أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، كَانَ يَقُولُ: «إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَفِي بَطْنِهَا وَلَدَانِ وَلَدَتْ أَحَدَهُمَا فَقَدِ انْقَضَتِ الْعِدَّةُ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب عورت کے بطن میں دو بچے ہوں اور ان میں سے ایک کو جنم دے دے تو اس کی عدت پوری ہو جاتی ہے۔“
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «لَهَا الرَّجْعَةُ مَا لَمْ تَضَعِ الْآخَرَ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا: ”عورت کا نکاح برقرار ہے جب تک دوسرا بچہ پیدا نہ ہو۔“
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: «هُوَ أَحَقُّ بِهَا مَا لَمْ تَضَعِ الْآخَرَ إِنَّمَا هُوَ كَالْحَيْضِ»، ثُمَّ قَالَ: «يَا أَبَا حُصَيْنٍ اجْعَلْهَا فِي التَّخْتِ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا: ”شوہر عورت کا زیادہ حق دار ہے جب تک دوسرا بچہ پیدا نہ ہو، یہ حیض کی طرح ہے۔“ پھر کہا: ”اے ابا حصین! اسے بسترے میں شامل کر دو۔“
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «لَهُ الرَّجْعَةُ مَا لَمْ تَضَعِ الْآخَرَ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا: ”شوہر کو بیوی سے رجوع کا حق حاصل ہے جب تک دوسرا بچہ پیدا نہ ہو۔“
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «إِذَا وَضَعَتِ الْأَوَّلَ فَقَدْ بَانَتْ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: ”اگر پہلا بچہ پیدا ہو جائے تو نکاح ختم ہو جاتا ہے۔“
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، نا أَشْعَثُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، مِثْلَ ذَلِكَ.
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر پہلا بچہ پیدا ہو جائے تو نکاح ختم ہو جاتا ہے۔“
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: «إِذَا وَضَعَتِ الْأَوَّلَ فَقَدْ بَانَتْ» قَالَ سَعِيدٌ: حَتَّى تَضَعَ الْآخَرَ
مظاہر امیر خان
عکرمہ رحمہ اللہ نے کہا: ”جب پہلا بچہ پیدا ہو جائے تو نکاح ختم ہو جاتا ہے۔“ سعید نے کہا: ”جب تک دوسرا بچہ پیدا نہ ہو۔“