کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: جس کا قول ہے کہ ایلاء کرنے والے شوہر کو چار ماہ پورے ہونے پر فیصلہ کے لیے روکا جائے گا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «إِذَا آلَى الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ فَإِنَّهُ يُوقَفُ حَتَّى يَفِيءَ أَوْ يُطَلِّقَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب مرد بیوی سے ایلاء کرے تو اسے روکا جائے گا یہاں تک کہ رجوع کرے یا طلاق دے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ مَرْوَانَ، عَنْ عَلِيٍّ، مِثْلَهُ
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کا قول مروان کے ذریعے بھی منقول ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: أنا عَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ الْكِنْدِيُّ، «أَنَّهُ شَهِدَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوْقَفَ رَجُلًا عِنْدَ الْأَرْبَعَةِ الْأَشْهُرِ، إِمَّا أَنْ يَفِيءَ، وَإِمَّا أَنْ يُطَلِّقَ»
مظاہر امیر خان
عمرو بن سلمہ کندی رحمہ اللہ نے کہا: ”میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے چار ماہ کے بعد ایک شخص کو روکا، یا تو رجوع کرے یا طلاق دے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوْقَفَ رَجُلًا عِنْدَ الْأَرْبَعَةِ الْأَشْهُرِ بِالرَّحْبَةِ، إِمَّا أَنْ يَفِيءَ، وَإِمَّا أَنْ يُطَلِّقَ "
مظاہر امیر خان
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ الرحبہ میں مرد کو چار ماہ پر روکا کہ رجوع کرے یا طلاق دے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي بُكَيْرٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِثْلَهُ
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہی روایت بیان کی۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: نا عَبْدُ الْحَمِيدِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْمُؤْلِي عَنِ امْرَأَتِهِ «يُوقَفُ عِنْدَ الْأَرْبَعَةِ الْأَشْهُرِ، فَإِمَّا أَنْ يَفِيءَ، وَإِمَّا أَنْ يُطَلِّقَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”مؤلی (ایلاء کرنے والا) کو چار ماہ پر روکا جائے، یا رجوع کرے یا طلاق دے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ (1)جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِي الْإِيلَاءِ: « يُوقَفُ عِنْدَ الْأَرْبَعَةِ الْأَشْهُرِ، فَإِمَّا أَنْ يَفِيءَ، وَإِمَّا أَنْ يُطَلِّقَ » .
مظاہر امیر خان
وضاحت:
اگرچہ یہ روایت سنداً کچھ اجمال رکھتی ہے، لیکن چونکہ یہ مضمون: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دیگر صحیح سندوں سے (1909، 1910) بھی ثابت ہے اور یہاں بھی الفاظ وہی ہیں:"يوقف عند الأربعة الأشهر، فإما أن يفيء، وإما أن يطلق" لہٰذا یہ روایت مضموناً معتبر اور مؤید ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ «أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ يُولِي مِنِ امْرَأَتِهِ، فَيَمْكُثُ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لَا تَرَى ذَلِكَ إِيلَاءً»
مظاہر امیر خان
قاسم بن محمد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”آدمی بیوی سے ایلاء کرتا اور چوہ ماہ سے زیادہ چھوڑ دیتا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اسے ایلاء نہ سمجھتی تھیں۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الْعَزِيزِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا «كَانَتْ لَا تَرَى الْإِيلَاءَ شَيْئًا حَتَّى يُوقَفَ»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول تھا: ”جب تک روکا نہ جائے، ایلاء نہیں ہوتا ہوتا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: «كَانَ تِسْعَةَ عَشَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوقِفُونَ فِي الْإِيلَاءِ»
مظاہر امیر خان
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ نے نقل کیا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انیس صحابہ ایلاء میں روکنے کے قائل تھے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ «أَوْقَفَ الْمُولِي بَعْدَ سِتَّةِ أَشْهُرٍ»
مظاہر امیر خان
مروان بن الحکم رحمہ اللہ نے ایک مؤلی کو چھ ماہ بعد روکا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ، كَانَ يَقُولُ: «هِيَ مَعْصِيَةٌ يُوقَفُ عِنْدَ الْأَرْبَعَةِ الْأَشْهُرِ، فَإِمَّا أَنْ يَفِيءَ، وَإِمَّا أَنْ يُطَلِّقَ»
مظاہر امیر خان
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایلاء معصیت ہے، چار ماہ پر روکا جائے، یا رجوع کرے یا طلاق دے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: إنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ الْإِيلَاءَ طَلَاقٌ، قَالَ: «كَذَبُوا، إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ وُعِظُوا بِهِ»
مظاہر امیر خان
حضرت ہشام بن عروہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں نے اپنے والد سے کہا کہ بعض لوگ ایلاء کو طلاق کہتے ہیں، انہوں نے کہا: جھوٹ بولتے ہیں، یہ صرف نصیحت ہے۔“