حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: «كُرِهَ نِكَاحُ بِنْتَيِ الْعَمِّ لِفَسَادٍ بَيْنَهُمَا»
مظاہر امیر خان
حضرت عطا رحمہ اللہ نے فرمایا: ”چچازاد بہنوں کا نکاح مکروہ سمجھا جاتا تھا تاکہ ان کے درمیان فساد نہ پیدا ہو۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ «أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ بِنْتَيِ الْعَمِّ وَبَيْنَ بِنْتَيِ الْخَالِ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”چچازاد اور خالہ زاد بہنوں کا نکاح ایک ساتھ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ ابْنًا لِعَلِيٍّ جَمَعَ بَيْنَ ابْنَتَيِ الْعَمِّ لَمْ يَكُنْ أَعْلَمَ بِذَلِكَ الْعَمَّيْنِ، فَأَصْبَحَتْ نِسَاءٌ لَا يَدْرِينَ إِلَى مَنْ يَذْهَبْنَ إِلَى هَذِهِ، أَوْ إِلَى هَذِهِ، فَقَالَ عَمْرٌو: فَقُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ: مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ؟ قَالَ: «هُوَ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْهُمَا»
مظاہر امیر خان
حسن بن محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بیٹے نے دو چچازاد بہنوں کا نکاح کر لیا اور دونوں فریقین کو اس نکاح کا علم نہیں تھا۔ عورتیں حیران تھیں کہ کس کے ساتھ رہیں۔ حسن بن محمد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہمیں دونوں میں سے یہ نکاح زیادہ پسند آیا۔“