حدیث نمبر: 1835
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ مَرْثَدٍ الْيَزَنِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يُحَدِّثُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحَقَّ مَا وَفَّيْتُمْ بِهِ مِنَ الشَّرْطِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے زیادہ حق ادا کرنے کے لائق وہ شرط ہے جس سے تم نے عورتوں کے ساتھ نکاح کو حلال کیا ہو۔“
حدیث نمبر: 1836
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَ النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ قَالَ: سَمِعْتُ صُهَيْبَ بْنَ سِنَانٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَيُّمَا رَجُلٍ أَصْدَقَ امْرَأَةً صَدَاقًا وَاللَّهُ يَعْلَمُ مِنْهُ أَنَّهُ لَا يُرِيدُ أَدَاءَهُ إِلَيْهَا فَغَرَّهَا بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَاسْتَحَلَّ فَرْجَهَا بِالْبَاطِلِ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ يَلْقَاهُ وَهُوَ زَانٍ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ ادَّانَ مِنْ رَجُلٍ دَيْنًا وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُرِيدُ أَدَاءَهُ إِلَيْهِ، فَغَرَّهُ بِاللَّهِ وَاسْتَحَلَّ مَالَهُ بِالْبَاطِلِ، لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ يَلْقَاهُ وَهُوَ سَارِقٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی کسی عورت کو مہر دے اور اللہ جانتا ہے کہ وہ اس مہر کو ادا نہیں کرے گا، اور اس طرح عورت کو دھوکہ دے کر اس سے نکاح کرے، تو وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ زانی ہوگا۔ اور جو شخص کسی سے قرض لے اور نیت یہ ہو کہ واپس نہیں کرے گا، اللہ کے ہاں وہ چور ہوگا۔“
حدیث نمبر: 1837
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ، يَقُولُ: «إِذَا اشْتَرَطَ الرَّجُلُ لِلْمَرْأَةِ دَارَهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا»
مظاہر امیر خان
حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی مرد عورت سے شرط کرے کہ وہ اس کے گھر میں ہی رہے گی، تو اس شرط کے بدلے میں عورت کا نکاح جائز ہوگا۔“
حدیث نمبر: 1838
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: نا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ذُبَابٍ، عَنِ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنْ رَجُلٍ شَرَطَ لِامْرَأَةٍ دَارَهَا قَالَ: «يُخْرِجُهَا حَيْثُ شَاءَ»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب کسی شخص نے اپنی بیوی کو شرط کے طور پر اس کا گھر دے دیا ہو تو وہ جہاں چاہے اسے لے جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 1839
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ قَالَ: شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ فِي امْرَأَةٍ جَعَلَ لَهَا زَوْجُهَا دَارَهَا، فَقَالَ عُمَرُ: لَهَا شَرْطُهَا، فَقَالَ رَجُلٌ: إِذًا يُطَلِّقْنَنَا، فَقَالَ عُمَرُ: «إِنَّمَا مَقَاطِعُ الْحُقُوقِ عِنْدَ الشُّرُوطِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کا معاملہ آیا جس کے شوہر نے اس کے لیے گھر کی شرط رکھی تھی۔ آپ نے فرمایا: ”اس کو اس کی شرط ملے گی۔“ ایک آدمی نے کہا: ”پھر تو عورتیں ہمیں طلاق دلوائیں گی!“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حقوق کا فیصلہ شرطوں کے مطابق ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1840
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عُمَرَ حَيْثُ تَمَسُّ رُكْبَتِي رُكْبَتَهُ فَقَالَ رَجُلٌ لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ: تَزَوَّجْتُ هَذِهِ وَشَرَطْتُ لَهَا دَارَهَا، وَإِنِّي أَجْمَعُ لِأَمْرِي أَوْ لَشَأْنِي أَنِّي أَنْتَقِلُ إِلَى أَرْضِ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ: لَهَا شَرْطُهَا، فَقَالَ رَجُلٌ: هَلَكَتِ الرِّجَالُ إِذًا، لَا تَشَاءُ امْرَأَةٌ أَنْ تُطَلِّقَ زَوْجَهَا إِلَّا طَلَّقَتْ، فَقَالَ عُمَرُ: «الْمُسْلِمُونَ عَلَى شَرْطِهِمْ عِنْدَ مَقَاطِعِ حُقُوقِهِمْ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص نے کہا: ”میں نے ایک عورت سے نکاح کیا اور اس کے لیے گھر کی شرط رکھی، اور اب میں دوسرے علاقے میں جانا چاہتا ہوں۔“ آپ نے فرمایا: ”اس کو اس کی شرط ملے گی۔“ ایک شخص نے کہا: ”اس طرح تو مرد ہلاک ہو جائیں گے!“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مسلمان اپنی شرطوں پر قائم رہتے ہیں جب حقوق کا فیصلہ ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1841
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ قَالَ: نا عَبْدُ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيُّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ أُتِيَ فِي ذَلِكَ فَاسْتَشَارَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ فَقَالَ: «لَهَا شَرْطُهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایسا ہی معاملہ آیا تو انہوں نے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا۔ انہوں نے کہا: ”عورت کو اس کی شرط ملے گی۔“
حدیث نمبر: 1842
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ قَيْسٍ الْمَاصِرِ، قَالَ: شَهِدْتُ شُرَيْحًا وَأَتَاهُ رَجُلٌ وَقَالَ: إِنِّي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، فَقَالَ: «مَرْحَبًا بِالْبَقِيَّةِ» قَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فَقَالَ: «بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينِ» قَالَ: شَرَطْتُ لَهَا دَارَهَا، قَالَ: «الْمُسْلِمُونَ عِنْدَ شُرُوطِهِمْ» قَالَ: اقْضِ بَيْنَنَا، قَالَ: «قَدْ فَعَلْتُ»
مظاہر امیر خان
حضرت شریح رحمہ اللہ کے پاس ایک شامی شخص آیا، اس نے کہا: ”میں نے ایک عورت سے نکاح کیا اور اس کے لیے گھر کی شرط رکھی۔“ حضرت شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مسلمان اپنی شرطوں پر قائم رہتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 1843
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: جَاءَ عَدِيُّ بْنُ أَرْطَاةَ إِلَى شُرَيْحٍ فَقَالَ: إِنِّي امْرُؤٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، فَقَالَ: «مَرْحَبًا بِكَ وَأَهْلًا» قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، قَالَ: " بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ، أَوْ قَالَ: بِالرِّفْعَةِ وَالْبَنِينَ " قَالَ: شَرَطْتُ لَهَا دَارَهَا، قَالَ: «الشَّرْطُ أَمْلَكُ» قَالَ: أَرَدْتُ الرُّجُوعَ إِلَى أَهْلِي، قَالَ: «أَنْتَ أَحَقُّ بِأَهْلِكَ» قَالَ: فَأَيْنَ أَنْتَ؟ قَالَ: «بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْجِدَارِ» قَالَ: فَاقْضِ بَيْنَنَا، قَالَ: «قَدْ فَعَلْتُ»
مظاہر امیر خان
حضرت شریح رحمہ اللہ کے پاس حضرت عدی بن ارطاة رحمہ اللہ آئے اور کہا: ”میں نے ایک عورت سے نکاح کیا اور اس کے لیے گھر کی شرط رکھی۔“ حضرت شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”شرط زیادہ مضبوط ہے۔“
حدیث نمبر: 1844
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبَّادٍ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ وَشَرَطَ لَهَا دَارَهَا، قَالَ: «شَرْطُ اللَّهِ قَبْلَ شَرْطِهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی شرط عورت کی شرط پر مقدم ہے۔“
حدیث نمبر: 1845
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «يَجُوزُ النِّكَاحُ وَيَبْطُلُ الشَّرْطُ» .
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”نکاح درست ہو جاتا ہے لیکن شرط باطل ہو جاتی ہے۔“
حدیث نمبر: 1846
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا: ”نکاح درست ہو جاتا ہے اور شرط باطل ہو جاتی ہے۔“
حدیث نمبر: 1847
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: نا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَشَرَطَ لَهَا أَنْ لَا يُخْرِجَهَا فَوَضَعَ عَنْهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الشَّرْطَ، وَقَالَ: «الْمَرْأَةُ مَعَ زَوْجِهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک شخص نے عورت سے نکاح کیا اور شرط رکھی کہ وہ اسے گھر سے نہ نکالے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی شرط کو کالعدم قرار دے کر فرمایا: ”عورت اپنے شوہر کے ساتھ ہے۔“
حدیث نمبر: 1848
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ أَنَّ عَلِيًّا، وَابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا سُئِلَا عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَشَرَطَتْ عَلَيْهِ أَنَّ بِيَدِهَا الْفُرْقَةَ وَالْجِمَاعَ وَعَلَيْهَا الصَّدَاقُ فَقَالَا: «عَمِيتَ عَنِ السُّنَّةِ، وَوَلَّيْتَ الْأَمْرَ غَيْرَ أَهْلِهِ، عَلَيْكَ الصَّدَاقُ وَبِيَدِكَ الْفِرَاقُ وَالْجِمَاعُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا کہ اس نے ایک عورت سے نکاح کیا اور عورت نے شرط رکھی کہ طلاق اور رجوع اس کے ہاتھ میں ہو گا اور مہر بھی اسی پر ہو گا۔ دونوں نے فرمایا: ”تو نے سنت سے منہ موڑا اور غیر اہل کو معاملہ سونپ دیا، مہر تیرے ذمے ہے اور طلاق اور رجوع تیرے اختیار میں ہیں۔“
حدیث نمبر: 1849
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، وَأَبُو عَوَانَةَ عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: «كُلُّ شَرْطٍ فِي نِكَاحٍ فَإِنَّ النِّكَاحَ يَهْدِمُهُ إِلَّا الطَّلَاقَ، وَكُلُّ شَرْطٍ فِي بَيْعٍ فَإِنَّ الْبَيْعَ يَهْدِمُهُ إِلَّا الْعِتَاقَ» .
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہر وہ شرط جو نکاح میں ہو نکاح اسے توڑ دیتا ہے سوائے طلاق کے، اور ہر شرط جو خرید و فروخت میں ہو خرید و فروخت اسے توڑ دیتی ہے سوائے آزادی کے۔“
حدیث نمبر: 1850
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُطَرِّفٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے یہی بات فرمائی۔
حدیث نمبر: 1851
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ شُرَيْحٍ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: يَا أَبَا أُمَيَّةَ إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ أَتَانِي، وَلَا يَرْجُو أَنْ يَتَزَوَّجَنِي، فَقُلْتُ لَهُ: هَلْ لَكَ أَنْ تَزَوَّجَنِي قَالَ: أَتَسْخَرِينَ بِي فَزَوَّجْتُهُ نَفْسِي، وَأَعْطَيْتُهُ مِنَ الَّذِي لِي أَرْبَعَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ، وَأَتْجَرْتُهُ فِي مَالِي حَتَّى عَمُرَ مَالُهُ فِي مَالِي كَالرَّقْمَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ فَزَعَمَ أَنَّهُ مُطَلِّقِي وَيَتَزَوَّجُ عَلَيَّ فَقَالَ شُرَيْحٌ لِلرَّجُلِ: مَا تَقُولُ؟ قَالَ: صَدَقَتْ فَسَأَلَ شُرَيْحٌ الْمَلَأَ حَوْلَهُ، فَزَعَمُوا أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَاهُ مِثْلُ الَّذِي أَتَاكَ، فَقَالَ: " أَنْتَ أَحَقُّ بِالطَّلَاقِ وَالنِّكَاحِ مَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ أَرْبَعَةِ نِسْوَةٍ، فَإِنْ أَنْتَ طَلَّقْتَ فَالطَّلَاقُ بِيَدِكَ، وَارْدُدْ إِلَيْهَا مَالَهَا، وَمِثْلُهُ مِنْ مَالِكَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، فَقَالَ شُرَيْحٌ: هَذَا الَّذِي بَلَغَنَا عَنْهُ، هُوَ قَضَائِي بَيْنَكُمَا قُومَا "
مظاہر امیر خان
حضرت شریح رحمہ اللہ کے پاس ایک عورت آئی اور کہا: ”اے ابو امیہ! یہ مرد میرے پاس آیا تھا، نکاح کا ارادہ نہیں تھا، میں نے کہا: ’کیا تم مجھ سے نکاح کرو گے؟‘ اس نے کہا: ’کیا مذاق کر رہی ہو؟‘ تو میں نے خود کو اس کے نکاح میں دے دیا اور چار ہزار درہم مال بھی دیا، پھر اس کے مال کو بڑھایا۔ اب یہ مجھے طلاق دینا چاہتا ہے اور دوسری شادی کرنا چاہتا ہے۔“ شریح نے مرد سے پوچھا، اس نے تصدیق کی۔ پھر شریح نے مجلس سے پوچھا تو بتایا گیا کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس ایسا مقدمہ آیا تھا، انہوں نے فیصلہ دیا تھا: ”طلاق اور نکاح مرد کے ہاتھ میں ہے، چاہے تو چار عورتوں تک نکاح کرے، اگر طلاق دے تو طلاق مرد کے ہاتھ میں ہے اور عورت کو اس کا مال اور اتنا ہی مزید مال دے جس سے اس نے اس کا بدن حلال کیا۔“ شریح نے فرمایا: ”یہی ہمارا فیصلہ ہے، اٹھو!“
حدیث نمبر: 1852
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ «أَنَّهُ كَانَ يَرَى تَزْوِيجَ الرَّجُلِ الْمَرْأَةَ عَلَى أَنْ يُحِجَّهَا جَائِزًا، فَإِنْ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَلَهَا نِصْفُ مَا يَحُجُّ بِهِ مِثْلُهَا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص عورت سے نکاح اس شرط پر کرے کہ وہ اسے حج کرائے گا، تو نکاح درست ہے، اگر دخول سے پہلے طلاق دے تو آدھا خرچ جو اس کے مثل حج پر آتا ہے، دینا ہو گا۔“
حدیث نمبر: 1853
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ «أَنَّهُ كَانَ يَرَى النِّكَاحَ عَلَى الْبَيْتِ وَالْخَادِمِ جَائِزًا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”گھر اور خادم پر نکاح کرنا جائز ہے۔“
حدیث نمبر: 1854
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: «لَا بَأْسَ أَنْ يَتَزَوَّجَ الرَّجُلُ عَلَى الْبَيْتِ وَالْخَادِمِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مرد کے لیے جائز ہے کہ عورت سے گھر اور خادم پر نکاح کرے۔“
حدیث نمبر: 1855
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَشَرَطَ لَهَا دَارًا فَأَعْطَاهَا الْعُهُودَ وَالْمَوَاثِيقَ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، فَسَأَلَ الْقَاسِمَ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَا: «لَا يَنْبَغِي لِعُهُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تُتَخَطَّى»
مظاہر امیر خان
حضرت قاسم اور حضرت سالم رحمہما اللہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسموں اور عہدوں کو توڑنا درست نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 1856
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ الْكَلَاعِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ فِي رَجُلٍ خَطَبَ إِلَى رَجُلٍ ابْنَتَهُ أَوْ أُخْتَهُ، فَقَالَ: لَا أَفْعَلُ إِلَّا أَنْ تُطَلِّقَ امْرَأَتَكَ، فَطَلَّقَهَا وَاحِدَةً ثُمَّ تَزَوَّجَ هَذِهِ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُرَاجِعَ الْأُولَى، قَالَ: «ذَلِكَ لَهُ» قَالَ: وَكَيْفَ؟ إِنْ كَانَ قَالَ الَّذِي أَنْكَحَهُ: إِنَّمَا أَنْكَحْتُكَ عَلَى فِرَاقِ امْرَأَتِكِ، وَقَالَ الْآخَرُ: إِنَّمَا شَرَطْتُ لَكَ أَنْ أُطَلِّقَهَا فَقَدْ طَلَّقْتُهَا، وَأَنَا مُرَاجِعُهَا؟ فَقَالَ مَكْحُولٌ: يُرَاجِعُهَا إِنْ شَاءَ "
مظاہر امیر خان
حضرت مکحول رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص کسی سے کہے: ’اپنی بیوی کو طلاق دو تو میں اپنی بیٹی یا بہن تجھ سے نکاح کروں گا،‘ اور وہ طلاق دے کر نکاح کرے، پھر اپنی پہلی بیوی سے رجوع کرنا چاہے تو رجوع کر سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1857
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فِي رَجُلٍ شَرَطَ لِامْرَأَةٍ دَارَهَا، فَقَالَ: «لَا يُخْرِجُهَا إِلَّا أَنْ تَشَاءَ لِأَنَّ مَقَاطِعَ الْحُقُوقِ الشُّرُوطُ» وَكَانَ مَكْحُولٌ يَرَاهُ
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس شخص نے نکاح میں عورت کے لیے گھر کی شرط رکھی ہو تو وہ عورت کو بغیر اس کی مرضی کے نکال نہیں سکتا، کیونکہ حقوق کا فیصلہ شرطوں پر ہوتا ہے۔“ حضرت مکحول رحمہ اللہ بھی اسی کے قائل تھے۔