کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اُس شخص کا بیان جس نے طلاق یا عتق (غلام کو آزاد کرنے) میں پہلے قسم کھائی، پھر بعد میں استثناء کیا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ شُرَيْحٌ يَقُولُ: «مَتَى بَدَأَ بِالْيَمِينِ فِي الطَّلَاقِ وَالْعَتَاقِ قَبْلَ الْمَثْنَوِيَّةِ فَقَدْ وَقَعَ عَلَيْهِ الطَّلَاقُ وَالْعَتَاقُ»
مظاہر امیر خان
حضرت شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب طلاق اور غلام آزاد کرنے میں قسم پر طلاق کو مقدم کرے تو طلاق واقع ہو جائے گی۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: «إِنْ لَمْ يَحْنَثْ فَلَا يَقَعُ عَلَيْهِ»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر قسم نہ ٹوٹی تو طلاق واقع نہ ہو گی۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ: " إِذَا بَدَأَ الرَّجُلُ بِالطَّلَاقِ وَقَعَ حَنِثَ أَوْ لَمْ يَحْنَثْ، قَالَ: وَكَانَ إِبْرَاهِيمُ يَقُولُ: وَمَا يَدْرِي شُرَيْحٌ
مظاہر امیر خان
حضرت شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب کوئی شخص طلاق سے بات شروع کرے تو طلاق واقع ہو جائے گی چاہے قسم ٹوٹے یا نہ ٹوٹے۔“ اور ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: ”شریح کو اس بارے میں کیا معلوم۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ: «مَنْ بَدَأَ بِالطَّلَاقِ فَلَا اسْتِثْنَاءَ عَلَيْهِ»
مظاہر امیر خان
حضرت شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو طلاق سے بات شروع کرے اس کے لیے کوئی استثناء نہیں۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «مَنْ بَدَأَ بِالطَّلَاقِ لَزِمَهُ الطَّلَاقُ»
مظاہر امیر خان
حضرت شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو طلاق سے بات شروع کرے اس پر طلاق لازم ہو جائے گی۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا بَدَأَ الرَّجُلُ بِالطَّلَاقِ لَمْ يُغْنِ شَرْطُهُ شَيْئًا»
مظاہر امیر خان
حضرت شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب کوئی مرد طلاق سے بات شروع کرے تو اس کی شرط کا کوئی فائدہ نہ ہو گا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي رَجُلٍ قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تَزَوَّجْتَ، فَقَالَ: كُلُّ امْرَأَةٍ لَهُ غَيْرَكِ طَالِقٌ " فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِ شُرَيْحٍ بِتَقْدِيمِ الطَّلَاقِ وَتَأْخِيرِهِ
مظاہر امیر خان
حضرت شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ایک عورت نے شوہر سے کہا: ”مجھے خبر ملی ہے کہ تم نے دوسری شادی کر لی ہے۔“ اور شوہر نے کہا: ”تیرے علاوہ میری ہر بیوی طلاق ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ، قَالَ: لَقَدْ تَرَكَ شُرَيْحٌ فِي صُدُورِ الْوَرِعِينَ فِيهَا هَاجِسًا
مظاہر امیر خان
عبدالرحمن بن ثروان رحمہ اللہ نے کہا: ”شریح نے پرہیزگاروں کے دلوں میں شک ڈال دیا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، فِي الرَّجُلِ يَقُولُ: إِنْ لَمْ أَفْعَلْ كَذَا وَكَذَا، فَامْرَأَتُهُ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، قَالَ: «ثُنْيَاهُ فِي الطَّلَاقِ وَالْعَتَاقِ»
مظاہر امیر خان
حضرت طاؤس رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص کہے کہ اگر میں فلاں کام نہ کروں تو میری بیوی طلاق ہے ان شاء اللہ، تو طلاق اور غلام آزاد کرنے میں استثناء درست ہو گا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: نا لَيْثٌ، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَالنَّخَعِيِّ، وَالزُّهْرِيِّ، أَنَّهُمْ قَالُوا: «إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ، أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ لَمْ تَفْعَلِي كَذَا وَكَذَا، إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَلَمْ تَفْعَلْ لَهُ ثُنْيَاهُ»
مظاہر امیر خان
حضرت عطاء، حضرت طاؤس، حضرت مجاہد، حضرت نخعی، اور حضرت زہری رحمہم اللہ نے فرمایا: ”اگر شوہر کہے: اگر تم فلاں کام نہ کرو تو تم طلاق ہو، ان شاء اللہ، پھر عورت وہ کام نہ کرے تو طلاق واقع نہ ہو گی۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ «أَنَّهُ كَانَ يَرَى الِاسْتِثْنَاءَ فِي الطَّلَاقِ جَائِزًا»
مظاہر امیر خان
حضرت طاؤس رحمہ اللہ استثناء کو طلاق میں جائز سمجھتے تھے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، فِي رَجُلٍ قَالَ لِغُلَامِهِ: «أُعْتِقُكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ»، فَلَمْ يَرَهُ عِتْقًا "
مظاہر امیر خان
حضرت عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی اپنے غلام سے کہے: میں تمہیں ان شاء اللہ آزاد کرتا ہوں، تو یہ آزادی واقع نہ ہو گی۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أنا أَشْعَثُ بْنُ حَسَّانَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا مِجْلَزٍ عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: إِنْ دَخَلْتُ دَارَ فُلَانٍ فَامْرَأَتُهُ طَالِقٌ ثَلَاثًا، قُلْتُ: إِلَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، إِلَّا إِنْ يَشَأِ اللَّهُ، قَالَ أَبُو مِجْلَزٍ: «أَلَيْسَ قَدِ اسْتُثْنَى لِيَدْخُلَهَا إِنْ شَاءَ»
مظاہر امیر خان
حضرت ابو مجلز رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی کہے کہ اگر میں فلاں کے گھر میں داخل ہو جاؤں تو میری بیوی تین طلاق ہے، پھر ساتھ ان شاء اللہ کہہ دے تو داخل ہو سکتا ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، «أَنَّهُ كَانَ يُجِيزُ الثُّنْيَا فِي الطَّلَاقِ، قَدَّمَ الطَّلَاقَ أَوْ أَخَّرَهُ بَعْدَ أَنْ يَصِلَ ذَلِكَ بِمَنْطِقِهِ وَكَلَامِهِ»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”طلاق میں استثناء جائز ہے، چاہے طلاق کو پہلے یا بعد میں ذکر کرے، جب تک کہ گفتگو کے ساتھ ملا ہوا ہو۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا هِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «لَيْسَ فِي الطَّلَاقِ وَالْعَتَاقِ اسْتِثْنَاءٌ»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”طلاق اور غلام آزاد کرنے میں کوئی استثناء نہیں۔“