حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، سَمِعَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، يَقُولُ: «إِنَّ نُفَيْعًا فَتَى أُمِّ سَلَمَةَ طَلَّقَ امْرَأَةً حُرَّةً تَطْلِيقَتَيْنِ، فَحَرَصُوا أَنْ يَرُدُّوهَا عَلَيْهِ، فَأَبَى ذَلِكَ عُثْمَانُ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ»
مظاہر امیر خان
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم نے نُفَیع کی بیوی کو واپس لانے سے انکار کر دیا جس نے دو طلاقیں دی تھیں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: «الطَّلَاقُ بِالرِّجَالِ وَالْعِدَّةُ بِالنِّسَاءِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: طلاق مردوں کے اختیار میں ہے اور عدت عورتوں کے ذمے ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، سَمِعَهُ يَقُولُ: «الطَّلَاقُ بِالرِّجَالِ وَالْعِدَّةُ بِالنِّسَاءِ»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: طلاق مرد کے اختیار میں ہے اور عدت عورت پر لازم ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: «يُطَلِّقُ الْحُرُّ الْأَمَةَ ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ، وَتَعْتَدُّ حَيْضَتَيْنِ، وَيُطَلِّقُ الْمَمْلُوكُ الْحُرَّةُ تَطْلِيقَتَيْنِ، وَتَعْتَدُّ ثَلَاثَ حِيَضٍ، فَالثَّلَاثُ بِالرِّجَالِ، وَالْعِدَّةُ بِالنِّسَاءِ»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: آزاد مرد لونڈی کو تین طلاق دے سکتا ہے اور اس کی عدت دو حیض ہے، غلام آزادہ عورت کو دو طلاق دے سکتا ہے اور اس کی عدت تین حیض ہے، پس طلاق مردوں کے ساتھ ہے اور عدت عورتوں کی۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَشْعَثُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «السُّنَّةُ بِالنِّسَاءِ فِي الطَّلَاقِ وَالْعِدَّةِ» .
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: طلاق اور عدت کا حکم عورتوں کے متعلق ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، وَابْنِ سِيرِينَ أَنَّهُمَا كَانَا يَقُولَانِ ذَلِكَ.
مظاہر امیر خان
حسن بصری اور ابن سیرین رحمہما اللہ نے فرمایا: طلاق اور عدت عورتوں کے متعلق ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، وَالْحَسَنِ، أَنَّهُمَا كَانَا يَقُولَانِ: «الطَّلَاقُ وَالْعِدَّةُ بِالنِّسَاءِ»
مظاہر امیر خان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: «يُطَلِّقُ الْمَمْلُوكُ الْحُرَّةَ ثَلَاثًا، وَيُطَلِّقُ الْحُرُّ الْمَمْلُوكَةَ تَطْلِيقَتَيْنِ»
مظاہر امیر خان
حضرت عکرفہ اللہ نے فرمایا: غلام آزادہ عورت کو تین طلاق دے سکتا ہے اور آزاد مرد لونڈی کو دو طلاق دے سکتا ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «الطَّلَاقُ وَالْعِدَّةُ بِالنِّسَاءِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: طلاق اور عدت عورتوں کے متعلق ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَمَّنْ قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «السُّنَّةُ بِالنِّسَاءِ فِي الطَّلَاقِ وَالْعِدَّةِ» .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: طلاق اور عدت میں سنت عورتوں کے متعلق ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
حضرت مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: طلاق اور عدت کا حکم عورتوں کے متعلق ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: «الطَّلَاقُ بِالنِّسَاءِ وَالْعِدَّةُ بِالنِّسَاءِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: طلاق اور عدت عورتوں کے متعلق ہے۔
وضاحت:
یہ اثر سنداً ضعیف ہے کیونکہ الحسن بن عمارة سخت ضعیف ہے،، لیکن چونکہ اثر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے موقوفاً منقول ہے، اور صحابہ کرام کے اقوال کا عمومی اعتبار فقہی استدلال میں ہوتا ہے، لہٰذا تائیدی دلیل کے طور پر اس کا ذکر ممکن ہے، مگر اکیلا قوی حجت نہیں۔