حدیث نمبر: 3284
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا دَاوُدُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ حَيْثُ أَسْلَمَ بَعْدَ إِسْلَامِ زَيْنَبَ، فَرَدَّهَا عَلَيْهِ بِالنِّكَاحِ الْأَوَّلِ
مظاہر امیر خان
سیدنا رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم نے زینب رضی اللہ عنہا کو ابو العاص بن ربیع کے پاس پہلے نکاح پر واپس کر دیا جب اس نے اسلام قبول کر لیا۔
وضاحت:
فائدہ: ✅ 1. اسلام قبول کرنے سے نکاح فوراً نہیں ٹوٹتا: اگر عورت اسلام لائے اور شوہر بعد میں مسلمان ہو جائے اور عدت کے دوران یا بعد میں اسلام لائے تو نکاح کو باقی رکھا جا سکتا ہے، بشرطیکہ: زوجین کی رضامندی ہو عورت کی عدت نہ گزر چکی ہو (بعض فقہاء کے ہاں)
✅ 2. "بالنکاح الأول" کا مفہوم: نیا عقد نہیں کیا گیا پہلا عقد ہی قائم رکھا گیا گویا اسلام لانے سے نکاح منفسخ نہیں ہوا، بلکہ معلق رہا، اس روایت سے احناف اور اہلِ حدیث کے مؤقف کو تقویت ملتی ہے۔
✅ 2. "بالنکاح الأول" کا مفہوم: نیا عقد نہیں کیا گیا پہلا عقد ہی قائم رکھا گیا گویا اسلام لانے سے نکاح منفسخ نہیں ہوا، بلکہ معلق رہا، اس روایت سے احناف اور اہلِ حدیث کے مؤقف کو تقویت ملتی ہے۔
حدیث نمبر: 3285
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَحْتَ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ فَأَسْلَمَتْ قَبْلَهُ وَأُسِرَ، فَجِيءَ بِهِ أَسِيرًا فِي قَيْدٍ فَأَسْلَمَ «فَكَانَا عَلَى نِكَاحِهِمَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمرو بن دینار رحمہ اللہ نے کہا: ”زینب رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کیا اور ابو العاص قید ہو کر آیا اور اسلام لایا تو دونوں کا نکاح برقرار رہا۔“
وضاحت:
فائدہ: حدیث 2108 دراصل حدیث 2107 کی مؤید اور مزید واضح روایت ہے، جس میں سیدہ زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے شوہر ابو العاص بن الربیع کے اسلام قبول کرنے کے بعد نکاح کے برقرار رہنے کو بطور تاریخی و سیرتی واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ یہ روایت اسلامی فقہ میں اختلاف دین کی حالت میں نکاح کے احکام کا نہایت اہم استدلالی ذریعہ ہے۔
یہ روایت سنداً صحیح ہے، اور سیرتِ نبوی ﷺ پر مبنی واضح عملی مثال ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ: عورت اگر پہلے اسلام لائے اور شوہر بعد میں تو پہلا نکاح برقرار رہ سکتا ہے نیا نکاح یا مہر کی تجدید لازم نہیں، بشرطیکہ عورت دوسرے نکاح میں داخل نہ ہو۔
یہ روایت سنداً صحیح ہے، اور سیرتِ نبوی ﷺ پر مبنی واضح عملی مثال ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ: عورت اگر پہلے اسلام لائے اور شوہر بعد میں تو پہلا نکاح برقرار رہ سکتا ہے نیا نکاح یا مہر کی تجدید لازم نہیں، بشرطیکہ عورت دوسرے نکاح میں داخل نہ ہو۔
حدیث نمبر: 3286
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا حَجَّاجٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ زَيْنَبَ ابْنَتَهُ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بِنِكَاحٍ أَحْدَثَهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نے اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم نے زینب رضی اللہ عنہا کو ابو العاص بن ربیع کے پاس نئے نکاح کے ساتھ واپس کیا۔“
وضاحت:
وضاحت: اس روایت میں دو باتیں قابلِ غور ہیں: یہ پچھلی دو روایات (2107 و 2108) سے مخالفت رکھتی ہے: وہاں نکاح پہلا ہی باقی رکھا گیا یہاں نیا نکاح کرایا گیا بتایا گیا۔ یہ روایت سنداً ضعیف ہے (بسبب حجاج بن أرطاة) اور پہلے سے صحیح سند کے ساتھ ثابت روایات کے مخالف بھی ہے اس لیے اسے راجح نہیں مانا جائے گا
راجح یہی ہے کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو ابو العاص کے اسلام لانے کے بعد بغیر نئے نکاح کے واپس کیا — پہلے نکاح کو ہی بحال رکھا۔
راجح یہی ہے کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو ابو العاص کے اسلام لانے کے بعد بغیر نئے نکاح کے واپس کیا — پہلے نکاح کو ہی بحال رکھا۔
حدیث نمبر: 3287
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، نا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: «لَمَّا انْصَرَفَ السَّبْعُونَ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنَ الْعَقَبَةِ، وَقَدْ أَسْلَمُوا، فَلَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ دَعَوْا نِسَاءَهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَأَجَابُوهُمْ وَأَسْلَمْنَ، فَكَانُوا عَلَى نِكَاحِهِمُ الْأَوَّلِ»
مظاہر امیر خان
ابو حبیرہ انصاری رحمہ اللہ نے کہا: ”جب عقبہ کے ستر انصاری مسلمان ہو کر مدینہ لوٹے تو اپنی عورتوں کو اسلام کی دعوت دی، وہ ایمان لے آئیں اور نکاح سابقہ برقرار رہا۔“
وضاحت:
فائدہ: سند میں اشعث بن سوار اور ابو ہبیرہ کی وجہ سے ضعف موجود ہے لہٰذا یہ روایت سنداً ضعیف ہے مگر چونکہ یہ معروف اور متعدد صحیح روایات کی مؤید ہے، اس لیے قابل استشہاد ہے۔