سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ باب: اُن باندیوں کے بارے میں بیان جن کے بطن سے مالک کے اولاد پیدا ہو (یعنی امہات الأولاد)۔
حدیث نمبر: 3223
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبِيدَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَعَلِيًّا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا " أَعْتَقَا أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، فَقَضَى بِذَلِكَ عُمَرُ حَتَّى أُصِيبَ، ثُمَّ وَلِيَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَضَى بِذَلِكَ حَتَّى أُصِيبَ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَلَمَّا وُلِّيتُ فَرَأَيْتُ أَنْ أُرِقَّهُنَّ " قَالَ عَبِيدَةُ: فَرَأْيُ عُمَرَ وَعَلِيٍّ فِي جَمَاعَةٍ أَمْثَلُ مِنْ رَأْيِ عَلِيٍّ وَحْدَهُ فِي الْفُرْقَةِ "مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما نے امہات الاولاد کو آزاد کر دیا تھا، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں اسی پر فیصلہ دیا، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی یہی فیصلہ جاری رہا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب خلافت مجھے ملی تو میں نے چاہا کہ ان عورتوں کو دوبارہ غلامی میں رکھا جائے۔“ حضرت عبیدہ رحمہ اللہ نے کہا: ”عمر اور علی رضی اللہ عنہما کی جماعت کا رائے علیحدہ علی رضی اللہ عنہ کی انفرادی رائے سے افضل ہے۔“