حدیث نمبر: 2997
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " مَنْ ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ ثُمَّ طَلَّقَهَا، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا غَيْرُهُ، ثُمَّ فَارَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا زَوْجُهَا الْأَوَّلُ، قَالَ: لَا يَقْرَبُهَا حَتَّى يُكَفِّرَ "
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جس نے اپنی بیوی سے ظہار کیا، پھر طلاق دی، پھر کسی اور سے نکاح کیا، پھر طلاق دے دی اور پہلا شوہر دوبارہ نکاح کرے، تو اس کے لیے لازم ہے کہ کفارہ دے تب بیوی کے پاس جا سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2998
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، «أَنَّهُ كَانَ لَا يُوَقِّتُ فِي الظِّهَارِ وَقْتًا»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ ظہار میں وقت مقرر نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2999
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَهِيمُ، " أَنَّهُ كَانَ لَا يُوَقِّتُ فِي الظِّهَارِ وَقْتًا إِلَّا أَنْ يَقُولَ: إِنْ قَرَبْتُكِ وَأَنْتَ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي، فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ فَمَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا بَانَتْ بِإِيلَاءٍ "
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ ظہار میں وقت مقرر نہیں کرتے تھے، سوائے یہ کہ کہے: ”اگر میں تم سے قربت کروں اور تم میرے لیے میری ماں کی پشت کی طرح ہو جاؤ، پھر اگر چار مہینے گزر جائیں اور وہ ہمبستری نہ کرے تو ایلاء کے ذریعے علیحدگی ہو جائے گی۔“
حدیث نمبر: 3000
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: «إِذَا ظَاهَرَ الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ فَعَلَيْهِ الْكَفَّارَةُ، بَرَّأَ وَلَمْ يَبَرَّ»
مظاہر امیر خان
حضرت طاؤس رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب مرد اپنی بیوی سے ظہار کرے تو اس پر کفارہ لازم ہو گا، چاہے قسم پوری کرے یا نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 3001
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ أَوْسَ بْنَ الصَّامِتِ، ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ خَوْلَةَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ، فَجَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، وَكَانَ أَوْسٌ بِهِ لَمَمٌ فَنَزَلَ الْقُرْآنُ: {الَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا} [المجادلة: 3]، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: «مُرِيهِ فَلْيُعْتِقْ رَقَبَةً» فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي أَعْطَاكَ مَا أَعْطَاكَ مَا جِئْتُ إِلَّا رَحْمَةً لَهُ، فَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَهِيَ عِنْدَهُ فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ: «مُرِيهِ فَلْيَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ» فَقَالَتْ: وَالَّذِي أَعْطَاكَ مَا أَعْطَاكَ مَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ، قَالَ: «مُرِيهِ فَلْيَتَصَدَّقْ عَلَى سِتِّينَ مِسْكِينًا» قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِنْدَهُ مَا يَتَصَدَّقُ، فَقَالَ: «فَاذْهَبِي إِلَى فُلَانٍ الْأَنْصَارِيِّ، فَإِنَّ عِنْدَهُ شَطْرَ وَسْقِ تَمْرٍ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِهِ، فَلْيَأْخُذْ بِهِ فَلْيَتَصَدَّقْ بِهِ عَلَى سِتِّينَ مِسْكِينًا»
مظاہر امیر خان
سیدہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ان کے شوہر سیدنا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ نے ان سے ظہار کر لیا ہے، پھر قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی: «الَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ»، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کہو غلام آزاد کرے۔“ انہوں نے عرض کیا: ”وہ اس کی استطاعت نہیں رکھتا۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو مہینے مسلسل روزے رکھے۔“ انہوں نے عرض کیا: ”اس کی بھی طاقت نہیں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔“
حدیث نمبر: 3002
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَكَمَ بْنَ أَبَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قَالَ جَاءَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ، وَإِنَّهُ وَقَعَ عَلَيْهَا قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ مَا عَلَيْهِ قَالَ: «وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟» قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ رَأَيْتُ بَيَاضَ سَاقِهَا فِي الْقَمَرِ، قَالَ: «فَاعْتَزِلْ حَتَّى تَقْضِيَ مَا عَلَيْكَ»
مظاہر امیر خان
ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے بیوی سے ظہار کیا اور پھر قربت کر لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے ایسا کیوں کیا؟“ اس نے کہا: ”میں نے چاندنی میں اس کی پنڈلی دیکھی تو ضبط نہ کر سکا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب کفارہ ادا کرنے تک اس سے دور رہو۔“
حدیث نمبر: 3003
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ رَجُلًا ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ، ثُمَّ غَشِيَهَا قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «اعْتَزِلْهَا حَتَّى تَقْضِيَ مَا عَلَيْكَ»
مظاہر امیر خان
ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ ظہار کے بعد بیوی سے قربت کر لی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کفارہ ادا کرنے تک اس سے دور رہو۔“
حدیث نمبر: 3004
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جَرِيحٍ، قَالَ: قِيلَ لِعَطَاءٍ وَأنا أَسْمَعُ: رَجُلٌ ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ، ثُمَّ أَصَابَهَا قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ؟ قَالَ: «بِئْسَ مَا صَنَعَ»، فَقُلْتُ لِعَطَاءٍ: عَلَيْهِ حَدٌّ أَوْ شَيْءٌ مَعْلُومٌ؟ قَالَ: «يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ ثُمَّ لِيَعْتَزِلْهَا حَتَّى يُكَفِّرَ»
مظاہر امیر خان
حضرت عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو ظہار کے بعد قربت کرے اس نے برا کیا، اور اس پر حد یا کوئی معین سزا نہیں ہے، بس اللہ سے استغفار کرے اور کفارہ ادا کرے۔“
حدیث نمبر: 3005
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «إِنْ وَاقَعَ الْمُظَاهِرُ قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ فَلْيُمْسِكْ عَنْ غِشْيَانِهَا، وَلْيَسْتَغْفِرِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَتُبْ إِلَيْهِ، وَيُكَفِّرْ كَفَّارَةً وَاحِدَةً»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مظاہر اگر کفارہ سے پہلے بیوی سے تعلق کرے تو اس پر لازم ہے کہ رک جائے، اللہ سے استغفار کرے اور ایک کفارہ ادا کرے۔“
حدیث نمبر: 3006
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «ذَنْبًا أَتَاهُ، يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، وَلَا يَعُودُ إِلَيْهَا، حَتَّى يُكَفِّرَ وَعَلَيْهِ كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ گناہ ہے، اسے اللہ سے توبہ اور استغفار کرنا چاہیے اور کفارہ ادا کرنا چاہیے۔“
حدیث نمبر: 3007
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ عَنْ خُصَيْفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ رَجُلٍ ظَاهَرَ ثُمَّ غَشِيَهَا قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ قَالَ: «عَلَيْهِ كَفَّارَتَانِ»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی ظہار کے بعد کفارہ سے پہلے بیوی سے تعلق کرے تو اس پر دو کفارے لازم ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 3008
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، نا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ فِي رَجُلٍ ظَاهَرَ مِنْ ثَلَاثِ نِسْوَةٍ، قَالَ: «عَلَيْهِ كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص تین عورتوں سے ظہار کرے تو اس پر ایک ہی کفارہ لازم ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3009
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا حَجَّاجٌ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: «عَلَيْهِ كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ»
مظاہر امیر خان
حضرت عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس پر ایک ہی کفارہ لازم ہے۔“
حدیث نمبر: 3010
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، وَعُبَيْدَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: «عَلَيْهِ ثَلَاثُ كَفَّارَاتٍ»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ اور ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس پر تین کفارے لازم ہوں گے۔“