حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ: «يُنْفَقُ عَلَى الْحَامِلِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ» قَالَ: وَكَانَ أَصْحَابُنَا يَقُولُونَ: «إِذَا كَانَ الْمَالُ ذَا مِزٍّ أُنْفِقَ عَلَيْهَا مِنْ نَصِيبِهَا، وَإِنْ كَانَ الْمَالُ قَلِيلًا أُنْفِقَ عَلَيْهَا مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ»
مظاہر امیر خان
حضرت شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: بیوہ حاملہ عورت کا خرچ سارے مال سے دیا جائے۔ اور ہمارے اصحاب نے کہا: اگر مال زیادہ ہو تو اس کے حصے سے دیا جائے، کم ہو تو سارے مال سے دیا جائے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ , قَالَ: «لَهَا النَّفَقَةُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: بیوہ حاملہ عورت کا نفقہ تمام مال سے دیا جائے۔
وضاحت:
ھشیم مدلس ہیں اور یہاں عن سے روایت کر رہے ہیں۔، لیکن دیگر اسناد سے تائید کی وجہ سے مضمون کی صحت پر اثر نہیں پڑتا۔ متن: صحیح، قرآن اور دیگر احادیث سے ہم آہنگ، فقہی طور پر متفق علیہ۔ درجہ: اس سند کی حدیث حسن ہے، لیکن مضمون صحیح ہے کیونکہ اس کی تائید بخاری، مسلم، اور دیگر کتب سے ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا وَهِيَ حَامِلٌ , قَالَ: «لَهَا النَّفَقَةُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: بیوہ حاملہ عورت کا خرچ پورے مال سے دیا جائے۔
وضاحت:
ھشیم مدلس ہیں اور یہاں عن سے روایت کر رہے ہیں۔، لیکن دیگر اسناد سے تائید کی وجہ سے مضمون کی صحت پر اثر نہیں پڑتا۔ متن: صحیح، قرآن اور دیگر احادیث سے ہم آہنگ، فقہی طور پر متفق علیہ۔ درجہ: اس سند کی حدیث حسن ہے، لیکن مضمون صحیح ہے کیونکہ اس کی تائید بخاری، مسلم، اور دیگر کتب سے ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا سَيَّارٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: " أَرْسَلَ إِلَيَّ يَزِيدُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ يَسْأَلُنِي عَنِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا وَهِيَ حَامِلٌ، فَقُلْتُ لَهُ: يُنْفَقُ عَلَيْهَا مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ حَتَّى تَضَعَ، فَإِذَا وَضَعَتْ قُسِمَ الْمِيرَاثُ. فَقَالَ لِي يَزِيدُ: نَقْسِمُ الْمِيرَاثَ، فَنَعْزِلُ لِمَا فِي بَطْنِهَا نَصِيبَ الْغُلَامِ، فَإِنْ جَاءَتْ بِغُلَامٍ فَلَهُ نَصِيبُهُ، وَإِنْ جَاءَتْ بِجَارِيَةٍ أُعْطِيَتْ نَصِيبَهَا وَقُسِمَ مَا سِوَى ذَلِكَ بَيْنَ الْوَرَثَةِ؟ فَقُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ جَاءَتْ بِهِمَا تَوْأَمَاتٍ؟ فَإِنِّي أَنَا وَعَمْرَةَ - قُلْتُ: وَهِيَ أُخْتُ الشَّعْبِيِّ - وُلِدْنَا فِي بَطْنٍ "
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یزید بن ابی مسلم نے مجھ سے بیوہ حاملہ کے متعلق پوچھا تو میں نے کہا: اس پر سارا مال خرچ ہوگا جب تک بچہ پیدا نہ ہو۔ پھر یزید نے کہا: ہم میراث تقسیم کریں گے اور اس کے پیٹ میں بچے کے لیے لڑکے کا حصہ مخصوص کر دیں گے، اگر لڑکا ہوا تو اس کا حصہ دے دیں گے، اگر لڑکی ہوئی تو اس کا حصہ دیں گے، باقی میراث تقسیم کر دیں گے۔ میں نے کہا: اگر جڑواں پیدا ہو جائیں؟ کیونکہ میں اور میری بہن عمرة رحمہما اللہ ایک ہی پیٹ میں پیدا ہوئے تھے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: نا أَبُو هَاشِمٍ، عَنْ شُرَيْحٍ، وَإِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُمَا قَالَا: «نَفَقَةُ الْحَامِلِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ»
مظاہر امیر خان
حضرت شریح اور ابراہیم رحمہما اللہ نے فرمایا: بیوہ حاملہ پر سارا مال خرچ ہوگا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «نَفَقَتُهَا مِنْ نَصِيبِهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس پر اس کے اپنے حصے سے خرچ کیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، وَكَثِيرٌ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ قَالَ: «مِنْ نَصِيبِهَا»
مظاہر امیر خان
حضرت عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: اپنے حصے سے خرچ کیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَيْسَ لِلْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا نَفَقَةُ الْحَامِلِ» قَالَ سَعِيدٌ: وَهُوَ الْمَأْخُوذُ بِهِ
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: بیوہ حاملہ کے لیے خرچ نہیں۔ سعید کہتے ہیں: اسی پر عمل کیا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ: «إِنَّ لَهَا النَّفَقَةَ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ حَتَّى تَضَعَ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: بیوہ حاملہ پر سارا مال خرچ ہوگا جب تک بچہ پیدا نہ ہو۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَإِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُمَا كَانَ يَقُولَانِ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی اور ابراہیم رحمہما اللہ نے فرمایا: بیوہ حاملہ پر سارا مال خرچ ہوگا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَشْعَثُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «لَهَا النَّفَقَةُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ حَتَّى تَضَعَ»
مظاہر امیر خان
حضرت شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: بیوہ حاملہ پر سارا مال خرچ ہوگا جب تک بچہ پیدا نہ ہو۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، وَأَشْعَثُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «لَهَا النَّفَقَةُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ حَتَّى تَضَعَ مَا فِي بَطْنِهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیوہ حاملہ پر سارا مال خرچ ہوگا جب تک پیٹ کا بوجھ ہلکا نہ ہو۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حَجَّاجٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَا نَفَقَةَ لَهَا إِلَّا مِنْ نَصِيبِهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: بیوہ حاملہ کے لیے خرچ صرف اس کے اپنے حصے سے ہوگا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ، سَمِعَ الْحَكَمَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي صَادِقٍ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «لَهَا النَّفَقَةُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیوہ حاملہ پر سارا مال خرچ ہوگا۔
وضاحت:
من سمع الحکم (نامعلوم راوی): یہ مجہول راوی ہے، کیونکہ اس کی شناخت نہیں۔ علمائے حدیث کے اصول کے مطابق، مجہول راوی کی موجودگی سند کو ضعیف کرتی ہے، جب تک کہ دیگر اسناد سے تائید نہ ہو۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «نَفَقَتُهَا مِنْ نَصِيبِهَا»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: بیوہ حاملہ پر خرچ اس کے اپنے حصے سے ہوگا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، وَأَشْعَثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «لَا نَفَقَةَ لَهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: بیوہ حاملہ کے لیے کوئی خرچ نہیں۔
وضاحت:
ابن ابی لیلی اور اشعث بن سوار ضعیف ہیں، اور أبی زبیر کی تدلیس ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا، وَالْمُخْتَلِعَةِ، وَالْمُتَوَفَّى عَنْهَا وَهِيَ حَامِلٌ: «إِنَّ لَهُنَّ السُّكْنَى وَالنَّفَقَةَ حَتَّى تَنْقَضِيَ الْعِدَّةُ» .
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: طلاقِ ثلاثہ والی، خلع شدہ اور بیوہ حاملہ عورت کو عدت پوری ہونے تک نفقہ اور رہائش دونوں ملیں گے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ، سَمِعَ الْحَكَمَ، يُحَدِّثُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے اسی طرح فرمایا جیسا کہ مذکورہ ہوا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، فِي امْرَأَةٍ بَلَغَهَا أَنَّ زَوْجَهَا مَاتَ , وَقَدْ أَنْفَقَتْ مَالَهُ قَالَ: «يُحْسَبُ مَا أَنْفَقَتْ مِنْ يَوْمِ مَاتَ زَوْجُهَا، وَيُجْعَلُ مِنْ نَصِيبِهَا»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ کہتے کہ ہیں کہ اگر جن عورت وں نے خبر شالی کہ اس کے شوہر فوت ہو گیا اور اس نے مال خرچ کر لیا تو جو مال اس نے خرچ کیا وہ اس کے شوہر کے فوت ہونے کے دن سے شمار ہوگا اور اس کے اپنے حصے سے رکھا جائے گا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي أُمِّ الْوَلَدِ إِذَا مَاتَ عَنْهَا وَهِيَ حَامِلٌ: «إِنْ وَلَدَتْهُ حَيًّا فَنَفَقَتُهَا مِنْ نَصِيبِهِ، وَإِنْ كَانَ مَيِّتًا فَمِنْ جَمِيعِ الْمَالِ»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ام ولد نے زندہ بچہ جنا تو اس کا نفقہ اس بچے کے حصے سے ہے۔‘‘ اگر مردہ جنا تو سارا مال خرچ ہوگا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: كَانَ يَقُولُ: " يُنْفَقُ عَلَيْهَا مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ. قَالَ: كَانَ ذَلِكَ رَأْيَهُ، حَتَّى وَلِيَ تَرِكَةَ ابْنِ أَخٍ لَهُ , تَرَكَ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ وَهِيَ حَامِلٌ , فَكَرِهَ أَنْ يَعْمَلَ فِيهَا بِرَأْيِهِ , فَأَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ يَعْلَى قَاضِي الْبَصْرَةِ، فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: لَا نَفَقَةَ لَهَا "
مظاہر امیر خان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ الْأَمَةَ وَهِيَ حَامِلٌ فَلَيْسَ لَهَا نَفَقَةٌ؛ لِأَنَّ وَلَدَهُ لِقَوْمٍ آخَرِينَ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے کہ ہیں اگر کسی شخص کی حاملہ باندی کو طلاق دی تو اس کے لیے نفقہ نہیں، کیونکہ بچہ کسی اور قوم سے ہوگاہی۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا كَانَتِ الْأَمَةُ تَحْتَ الْحُرِّ أَوِ الْعَبْدِ، وَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ وَهِيَ حَامِلٌ، فَعَلَى زَوْجِهَا النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى حَتَّى تَضَعَ حَمْلَهَا»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر باندی کسی آزاد یا غلام کے نکاح میں ہو اور طلاق دو بار دے دی جائے جبکہ وہ حاملہ ہو تو شوہر پر نفقہ اور رہائش واجب ہے جب تک بچہ پیدا نہ ہو۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا طَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ وَهِيَ حَامِلٌ فَعَلَيْهِ النَّفَقَةُ، حُرَّةً كَانَتْ أَوْ أَمَةً، حُرًّا كَانَ زَوْجُهَا أَوْ عَبْدًا»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ اللہ فرماتے ہیں: اگر حاملہ عورت کو دو طلاقیں دی جائیں تو اس پر نفقہ واجب ہے، خواہ وہ آزاد ہو یا باندی، شوہر آزاد ہو یا غلام۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، «أَنَّهُ كَانَ يَرَى لِلْمَرْأَةِ النَّفَقَةَ عَلَى زَوْجِهَا حَتَّى يَدْخُلَ بِهَا»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ فرماتے کہ ہیں کہ عورت کے لیے نفقہ شوہر پر واجب ہے جب تک کہ وہ اس سے ہمبستری نہ کرے کہا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حُسَامُ بْنُ مِصَكٍّ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «لَا نَفَقَةَ لَهَا إِلَّا أَنْ تَطْلُبَ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ کہتے فرماتے ہیں کہ عورت کے لیے نفقہ ہے جہاں، جب تک وہ نفقہ کا مطالبہ نہ کرے کہا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُطَرِّفٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «لَيْسَ لَهَا النَّفَقَةُ عَلَى زَوْجِهَا إِذَا كَانَ الْحَبْسُ مِنْ قِبَلِهَا» .
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی کہ رحمہ کہتے ہیں کہ اگر قید عورت کی طرف سے ہو تو اس کے لیے شوہتے ہیں کہ کر سورہ پر نہ نفقہ ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَجَرِيرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے اسی کے مثل روایت ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «يُقْضَى لِلْمَرْأَةِ عَلَى زَوْجِهَا فِي قُوتِهَا نِصْفُ صَاعِ بُرٍّ كُلَّ يَوْمٍ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: عورت کا نفقہ اس کے شوہر پر یومیہ آدھا صاع گیہوں مقرر کیا جائے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «فُرِضَ لِلْمُطَلَّقَةِ نِصْفُ صَاعٍ كُلَّ يَوْمٍ مِنْ قَمْحٍ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: مطلقہ عورت کے لیے ہر دن آدھا صاع گیہوں فرض کیا گیا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، «أَنَّهُ قَضَى لِامْرَأَةٍ فِي قُوتِهَا بِخَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا بِالْحَجَّاجِيِّ، وَدِرْهَمَيْنِ لِدُهْنِهَا وَحَاجَتِهَا فِي كُلِّ شَهْرٍ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فیصلہ کیا کہ عورت کے کھانے کے لیے ہر مہینے پندرہ صاع حجاجی اناج اور تیل و دیگر ضروریات کے لیے دو درہم مقرر کیے جائیں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو وَكِيعٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: عَيَّرْنَا صَاعَ عُمَرَ فَوَجَدْنَاهُ حَجَّاجِيًّا ". قَالَ سَعِيدٌ: الْحَجَّاجِيُّ: مُدُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے صاع کو ناپا تو وہ حجاجی نکلا۔ سعید نے کہا: حجاجی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد کے برابر ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، فِي امْرَأَةٍ أَضَرَّ بِهَا زَوْجُهَا، «فَفَرَضَ لَهَا الشَّعْبِيُّ فِي كُلِّ شَهْرٍ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا وَدِرْهَمَيْنِ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے اس عورت کے لیے جسے شوہر نے نقصان پہنچایا تھا، ہر مہینے پندرہ صاع اناج اور دو درہم مقرر کیے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي الرَّجُلِ يَغِيبُ عَنِ امْرَأَتِهِ، وَلَا يَبْعَثُ إِلَيْهَا بِنَفَقَةٍ قَالَ: «تُغَذَّى عَلَى مَالِ زَوْجِهَا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر مرد اپنی بیوی سے دور ہو اور خرچ نہ بھیجے تو عورت شوہر کے مال سے اپنی غذا لے سکتی ہے۔