کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: بیوی کی اپنی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح کرنے کی ممانعت کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، أَوْ عَلَى خَالَتِهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع کیا جائے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ، عَلَى ابْنَةِ أَخِيهَا وَعَلَى خَالَتِهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کو اس کی بھتیجی یا خالہ پر نکاح نہ کیا جائے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ عَلَى خَالَتِهَا، وَنَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى ابْنَةِ أَخِيهَا أَوِ ابْنَةِ أُخْتِهَا، نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى، أَوِ الصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ پر نکاح نہ کیا جائے، نہ بھتیجی یا بھانجی پر نکاح کیا جائے، اور نہ بڑی بہن پر چھوٹی کو نکاح میں جمع کیا جائے، نہ چھوٹی پر بڑی کو۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا، وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا وَلِتُزَوَّجَ فَإِنَّمَا لَهَا مَا كُتِبَ لَهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ پر نکاح نہ کیا جائے، اور نہ کوئی عورت اپنی بہن کو طلاق دلوانے کی کوشش کرے تاکہ اس کے کھانے کا حصہ کم ہو جائے اور وہ نکاح کر لے، کیونکہ اس کو وہی ملے گا جو اس کے لیے لکھا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَلَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ خَالَتِهَا، وَلَا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرِغَ مَا فِي صَحْفَتِهَا وَتُنْكَحَ فَإِنَّمَا لَهَا مَا قُدِّرَ لَهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ پر نکاح میں جمع نہ کیا جائے، اور نہ کوئی عورت اپنی بہن کو طلاق دلوانے کی کوشش کرے تاکہ اس کا حصہ حاصل کر لے، کیونکہ اس کو وہی ملے گا جو اس کے لیے مقدر ہے۔“