حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «لَا يُجْزِئُ فِي الظِّهَارِ عِتْقُ يَهُودِيٍّ، وَلَا نَصْرَانِيٍّ» وَكَانَ يَقُولُ: لَا يُجْزِئُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْكَفَّارَاتِ إِلَّا عِتْقُ مُسْلِمٍ "
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ظہار کے کفارے میں یہودی یا نصرانی غلام کا آزاد کرنا کافی نہیں، بلکہ صرف مسلمان غلام آزاد کرنا کافی ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ قَالَ: «لَا يُجْزِئُ عِتْقُ الصَّبِيِّ فِي كَفَّارَةِ الظِّهَارِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ظہار کے کفارے میں نابالغ غلام کا آزاد کرنا کافی نہیں۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، «أَنَّهُ كَانَ يَرَى عِتْقَ الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ جَائِزًا فِي كَفَّارَةِ الظِّهَارِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ یہود و نصاریٰ غلام کو ظہار کے کفارے میں آزاد کرنا جائز سمجھتے تھے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ بھی یہود و نصاریٰ غلام کے ظہار میں آزاد کرنے کو جائز سمجھتے تھے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، «أَنَّهُ كَانَ يُجِيزُ عِتْقَ الْأَعْوَرِ فِي كَفَّارَةِ الظِّهَارِ، وَلَا يُجِيزُ عِتْقَ الْأَعْمَى»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ظہار کے کفارے میں کانے غلام کو آزاد کرنا جائز ہے مگر اندھے کو آزاد کرنا جائز نہیں۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ شِبَاكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ «أَنَّهُ كَانَ يَرَى عِتْقَ أُمِّ الْوَلَدِ جَائِزًا فِي كَفَّارَةِ الظِّهَارِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ام ولد کو ظہار کے کفارے میں آزاد کرنا جائز ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا رَجُلٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ قَالَ: «لَا يَجُوزُ عِتْقُ أُمِّ الْوَلَدِ فِي كَفَّارَةِ الظِّهَارِ» «وَكَانَ يَرَى عِتْقَ الْمُدَبَّرَةِ فِي كَفَّارَةِ الظِّهَارِ جَائِزًا»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ام ولد کو ظہار کے کفارے میں آزاد کرنا جائز نہیں، لیکن مدبرہ کو آزاد کرنا جائز ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا حَجَّاجٌ، عَنْ مُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَجُوزُ أُمُّ الْوَلَدِ فِي كَفَّارَةِ الظِّهَارِ، وَلَا يَجُوزُ الْمُعْتَقَةُ عَنْ دُبُرٍ، قُلْتُ: فَمَا بَالُ الْمُعْتَقَةِ عَنْ دُبُرٍ لَا يَجُوزُ عِتْقُهَا قَالَ: «لِمَا يُخْتَلَفُ فِيهَا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ظہار کی کفارہ میں ام ولد اور معتقہ عن دبر کا عتق جائز نہیں۔“ میں نے پوچھا: ”معتقہ عن دبر کا کیا مسئلہ ہے؟“ فرمایا: ”اس میں اختلاف کی وجہ سے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ الْحَكَمِ، يَقُولُ: " لَا تُجْزِئُ أُمُّ الْوَلَدِ، وَالْمُعْتَقَةُ عَنْ دُبُرٍ فِي كَفَّارَةِ الظِّهَارِ؛ لِأَنَّهُ قَدْ جَرَتْ فِيهِمَا الْعَتَاقَةُ نا سَعِيدٌ، قَالَ هُشَيْمٌ: وَهُوَ الْقَوْلُ
مظاہر امیر خان
حضرت حکم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ظہار کی کفارہ میں ام ولد اور معتقہ عن دبر کافی نہیں کیونکہ ان پر آزادی کا حکم پہلے ہی جاری ہو چکا ہے۔“ ہشیم نے کہا: ”یہی صحیح قول ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: إِنْ قَرَبْتُكِ سَنَةً فَأَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي، فَانْطَلَقْنَا إِلَى الشَّعْبِيِّ، فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْإِيلَاءُ فِي الظِّهَارِ، وَلَا الظِّهَارُ فِي الْإِيلَاءِ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص نے کہا: ”اگر میں تم سے ایک سال تک قربت کروں تو تم مجھ پر ماں کی طرح ہو۔“ تو فرمایا: ”ایلاء ظہار میں داخل نہیں ہوتا اور نہ ہی ظہار ایلاء میں۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جَرِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: " إِذَا ظَاهَرَ الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ ثُمَّ مَاتَ، أَوْ مَاتَتْ قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ، قَالَ: يَتَوَارَثَانِ "
مظاہر امیر خان
حضرت عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر شوہر نے بیوی سے ظہار کیا اور پھر وہ یا بیوی مر گئی تو دونوں میں وراثت جاری ہو گی۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي رَجُلٍ ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ ثُمَّ غَشِيَهَا قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ قَالَ: «يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يَعُودُ، وَعَلَيْهِ كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جس نے بیوی سے ظہار کیا پھر کفارہ سے پہلے اس سے قربت کی تو اللہ سے استغفار کرے، دوبارہ ایسا نہ کرے اور ایک ہی کفارہ دے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: نا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَالْحَسَنِ، وَعَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالُوا: «لَيْسَ لِلْمُظَاهِرِ وَقْتٌ إِذَا كَفَّرَ فَهِيَ امْرَأَتُهُ»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن مسیب، حسن اور ابراہیم رحمہم اللہ نے فرمایا: ”مظاہر کے لیے کوئی مقررہ وقت نہیں، جب کفارہ دے دے تو وہ اس کی بیوی ہے۔“