حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، قَالَ: سَأَلْتُ مُجَاهِدًا عَنِ الظِّهَارِ مِنَ الْأَمَةِ فَكَأَنَّهُ لَمْ يَرَهُ شَيْئًا، فَقُلْتُ: أَلَيْسَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: {الَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ} [المجادلة: 3] أَفَلَيْسَ مِنَ النِّسَاءِ؟ فَقَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ} [البقرة: 282] أَفَلَيْسَ الْعَبِيدُ مِنَ الرِّجَالِ؟ «أَفَتَجُوزُ شَهَادَةُ الْعَبِيدِ؟»
مظاہر امیر خان
حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ کیا لونڈی سے ظہار درست ہے؟ تو انہوں نے اسے کوئی چیز نہ سمجھا۔ میں نے کہا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «الَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ» کیا وہ عورتوں میں شامل نہیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”اللہ نے فرمایا: «وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ» تو کیا غلام مرد نہیں ہیں؟ پھر کیا غلاموں کی گواہی جائز ہے؟“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ " أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الظِّهَارِ مِنَ الْأَمَةِ: كَالظِّهَارِ مِنَ الْحُرَّةِ "
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”لونڈی سے ظہار آزاد عورت کی طرح ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا كَانَ قَدْ وَطِئَهَا، ثُمَّ ظَاهَرَ مِنْهَا فَهُوَ ظِهَارٌ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ وَطِئَهَا فَلَا ظِهَارَ عَلَيْهِ»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر بیوی سے صحبت ہو چکی ہو پھر ظہار کیا تو ظہار ہو گا، اور اگر صحبت نہ ہوئی ہو تو ظہار نہیں ہو گا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: سَأَلْتُ عَنْ رَجُلٍ ظَاهَرَ مِنْ أَمَتِهِ قَالَ: «لَا يَقْرَبْهَا حَتَّى يُكَفِّرَ كَفَّارَةَ الظِّهَارِ» فَقُلْتُ: يُعْتِقُهَا لِلْكَفَّارَةِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قُلْتُ: إِنْ أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بَعْدُ؟ قَالَ: «يَفْعَلُ إِنْ شَاءَ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کسی نے اپنی لونڈی سے ظہار کیا تو وہ اس سے دور رہے یہاں تک کہ کفارہ ادا کرے۔“ میں نے پوچھا: ”کیا کفارہ میں اسی کو آزاد کرے؟“ فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے کہا: ”پھر چاہے تو نکاح کر سکتا ہے؟“ فرمایا: ”ہاں۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «الظِّهَارُ مِنْ كُلِّ ذَاتِ مَحْرَمٍ»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ظہار ہر محرم سے جائز ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «الظِّهَارُ مِنْ كُلِّ ذَاتِ مَحْرَمٍ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ظہار ہر محرم سے جائز ہے۔“