حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «مَنْ وَقَّتَ لِلطَّلَاقِ وَقْتًا، فَإِذَا جَاءَ ذَلِكَ الْوَقْتُ وَقَعَ الطَّلَاقُ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو شخص طلاق کے لیے وقت مقرر کرے، جب وہ وقت آ جائے تو طلاق واقع ہو جائے گی۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «إِذَا وَقَّتَ فِي الطَّلَاقِ وَالْعِتَاقِ وَقَعَ، وَإِذَا لَمْ يُوَقِّتْ لَمْ يَقَعْ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”طلاق اور آزادی میں وقت مقرر ہو تو واقع ہو جاتا ہے، اگر وقت مقرر نہ ہو تو واقع نہیں ہوتا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا عُبَيْدَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، مِثْلَهُ
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر طلاق یا آزادی کے لیے وقت مقرر کیا جائے تو واقع ہو جاتی ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ إِلَى سَنَةٍ فَهِيَ طَالِقٌ حِينَئِذٍ "
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب کوئی مرد اپنی بیوی سے کہے: تم ایک سال کے بعد طلاق ہو، تو وہ اسی وقت طلاق واقع ہو جائے گی۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، «أَنَّهُ كَانَ لَا يُؤَجِّلُ فِي الطَّلَاقِ»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ طلاق میں مہلت نہیں دیتے تھے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَيُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، «أَنَّهُ كَانَ لَا يُؤَجِّلُ فِي الطَّلَاقِ»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ بھی طلاق میں مہلت دینے کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔