متعلق مروی ہے کہ انہوں نے سواری قبلہ رُخ بٹھائی پھر اس کی طرف منہ کر کے پیشاب کرنے لگے مروان بن اصفر رحمہ اللہ نے کہا اے ابو عبد الرحمن یہ تو منع ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کھلی فضا میں اس سے روکا گیا ہے مگر جب تمہارے اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز حائل ہو تو کوئی حرج نہیں۔ [ابوداؤد: 11]
راجح بات یہی ہے کہ لیٹرین میں بھی قبلہ رخ نہیں ہونا چاہیے اگرچہ درمیان میں کوئی چیز حائل ہو کیونکہ ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ جو عمر میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بڑے ہیں انہوں نے اسے درست نہیں جانا اور پھر اگر قول اور فعل میں تعارض آ جائے تو فقہی قاعدہ ہے کہ قول حجت ہوگا کیونکہ فعل خاص بھی ہو سکتا ہے یا کوئی اور وجہ ہو سکتی ہے جیسے یہ فعل ممانعت سے پہلے کا ہو سکتا ہے یا بامر مجبوری ہو سکتا ہے یا قضاء حاجت سے فارغ ہو کر بیٹھے ہوں اس لیے قول مقدم ہے۔
➋ پیشاب کرتے وقت بیت اللہ کی طرف منہ کرنا یا پیٹھ کرنا منع ہے گزشتہ احادیث میں اسی مسئلے کو بیان کیا گیا ہے۔
➌ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اتفاقاً اپنی بہن حفصہ رضی اللہ عنہا کے مکان کی چھت پر چڑھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نظر پڑ گئی۔
➍ مشرق و مغرب کی طرف رخ کرنے کا مطلب ہے رفع حاجت کے وقت اپنا منہ یا پشت قبلہ رخ کرے، یہ حکم اہل مدینہ کے لیے خاص تھا کیونکہ ان کا قبلہ جنوب کی طرف ہے۔
➎ کتاب وسنت کے منافی امور پر اظہارِ ناراضگی ایمان کی علامت ہے۔
➏ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر فرمان پر عمل پیرا ہوتے اور اس کی مخالفت کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔
➐ گھروں میں بیت الخلاء لیٹرین بنانا درست ہے۔
➑ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی چھت پر چڑھے تھے جس کو انہوں نے اپنا گھر کہا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 113
تخریج حدیث صحیح بخاری، الوضوء، باب من تبرز علی لبنتین، رقم : 145، صحیح مسلم ،الطهارة، باب الاستطابة، رقم : 266۔