السنن المأثورة
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة— سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة باب: سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 110
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا " . قَالَ : فَقَدِمْنَا الشَّامَ قَالَ : فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ قَدْ بُنِيَتْ قِبَلَ الْقِبْلَةِ فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ تَعَالَى .نوید مجید طیب
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ قضائے حاجت کے وقت قبلہ رخ ہوا جائے (اگر مدینہ میں ہوں تو) مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرنا چاہیے۔ راوی کہتے ہیں ہم شام گئے تو وہاں بیت الخلاء قبلہ رخ بنے ہوئے تھے تو ہم بیت الخلاء میں تھوڑے سے مڑ کر بیٹھتے اور باہر نکل کر استغفار کرتے۔