کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: جب شوہر اور بیوی مہر کے بارے میں اختلاف کریں تو اس کا کیا حکم ہے۔
حدیث نمبر: 3290
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «إِذَا اخْتَلَفَ الزَّوْجُ وَالْمَرْأَةُ فِي الصَّدَاقِ، فَالْقَوْلُ قَوْلُ الزَّوْجِ مَعَ يَمِينِهِ، وَالْبَيِّنَةُ عَلَى الْمَرْأَةِ» قَالَ الشَّيْبَانِيُّ: وَنا حَمَّادٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «الْقَوْلُ قَوْلُهَا فِيمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ صَدَاقِ مِثْلِهَا» قَالَ هُشَيْمٌ: الْقَوْلُ مَا قَالَ الشَّعْبِيُّ
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا: ”اگر شوہر اور عورت مہر میں اختلاف کریں تو شوہر کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہو گی اور عورت پر گواہی لازم ہو گی۔“ شیبانی نے کہا: ”ابراہیم رحمہ اللہ کے قول کے مطابق عورت کی بات معتبر ہو گی اگر مہر مثل کے مطابق ہو۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3290
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»