کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: ایلاء (بیوی سے جماع نہ کرنے کی قسم کھانا) کے بارے میں وارد احادیث
حدیث نمبر: 3048
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، وَأنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «كُلُّ يَمِينٍ مَنَعَتْ جِمَاعًا فَهِيَ إِيلَاءٌ» . حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَشْعَثُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ أَيْضًا
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہر قسم جو مجامعت سے روکے ایلاء ہے۔“ حضرت شعبی رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا۔
حدیث نمبر: 3049
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ رَجُلٍ رَفَعَ امْرَأَتَهُ إِلَى قَوْمٍ فَظَاءَرَتْ لَهُمْ فَاسْتَحْلَفُوا زَوْجَهَا، فَقَالُوا: امْرَأَتُكَ طَالِقٌ إِنْ وَطِئْتَهَا حَتَّى تَفْطِمَ صَبِيَّنَا، أَفَلَيْسَ إِنْ تَرَكَهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ بَانَتْ بِالْإِيلَاءِ، وَإِنْ قَرَبَهَا قَبْلَ أَنْ تَفْطِمَ الصَّبِيَّ فَهِيَ طَالِقٌ ثَلَاثًا؟ قَالَ: «نَعَمْ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر شوہر کو کہا جائے کہ جب تک بچے کو دودھ نہ چھڑاؤ بیوی سے قربت نہ کرو، اگر چار مہینے چھوڑ دے تو ایلاء کے ذریعے جدائی ہو گی، اگر پہلے قربت کرے تو تین طلاقیں ہو جائیں گی۔“
حدیث نمبر: 3050
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُطَرِّفٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ سُمِعَ يَقُولَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے بھی یہی مسئلہ بیان کیا۔
حدیث نمبر: 3051
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ الْأَسَدِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَخِيهِ، وَهِيَ تُرْضِعُ ابْنَ أَخِيهِ، فَقَالَ: هِيَ طَالِقٌ إِنْ قَرَبَهَا حَتَّى تَفْطِمَهُ فَقَالَ عَلِيٌّ: «إِنَّمَا أَرَدْتَ لَكَ وَلِابْنِ أَخِيكَ فَلَا إِيلَاءَ عَلَيْكَ، إِنَّمَا الْإِيلَاءُ مَا كَانَ فِي الْغَضَبِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: بھائی کی بیوی سے نکاح کیا جبکہ وہ اس کے بیٹے کو دودھ پلا رہی تھی۔ آپ نے فرمایا: ”تم پر کوئی ایلاء نہیں، ایلاء تو صرف غضب کے وقت ہوتا ہے۔“
وضاحت:
وضاحت: أبو عطية الأسدي کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع کی صراحت نہیں ملتی، اس لیے یہ اثر مرسل تابعی ہے، البتہ مرسل اثرِ صحابی فقہی استدلال میں معتبر ہوتا ہے، خاص طور پر جب مضمون میں نکارت یا شذوذ نہ ہو، اور تائید دیگر مصادر سے ہو۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فتوٰی: اصل نیت کا اعتبار کیا: اگر شوہر نے بیوی سے اصلاحی مقصد سے علیحدگی اختیار کی (مثلاً: بچہ دودھ چھوڑ دے)،تو یہ إيلاء شمار نہیں ہو گا۔
ایلاء وہ ہے جو جھگڑے، غضب، یا عداوت کے جذبے سے ہو۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فتوٰی: اصل نیت کا اعتبار کیا: اگر شوہر نے بیوی سے اصلاحی مقصد سے علیحدگی اختیار کی (مثلاً: بچہ دودھ چھوڑ دے)،تو یہ إيلاء شمار نہیں ہو گا۔
ایلاء وہ ہے جو جھگڑے، غضب، یا عداوت کے جذبے سے ہو۔
حدیث نمبر: 3052
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا۔
حدیث نمبر: 3053
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو وَكِيعٍ , عَنْ أَبِي فَزَارَةَ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّمَا الْإِيلَاءُ فِي الْغَضَبِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ایلاء صرف غضب کی حالت میں ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3054
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا الْقَعْقَاعُ بْنُ يَزِيدَ الضَّبِّيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ عَنِ الْإِيلَاءِ، فَقَالَ: «إِنَّمَا الْإِيلَاءُ مَا كَانَ فِي الْغَضَبِ» قَالَ: وَسَأَلْتُ ابْنَ سِيرِينَ فَقَالَ: " مَا أَدْرِي مَا يَقُولُونَ، وَمَا يَجِيئُونَ بِهِ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِنْ فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ}
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ایلاء غضب میں ہوتا ہے۔“ ابن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ»۔“
حدیث نمبر: 3055
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو يَعْفُورَ الْعَبْدِيُّ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ حَلَفَ أَنْ لَا يَأْتِيَ امْرَأَتَهُ سَنَتَيْنِ حَتَّى تَفْطِمَ وَلَدَهَا، فَقِيلَ لَهُ: مَا صَنَعْتَ فَأَتَى عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ: «إِنْ كُنْتَ فِي غَضِبٍ فَقَدْ بَانَتْ مِنْكَ، وَإِلَّا فَهِيَ امْرَأَتُكَ»
مظاہر امیر خان
عطیہ بن جبیر نے اپنے والد سے روایت کی: انہوں نے قسم کھائی کہ وہ بیوی کے پاس نہیں جائیں گے حتیٰ کہ بچہ دودھ چھوڑ دے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر غصہ میں تھا تو بیوی جدا ہو گئی، ورنہ نکاح برقرار ہے۔“
حدیث نمبر: 3056
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: حَلَفْتُ أَنْ لَا آتِيَ امْرَأَتِي سَنَتَيْنِ، فَقَالَ: «مَا أَرَى إِلَّا قَدْ دَخَلَ عَلَيْكَ إِيلَاءٌ» قَالَ: إِنَّمَا قُلْتُ ذَلِكَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهَا تُرْضِعُ وَلَدِي قَالَ: «فَلَا إِذَنْ»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے: ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ”میں نے بیوی کے پاس دو سال نہ جانے کی قسم کھائی۔“ آپ نے فرمایا: ”ایلاء ہو گیا ہے۔“ اس نے کہا: ”میں نے بچے کو دودھ پلانے کی خاطر کہا تھا۔“ فرمایا: ”پھر نہیں۔“
حدیث نمبر: 3057
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، مَوْلَى مُعَاذِ بْنِ عَفْرَاءَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّمَا الْإِيلَاءُ أَنْ يَحْلِفَ الرَّجُلُ لَا يَأْتِي امْرَأَتَهُ أَبَدًا»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ایلاء صرف یہ ہے کہ آدمی قسم کھائے کہ وہ کبھی بیوی کے پاس نہیں جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3058
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنِ الْإِيلَاءِ، قَالَ: «لَيْسَ بِشَيْءٍ»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے ایلاء کے بارے میں سوال کیا گیا، فرمایا: ”یہ کوئی چیز نہیں۔“
حدیث نمبر: 3059
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: «إِذَا آلَى الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ فَمَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ، فَلَا يَكُونُ إِيلَاءً حَتَّى يُطَلِّقَ» فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ الْحَسَنَ يَقُولُ: إِذَا مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ، قَالَ: «فَإِذَا لَقِيتَ الْحَسَنَ فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ، وَأَخْبِرْهُ أَنْ بِئْسَ مَا قَالَ»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر مرد نے بیوی سے ایلاء کیا اور چار ماہ گزر گئے تو ایلاء نہیں ہو گا جب تک طلاق نہ دے۔“ میں نے کہا: ”حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ چار ماہ بعد ایک بائنہ طلاق واقع ہو جاتی ہے۔“ فرمایا: ”جب حسن سے ملو تو سلام کہنا اور کہنا کہ اس نے بہت برا کہا۔“
حدیث نمبر: 3060
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا دَاوُدُ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: «إِنَّ الْإِيلَاءَ لَيْسَ بِطَلَاقٍ، وَلَكِنَّهُ مَعْصِيَةٌ، وَلَا تُوجِبُ الْمَعْصِيَةُ عَلَيْهِ طَلَاقًا، وَلَكِنَّهُ يُوقَفُ عِنْدَ الْأَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ، فَإِمَّا أَنْ يَفِيءَ، وَإِمَّا أَنْ يُطَلِّقَ»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ایلاء طلاق نہیں، بلکہ معصیت ہے، اور معصیت سے طلاق لازم نہیں آتی۔ ہاں، چار ماہ بعد مرد کو روکا جائے گا، یا رجوع کرے یا طلاق دے۔“
حدیث نمبر: 3061
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو قُدَامَةَ الْحَرْثُ بْنُ عُبَيْدٍ الْإِيَادِيُّ، قَالَ: نا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ إِيلَاءُ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ السَّنَةَ وَالسَّنَتَيْنِ، وَأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، فَوَقَّتَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ، فَمَنْ كَانَ إِيلَاؤُهُ أَقَلَّ مِنْ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَلَيْسَ بِإِيلَاءٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”زمانہ جاہلیت میں لوگ سالوں اور دو سالوں بلکہ اس سے بھی زیادہ مدت کا ایلاء کرتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے مدت چار ماہ مقرر کر دی۔ اب جو ایلاء چار ماہ سے کم ہو، وہ ایلاء نہیں۔“
حدیث نمبر: 3062
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «مَنْ حَلَفَ أَنْ لَا يَقْرَبَ امْرَأَتَهُ شَهْرًا، فَتَرَكَهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ، فَلَيْسَ بِإِيلَاءٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جس نے بیوی سے ایک مہینہ قریب نہ آنے کی قسم کھائی اور چار ماہ چھوڑ دیا تو یہ ایلاء نہیں۔“
حدیث نمبر: 3063
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْإِيلَاءِ: «إِذَا مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ فَهِيَ وَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”چار ماہ گزرنے پر ایک بائنہ طلاق ہو جاتی ہے۔“
حدیث نمبر: 3064
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔
حدیث نمبر: 3065
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حُصَيْنٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَأنا دَاوُدُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا آلَى الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ فَمَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ قَبْلَ أَنْ يَقْرَبَهَا بَانَتْ مِنْهُ بِتَطْلِيقَةٍ، وَتَعْتَدُّ ثَلَاثَ حِيَضٍ، وَيَخْطُبُهَا فِيهِنَّ إِنْ شَاءَ وَشَاءَتْ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ”اگر مرد بیوی سے ایلاء کرے اور چار ماہ پہلے قریب نہ آئے تو ایک طلاق بائنہ واقع ہو جائے گی۔ پھر عورت تین حیض عدت کرے گی۔ اور دوران عدت اگر چاہے تو دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 3066
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: نا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
حضرت مسروق رحمہ اللہ نے بھی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے یہی روایت بیان کی۔
حدیث نمبر: 3067
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، أَنَّ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ آلَى مِنِ امْرَأَتِهِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: «إِنْ مَضَتْ عَلَيْكَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ قَبْلَ أَنْ تَقْرَبَهَا فَاعْتَرِفْ بِتَطْلِيقَةٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر چار ماہ گزر گئے تو طلاق کا اقرار کر لو۔“
حدیث نمبر: 3068
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «إِذَا آلَى الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ فَمَضَتِ الْأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ، فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اگر مرد نے ایلاء کیا اور چار ماہ گزر گئیں تو یہ ایک طلاق بائنہ ہے۔“
حدیث نمبر: 3069
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَا يَقُولَانِ: «إِذَا آلَى الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ فَمَضَتْ أَرْبَعَةُ الْأَشْهُرِ قَبْلَ أَنْ يَفِيءَ فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما دونوں نے فرمایا: ”اگر چار ماہ پہلے رجوع نہ کرے تو طلاق بائنہ واقع ہو جائے گی۔“
حدیث نمبر: 3070
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " عَزِيمَةُ الطَّلَاقِ انْقِضَاءُ الْأَرْبَعَةِ الْأَشْهُرِ، وَالْفَيْءُ: الْجِمَاعُ "
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”چار ماہ گزرنے پر طلاق کی عزیمت ہوتی ہے اور رجوع جماع کے ساتھ ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3071
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُطَرِّفٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " الْفَيْءُ: الْجِمَاعُ،
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”فیء سے مراد جماع ہے۔“
حدیث نمبر: 3072
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مِثْلَهُ.
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہی قول حضرت شعبی رحمہ اللہ نے بھی بیان کیا۔
حدیث نمبر: 3073
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: الْفَيْءُ: الْجِمَاعُ "
مظاہر امیر خان
حضرت مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا: ”فیء یعنی جماع۔“
حدیث نمبر: 3074
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِيمَنْ آلَى مِنِ امْرَأَتِهِ فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهَا مِنْ حَيْضٍ، أَوْ نِفَاسٍ، أَوْ أَمْرٍ لَهُ فِيهِ عُذْرٌ: «أَشْهَدُ عَلَى الْفَيْءِ، وَهِيَ امْرَأَتُهُ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کسی نے بیوی سے ایلاء کیا اور عورت حیض یا نفاس یا کسی معذوری کی وجہ سے جماع کے قابل نہ رہی تو شوہر رجوع کا اعلان کرے، وہی بیوی رہے گی۔“
حدیث نمبر: 3075
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، وَخَالِدٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي الرَّجُلِ يُؤْلِي مِنِ امْرَأَتِهِ، ثُمَّ لَمْ يَقْدِرْ عَلَى الْجِمَاعِ مِنْ عُذْرٍ حَتَّى تَمْضِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ، «فَيَشْهَدُ عَلَى الْفَيْءِ، وَهِيَ امْرَأَتُهُ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی عذر ہو اور جماع نہ ہو سکے تو شوہر رجوع کا اعلان کرے اور بیوی پر نکاح برقرار رہے گا۔“
حدیث نمبر: 3076
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " يَفِيءُ، وَالْفَيْءُ: الْجِمَاعُ "،
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رجوع (فیء) کا مطلب جماع ہے۔“
حدیث نمبر: 3077
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، مِثْلَهُ
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے اسی طرح کا قول منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3078
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ مُحَارِبٍ آلَى مِنِ امْرَأَتِهِ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْأَرْبَعَةِ الْأَشْهُرِ أَرَادَ أَنْ يَفِيءَ إِلَيْهَا، فَنَفِسَتِ الْمَرْأَةُ، فَأَتَى عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدَ فَقَالَا: «أَشْهَدُ عَلَى الْفَيْءِ، وَهِيَ امْرَأَتُكَ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: محارب قبیلے کے ایک شخص نے بیوی سے ایلاء کیا، چار ماہ گزرنے پر جب رجوع کا ارادہ کیا تو عورت نفاس میں تھی، تو سیدنا علقمہ اور سیدنا اسود رحمہما اللہ نے فرمایا: ”رجوع کا اعلان کرو، وہ تمہاری بیوی ہے۔“
حدیث نمبر: 3079
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: نَزَلَ بِأَبِي الشَّعْثَاءِ ضَيْفٌ، وَآلَى مِنِ امْرَأَتِهِ فَنَفِسَتْ، فَأَرَادَ أَنْ يَفِيءَ فَلَمْ يَسْتَطِعْ مِنْ أَجْلِ نِفَاسِهَا، فَأَتَى عَلْقَمَةَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ عَلْقَمَةُ، «أَلَيْسَ قَدْ فِئْتَ بِقَلْبِكَ وَرَضِيتَ؟» قَالَ: بَلَى، قَالَ: " قَدْ فِئْتَ قَالَ: فَهِيَ امْرَأَتُكَ "
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ابو الشعثاء کے پاس مہمان آیا، اس نے بیوی سے ایلاء کیا، بیوی نفاس میں آ گئی، رجوع کا ارادہ کیا تو نہ کر سکا، سیدنا علقمہ رحمہ اللہ سے مشورہ کیا، فرمایا: ”کیا دل سے رجوع کر لیا ہے؟“ کہا: ”ہاں۔“ فرمایا: ”پس رجوع ہو گیا، وہ تمہاری بیوی ہے۔“
حدیث نمبر: 3080
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: «كُلُّ يَمِينٍ حَلَفَ عَلَيْهَا الرَّجُلُ يَكُونُ فِي تِلْكَ الْيَمِينِ أَنْ لَا يَقْرَبَ امْرَأَتَهُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ فَهُوَ إِيلَاءٌ»
مظاہر امیر خان
حضرت عامر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہر وہ قسم جس میں چار ماہ تک بیوی کے قریب نہ جانے کا عزم ہو، ایلاء ہے۔“
حدیث نمبر: 3081
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، وَعَوْفٌ، وَأَبُو حُرَّةَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «الْفَيْءُ الْإِشْهَادُ، وَإِذَا كَانَ لَهُ عُذْرٌ مِنْ مَرَضٍ أَوْ حَيْضٍ أَوْ نِفَاسٍ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رجوع کا اعلان (فیء) گواہی سے ہو جاتا ہے اگر کوئی عذر ہو جیسے بیماری، حیض یا نفاس۔“
حدیث نمبر: 3082
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَتَّابٌ، قَالَ: أنا خُصَيْفٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: " الْفَيْءُ: الْجِمَاعُ "
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”فیء یعنی جماع۔“