حدیث نمبر: 3024
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي امْرَأَةٍ ظَاهَرَتْ مِنْ زَوْجِهَا قَالَ: «لَيْسَ بِشَيْءٍ، إِنَّمَا الظِّهَارُ لِلرِّجَالِ»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر عورت شوہر سے ظہار کرے تو وہ کچھ بھی نہیں، ظہار صرف مردوں کے لیے ہے۔“
حدیث نمبر: 3025
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عَائِشَةَ بِنْتَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَتْ: إِنْ تَزَوَّجَتْ مُصْعَبَ بْنَ الزُّبَيْرِ فَهُوَ عَلَيْهَا كَظَهْرِ أَبِيهَا «فَتَزَوَّجَتْهُ فَسَأَلَتْ عَنْ ذَلِكَ، فَأُمِرَتْ أَنْ تُكَفِّرَ، فَأَعْتَقَتْ غُلَامًا لَهَا ثَمَنُ أَلْفَيْنِ»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ بنت طلحہ نے کہا: ”اگر میں مصعب بن زبیر سے نکاح کر لوں تو وہ میرے لیے باپ کی مانند ہو گا۔“ پھر نکاح کیا، فتویٰ لیا، کفارہ کا حکم دیا گیا، تو انہوں نے دو ہزار درہم کی قیمت کا غلام آزاد کیا۔
حدیث نمبر: 3026
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح روایت کی۔
حدیث نمبر: 3027
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، قَالَ: كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَقُولُ: «إِذَا قَالَتْ بَعْدَ مَا تَزَوَّجُ الرَّجُلُ فَلَيْسَ بِشَيْءٍ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر عورت نکاح کے بعد ایسا کہے تو کچھ بھی نہیں۔“
حدیث نمبر: 3028
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: جَلَسَ إِلَيْنَا رَجُلٌ فَانْتَسَبْنَاهُ فَقَالَ: «أَنَا الَّذِي أَعْتَقَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ فِيمَا كَانَ قَوْلُهَا لِمُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہمارے پاس ایک شخص بیٹھا جس نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا: میں وہ ہوں جسے سیدہ عائشہ بنت طلحہ نے آزاد کیا تھا، ان الفاظ کی وجہ سے جو انہوں نے مصعب بن زبیر سے کہے تھے۔“
حدیث نمبر: 3029
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «إِذَا ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ مِنْ ذِي مَحْرَمٍ فَهُوَ ظِهَارٌ»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کسی نے اپنے کسی محرم سے ظہار کیا تو یہ ظہار ہے۔“