السنن المأثورة
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة— سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة باب: سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 109
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلاةِ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلاةَ " .نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے نماز کی ایک رکعت پالی اس نے نماز پالی۔“
وضاحت:
➊ ان احادیث سے مراد یہ ہے کہ اگر کسی عذر کے باعث سو گیا تھا یا کسی معقول وجہ سے لیٹ ہو گیا۔ آخری وقت میں نماز پڑھنے لگا نماز فجر کی ایک رکعت پڑھی تھی کہ سورج نکل آیا یا عصر کی ایک رکعت پڑھی سورج غروب ہو گیا تو بقیہ نماز پوری کرے اس نے نماز پالی ہے۔
➋ یہ دین کی آسانیاں ہیں لیکن جان بوجھ کر نماز لیٹ کرنا گناہ ہے اسی طرح اگر جماعت کے ساتھ ایک رکعت مل گئی تو جماعت کا ثواب مل گیا۔
➌ اہل رائے کے نزدیک نماز مغرب تو ہو جائے گی کیونکہ شروع بھی مکروہ وقت میں کی تھی اور ختم بھی مکروہ وقت میں ہوئی ہے جبکہ فجر نہیں ہوگی کیونکہ شروع صحیح وقت میں کی ہے اور ختم مکروہ وقت میں کی ہے۔ جبکہ ان کا یہ نظریہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تصادم کی بنا پر مردود ہے۔ یقیناً ایسے لوگوں کا طرز عمل اس فرمانِ الہی کا مصداق ہے: ﴿وَلَوْ أَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ أَنِ اقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ أَوِ اخْرُجُوا مِن دِيَارِكُمْ مَا فَعَلُوهُ إِلَّا قَلِيلٌ مِّنْهُمْ﴾ [النساء: 66]
"اگر ہم ان پر فرض کر دیتے کہ قتل کرو اور گھروں سے نکلو تو ایسے نہ کرتے مگر تھوڑے یعنی حکم ہوا قتل نہ کرو تو انہوں نے قتل کرنا شروع کر دیے اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ہم حکم دیتے قتل کرو تو پھر قتل سے باز آجاتے۔"
امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے آیت بالا کی تفسیر میں لکھا کہ ان کی ردی طبیعتوں میں نافرمانی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اور یہی حال ان عقل پرستوں کا ہے۔
➋ یہ دین کی آسانیاں ہیں لیکن جان بوجھ کر نماز لیٹ کرنا گناہ ہے اسی طرح اگر جماعت کے ساتھ ایک رکعت مل گئی تو جماعت کا ثواب مل گیا۔
➌ اہل رائے کے نزدیک نماز مغرب تو ہو جائے گی کیونکہ شروع بھی مکروہ وقت میں کی تھی اور ختم بھی مکروہ وقت میں ہوئی ہے جبکہ فجر نہیں ہوگی کیونکہ شروع صحیح وقت میں کی ہے اور ختم مکروہ وقت میں کی ہے۔ جبکہ ان کا یہ نظریہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تصادم کی بنا پر مردود ہے۔ یقیناً ایسے لوگوں کا طرز عمل اس فرمانِ الہی کا مصداق ہے: ﴿وَلَوْ أَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ أَنِ اقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ أَوِ اخْرُجُوا مِن دِيَارِكُمْ مَا فَعَلُوهُ إِلَّا قَلِيلٌ مِّنْهُمْ﴾ [النساء: 66]
"اگر ہم ان پر فرض کر دیتے کہ قتل کرو اور گھروں سے نکلو تو ایسے نہ کرتے مگر تھوڑے یعنی حکم ہوا قتل نہ کرو تو انہوں نے قتل کرنا شروع کر دیے اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ہم حکم دیتے قتل کرو تو پھر قتل سے باز آجاتے۔"
امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے آیت بالا کی تفسیر میں لکھا کہ ان کی ردی طبیعتوں میں نافرمانی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اور یہی حال ان عقل پرستوں کا ہے۔