حدیث نمبر: 2518
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّ نِسْوَةً مِنْ هَمْدَانَ قُتِلَ أَزْوَاجُهُنَّ، فَأَرْسَلْنَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَسْأَلْنَهُ عَنِ الْخُرُوجِ، فَقَالَ: «اخْرُجْنَ بِالنَّهَارِ، يُؤْنِسُ بَعْضُكُنَّ بَعْضًا، فَإِذَا كَانَ اللَّيْلُ فَلَا تُبِيتُنَّ عَنْ بُيُوتِكُنَّ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان عورتوں سے کہا جن کے شوہر قتل ہو گئے تھے: دن کے وقت باہر نکلو تاکہ ایک دوسری کو انس دو، اور جب رات ہو تو اپنے گھروں میں رہو۔
حدیث نمبر: 2519
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، وَالْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ نِسْوَةً مِنْ هَمْدَانَ قُتِلَ أَزْوَاجُهُنَّ فَاسْتَوْحَشْنَ، فَأَتَيْنَ ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَأَلْنَهُ، فَقَالَ " أَحَدُهُمَا: تَزَاوَرْنَ بِالنَّهَارِ. وَقَالَ الْآخَرُ: تَحَدَّثْنَ بِالنَّهَارِ مَا بَدَا لَكُنَّ، وَارْجِعْنَ بِاللَّيْلِ إِلَى بُيُوتِكُنَّ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دن کے وقت ملاقات کرو یا گفتگو کرو جتنا چاہو، لیکن رات کو اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ۔
حدیث نمبر: 2520
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: تُوُفِّيَ أَزْوَاجُ نِسْوَةٍ وَهُنَّ حَاجَّاتٌ أَوْ مُعْتَمِرَاتٌ، فَرَدَّهُنَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ يَعْتَدُّونَ فِي بُيُوتِهِنَّ
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان عورتوں کو جو حج یا عمرہ کے لیے نکلی تھیں اور ان کے شوہر وفات پا چکے تھے، ذوالحلیفہ سے واپس ان کے گھروں میں بھیجا تاکہ وہ عدت پوری کریں۔
حدیث نمبر: 2521
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «رَدَّ نِسْوَةً خَرَجْنَ حُجَّاجًا فِي عِدَّتِهِنَّ، فَرَدَّهُنَّ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ إِلَى بُيُوتِهِنَّ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان عورتوں کو جو حالت عدت میں حج پر روانہ ہوئیں تھیں، ذوالحلیفہ سے لوٹا دیا کہ اپنے گھروں میں عدت گزاریں۔
حدیث نمبر: 2522
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَكَانَتْ فِي عِدَّتِهَا، فَمَاتَ أَبُوهَا، فَسُئِلَ عَنْهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، «فَرَخَّصَ لَهَا أَنْ تَبِيتَ اللَّيْلَةَ وَاللَّيْلَتَيْنِ»
مظاہر امیر خان
ایک عورت کے باپ کے انتقال پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے اجازت دی کہ دو راتیں اپنے والد کے پاس قیام کرے۔
حدیث نمبر: 2523
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا لَا تَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهَا إِلَّا فِي حَقٍّ، عِيَادَةِ الْمَرِيضِ، أَوْ ذِي قَرَابَةٍ، أَوْ أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ، وَالْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا مِثْلُ ذَلِكَ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: جس عورت کا شوہر وفات پا جائے وہ بغیر کسی ضرورت کے گھر سے نہ نکلے، صرف بیمار کی عیادت یا ضروری کام کے لیے نکل سکتی ہے، اور جس عورت کو تین طلاقیں ہو چکی ہوں اس کا بھی یہی حکم ہے۔
حدیث نمبر: 2524
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا لَا تَخْرُجُ إِلَّا فِي حَقٍّ، عِيَادَةِ وَالِدٍ، أَوْ ذِي قَرَابَةٍ تَصِلُهُ، وَلَا تَبِيتُ إِلَّا فِي بَيْتِهَا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: بیوہ عورت صرف والد یا قریبی رشتہ دار کی عیادت کے لیے گھر سے نکلے اور رات اپنے گھر میں گزارے۔
حدیث نمبر: 2525
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنِ الْحَارِثِ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي، فَأَصْبَحَتْ غَادِيَةً إِلَى أَهْلِهَا. فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: «مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي دِينَهَا بِتَمْرَةٍ أَوْ تَمْرَتَيْنِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا: میں نے بیوی کو طلاق دی اور وہ صبح اپنے گھر چلی گئی، تو فرمایا: مجھے یہ پسند نہیں کہ اس کا دین میرے پاس ایک یا دو کھجوروں کے عوض ہو۔
حدیث نمبر: 2526
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، قَالَ: أنا أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ ابْنِ مَسْعُودٍ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: مَا تَرَى فِي امْرَأَةٍ طُلِّقَتْ، فَأَصْبَحَتْ عَائِدَةً إِلَى أَهْلِهَا؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي دِينَهَا بِتَمْرَةٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے یہ پسند نہیں کہ ایسی عورت کا دین میرے پاس ایک کھجور کے عوض ہو۔
حدیث نمبر: 2527
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «أَنَّهُ انْتَقَلَ أُمَّ كُلْثُومٍ ابْنَتَهُ حَيْثُ أُصِيبَ عُمَرُ، فَانْتَقَلَهَا فِي عِدَّتِهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی سیدہ ام کلثوم کو حالت عدت میں منتقل کیا جب سیدنا عمر شہید کیے گئے۔
حدیث نمبر: 2528
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا، أَتَخْرُجُ فِي عِدَّتِهَا؟ فَقَالَ: " كَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ أَشَدَّ شَيْئًا فِي ذَلِكَ، كَانُوا يَقُولُونَ: لَا تَخْرُجُ، وَكَانَ الشَّيْخُ - يَعْنِي عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يُرَحِّلُهَا "
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: صحابہ کرام، خاص طور پر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھی، بیوہ عورت کے گھر سے نکلنے پر سختی سے منع کرتے تھے، مگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اسے منتقل کر دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 2529
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا، قَالَ: «لَا تَخْرُجُ»
مظاہر امیر خان
حضرت عطاء اور جابر بن زید رحمہما اللہ نے فرمایا: بیوہ عورت کو گھر سے نہیں نکلنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 2530
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ - وَهِيَ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ ابْنِ أَخِي مَرْوَانَ - فَنَقَلَهَا أَبُوهَا فِي عِدَّتِهَا، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ إِلَى مَرْوَانَ: «اتَّقُوا اللَّهَ وَارْدُدُوا الْمَرْأَةَ إِلَى بَيْتِ زَوْجِهَا لِتَعْتَدَّ فِيهِ» فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا مَرْوَانُ: إِنَّ أَبَاهَا قَدْ غَلَبَنِي عَلَى ذَلِكَ. قَالَ يَحْيَى: فَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنَّ مَرْوَانَ حَيْثُ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِ عَائِشَةُ، فَقَالَ: أَمَا بَلَغَكِ حَدِيثُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ؟ فَقَالَتْ: دَعْ عَنْكَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ. فَقَالَ مَرْوَانُ: بِكِ الشَّرُّ؟ حَسْبُكِ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ مِنَ الشَّرِّ "
مظاہر امیر خان
سیدنا یحییٰ بن سعید بن عاص نے اپنی بیوی کو طلاق دی، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: خدا کا خوف کرو اور عورت کو شوہر کے گھر میں عدت گزارنے کے لیے واپس لے آؤ۔
حدیث نمبر: 2531
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَمْرِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، مَا بَالُهَا انْتَقَلَتْ؟ قَالَ: «لِأَنَّهَا بَذَتْ عَلَيْهِمْ وَهِيَ مَعَهُمْ فِي الدَّارِ، فَأَخْرَجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَمْ يَتْرُكْهَا تَنْتَقِلُ إِلَى أَهْلِهَا»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدہ فاطمہ بنت قیس نے جب اپنے شوہر کے ساتھ بدزبانی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوسرے گھر منتقل کر دیا۔
حدیث نمبر: 2532
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّهُ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ يُنْفِقُ عَلَيْهَا نَفَقَةَ دُونٍ، فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ قَالَتْ: وَاللَّهِ لَأُكَلِّمَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ كَانَتْ لِي نَفَقَةٌ أَخَذْتُ الَّذِي يُصْلِحُنِي. فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «لَا نَفَقَةَ لَكِ وَلَا سُكْنَى»
مظاہر امیر خان
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے شوہر نے مجھے طلاق دی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نفقہ کا سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ تمہارے لیے نفقہ ہے اور نہ رہائش۔
حدیث نمبر: 2533
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا سَيَّارٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي فَخَاصَمْتُ فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى لِي بِالسُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ، فَلَمَّا بَلَغَهُ أَنَّهُ طَلَّقَنِي ثَلَاثًا «لَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً، وَأُمِرْتُ أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ»، فَقِيلَ لَهُ: يُتَحَدَّثُ إِلَيْهَا. قَالَتْ: «فَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ»
مظاہر امیر خان
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ابتدا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نفقہ اور رہائش دی، مگر جب معلوم ہوا کہ طلاق بائن تھی، تو فرمایا: نہ تمہارے لیے نفقہ ہے اور نہ رہائش، اور حکم دیا کہ ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزارو۔
حدیث نمبر: 2534
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، وَحُصَيْنٌ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَأنا دَاوُدُ، وَمُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، فَسَأَلْتُهَا عَنْ قَضَاءِ، رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " طَلَّقَنِي زَوْجِي الْبَتَّةَ، فَخَاصَمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ، فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً، وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ. قَالَ مُجَالِدٌ فِي حَدِيثِهِ: يَا بِنْتَ آلِ قَيْسٍ، إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ عَلَى مَنْ لَهُ الرَّجْعَةُ "
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں سیدہ فاطمہ بنت قیس کے پاس گیا اور انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نفقہ اور رہائش نہیں دی، اور ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزارنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 2535
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْلُبُ السُّكْنَى وَالنَّفَقَةَ، فَقَالَ: «أَتَسْمَعِينَ يَا هَذِهِ؟ إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ لِمَنْ كَانَ لِزَوْجِهَا عَلَيْهَا الرَّجْعَةُ»
مظاہر امیر خان
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نفقہ اور رہائش کا سوال کرنے آئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سن لو، نفقہ اور رہائش صرف اس عورت کے لیے ہے جس پر شوہر کو رجوع کا حق ہو۔
حدیث نمبر: 2536
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَنا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ: «لَا نَدَعُ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ، لَا نَدْرِي لَعَلَّهَا نَسِيَتْ أَوْ شُبِّهَ لَهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو ایک ایسی عورت کی بات پر نہیں چھوڑ سکتے جس کے بارے میں معلوم نہیں کہ شاید بھول گئی ہو یا شبہ ہو گیا ہو۔
حدیث نمبر: 2537
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: ذُكِرَ لَهُ قَوْلُ عُمَرَ، فَقَالَ الشَّعْبِيُّ: " امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ ذَاتُ عَقْلٍ وَرَأْيٍ، أَتَنْسَى قَضَاءً قُضِيَ عَلَيْهَا؟
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا: جب عمر رضی اللہ عنہ کا قول سنایا گیا تو میں نے کہا: قریش کی عقلمند عورت ایسا فیصلہ بھول نہیں سکتی جس کا فیصلہ اس کے خلاف ہوا ہو۔
حدیث نمبر: 2538
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ وَعَبْدُ اللَّهِ «يَجْعَلَانِ لِلْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةَ» قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ إِذَا ذُكِرَ عِنْدَهُ حَدِيثُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا، قَالَ: «مَا كُنَّا نُجِيزُ فِي دِينِنَا شَهَادَةَ امْرَأَةٍ» . قَالَ سَعِيدٌ: وَقَوْلُ عُمَرَ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ هَذَا
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم طلاقِ ثلاثہ والی عورت کے لیے نفقہ اور رہائش لازم قرار دیتے تھے۔ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی روایت سنتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شوہر کے گھر کے علاوہ عدت گزارنے کا حکم دیا تھا تو فرماتے: ہم اپنے دین میں ایک عورت کی گواہی کو قبول نہیں کرتے۔ سعید کہتے ہیں: ہمیں عمر رضی اللہ عنہ کا قول زیادہ پسند ہے۔
حدیث نمبر: 2539
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا وَالْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا: «لَا سُكْنَى لَهَا وَلَا نَفَقَةَ وَتَعْتَدَانِ حَيْثُ شَاءَتَا»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: طلاقِ ثلاثہ والی اور بیوہ عورت کے لیے نہ نفقہ ہے نہ رہائش، اور دونوں جہاں چاہیں عدت گزار سکتی ہیں۔
حدیث نمبر: 2540
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حَجَّاجٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا، وَالْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجِهَا: «إِنَّهُمَا لَا سُكْنَى لَهُمَا وَلَا نَفَقَةَ، وَتَعْتَدَّانِ حَيْثُ شَاءَتَا، وَتَحُجَّانِ فِي عِدَّتِهِمَا إِنْ شَاءَتَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: طلاقِ ثلاثہ والی اور بیوہ عورت کے لیے نہ نفقہ ہے نہ رہائش، جہاں چاہیں عدت گزاریں اور چاہیں تو عدت میں حج کریں۔
حدیث نمبر: 2541
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، فَسُئِلَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، فَقَالَ: لَا تَبْرَحُ حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا. وَسُئِلَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَتَوْا سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: «لِتَمْكُثْ حَتَّى تَنْقَضِيَ الْعِدَّةُ، فَإِنِّي أَرْجُو إِنْ هِيَ فَعَلَتْ أَنْ تَزَوَّجَ لَيْلَةَ تَحِلُّ. فَفَعَلَتْ، فَتَزَوَّجَتْ لَيْلَةَ حَلَّتْ»
مظاہر امیر خان
جب مدینہ کی ایک عورت کا شوہر فوت ہو گیا تو قاسم بن محمد، سالم بن عبداللہ، اور سعید بن المسیب رحمہم اللہ نے فرمایا: عدت پوری ہونے تک وہ اپنے گھر میں رہے، اور اگر ایسا کرے تو جس رات حلال ہو اسی رات نکاح کر لے۔
حدیث نمبر: 2542
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ، عَنْ فُرَيْعَةَ بِنْتِ مَالِكٍ أُخْتِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْلَاجٍ لَهُ فَقُتِلَ بِطَرَفِ الْقَدُومِ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ , قَالَتْ: وَسَأَلْتُهُ النُّقْلَةَ إِلَى إِخْوَتِي. فَذَكَرَتْ حَالًا مِنْ حَالِهَا قَالَتْ: فَرَخَّصَ لِي، فَلَمَّا وَلَّيْتُ نَادَانِي: «امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا»
مظاہر امیر خان
سیدہ فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ ان کے شوہر قتل ہو گئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: اپنے گھر میں چار ماہ دس دن عدت پوری کرو۔
حدیث نمبر: 2543
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سُئِلَ عَنْ نِسَاءٍ، طُلِّقْنَ فِي الْقَنَاطِرِ، فَقَدِمْنَ الْكُوفَةَ، «فَأَمَرَهُنَّ إِبْرَاهِيمُ أَنْ يَرْجِعْنَ حَيْثُ طُلِّقْنَ يَعْتَدِدْنَ بِهَا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے ان عورتوں کو حکم دیا جو قناطر میں طلاق یافتہ ہو کر کوفہ آگئی تھیں: وہیں جا کر عدت گزارو جہاں طلاق ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 2544
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، وَمَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا , قَالَ: «تَحَوَّلُ إِنْ شَاءَتْ، وَتَلْبَسُ مَا شَاءَتْ»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: بیوہ عورت چاہے تو گھر بدل سکتی ہے اور جو کپڑے چاہے پہن سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 2545
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: " إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي ثَلَاثًا، وَإِنَّهَا أَبَتْ أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِهَا. قَالَ: لَا تَدَعْهَا. قَالَ: إِنَّهَا أَبَتْ إِلَّا أَنْ تَخْرُجَ. قَالَ: تُقَيِّدُهَا. قَالَ: إِنَّ لَهَا إِخْوَةً غَلِيظَةً رِقَابُهُمْ. قَالَ: اسْتَعْدِ عَلَيْهِمُ السُّلْطَانَ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے فرمایا: اگر تیری طلاق یافتہ بیوی عدت گھر میں گزارنے سے انکار کرے تو روکے رکھ، اگر انکار کرے تو اسے باندھ دے، اگر اس کے بھائی سخت ہوں تو حاکم سے مدد لو۔
حدیث نمبر: 2546
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: " تُوُفِّيَ رَجُلٌ وَامْرَأَتُهُ فِي بَيْتٍ بِأَجْرٍ، فَسُئِلَ إِبْرَاهِيمُ: أَيْنَ تَعْتَدُّ؟ قَالَ: أَرَى حَسَنًا أَنْ تُعْطِيَ الْكِرَاءَ، وَتَعْتَدَّ فِي الْبَيْتِ الَّذِي كَانَتْ فِيهِ "
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ اگر شوہر اور بیوی کرایہ کے مکان میں رہتے تھے اور شوہر فوت ہو جائے تو بیوی کہاں عدت کرے؟ فرمایا: بہتر ہے کرایہ دے کر اسی مکان میں عدت کرے۔
حدیث نمبر: 2547
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ فِي بَيْتٍ مُؤَاجَرَةٍ قَالَ: «تُقِيمُ فِيهِ حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا، وَعَلَى زَوْجِهَا أَجْرُ الْبَيْتِ»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: طلاق یافتہ عورت کرائے کے گھر میں عدت پوری کرے اور کرایہ شوہر کے ذمے ہو۔
حدیث نمبر: 2548
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: نا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ اشْتَكَى، فَأَتَتْ بِنْتٌ لَهُ تَعُودُهُ مُتَوَفًّى عَنْهَا زَوْجُهَا، فَلَمَّا كَانَ مِنَ اللَّيْلِ اسْتَأْذَنَتْهُ أَنْ تَبِيتَ، «فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى بَيْتِ زَوْجِهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی بیٹی شوہر کے انتقال کے بعد تیمارداری کے لیے ان کے پاس آئی، رات ٹھہرنے کی اجازت مانگی تو فرمایا: اپنے شوہر کے گھر لوٹ جاؤ۔
حدیث نمبر: 2549
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: قَالَ أَبِي: «الْمُطَلَّقَةُ لَا تَنْتَقِلُ، إِلَّا أَنْ يَنْتَوِيَ أَهْلُهَا فَتَنْتَوِيَ مَعَهُمْ»
مظاہر امیر خان
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: طلاق یافتہ عورت اپنے گھر میں ہی رہے، ہاں اگر اس کے گھر والے نکلیں تو وہ بھی جا سکتی ہے۔