حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ «أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بِتَزْوِيجِ النَّهَارِيَّاتِ بَأْسًا، وَكَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَكْرَهُ ذَلِكَ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”دن کی شادیوں (نہاری نکاح) میں کوئی حرج نہیں۔“ اور حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ اسے ناپسند کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عنِ الْحَسَنِ فِي الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ وَيَجْعَلُ لَهَا مِنَ الشَّهْرِ أَيَّامًا مَعْلُومَةً «فَلَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا وَكَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَكْرَهُ ذَلِكَ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی مرد عورت سے نکاح کرے اور مہینے کے کچھ دن مقرر کرے تو کوئی حرج نہیں۔“ اور حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ اسے مکروہ سمجھتے تھے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، وَعَطَاءٍ «أَنَّهُمَا كَانَا لَا يَرَيَانِ بِتَزْوِيجِ النَّهَارِيَّاتِ بَأْسًا»
مظاہر امیر خان
حسن بصری اور حضرت عطا رحمہما اللہ نے فرمایا: ”دن کی شادیوں میں کوئی حرج نہیں۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا مُطَرِّفٌ، عَنِ الْحَكَمِ، وَحَمَّادٍ «أَنَّهُمَا كَانَا يَكْرَهَانِ ذَلِكَ»
مظاہر امیر خان
حضرت حکم بن عتیبہ اور حضرت حماد رحمہما اللہ دن کی شادیوں کو ناپسند کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الْحَكَمِ، وَحَمَّادٍ قَالَا: «هَذَا شَرْطٌ فَاسِدٌ»
مظاہر امیر خان
حضرت حکم بن عتیبہ اور حضرت حماد رحمہما اللہ نے فرمایا: ”یہ شرط فاسد ہے۔“