کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: جس نے کسی شخص کے لیے اپنے مکاتب سے لوگوں کے فرض اور نفل صدقات وصول کرنے کو مکروہ نہیں سمجھا۔
حدیث نمبر: 21665
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، وَأَكَلَ مِنْ صَدَقَةٍ تُصُدِّقَ بِهَا عَلَى بَرِيرَةَ وَقَالَ: " هِيَ لَنَا هَدِيَّةٌ، وَعَلَيْهَا صَدَقَةٌ "..
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ صدقہ نہیں کھاتے تھے، (لیکن) آپ ﷺ نے اس صدقے میں سے کھایا جو سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا تھا، اور فرمایا: ”یہ ہمارے لیے ہدیہ ہے اور اس (بریرہ) پر صدقہ ہے۔“...“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21665
حدیث نمبر: 21665
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ: خُيِّرَتْ عَلَى زَوْجِهَا حِينَ أُعْتِقَتْ، وَأُهْدِيَ لَهَا لَحْمٌ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْبُرْمَةُ عَلَى ⦗٥٥٢⦘ النَّارِ، فَدَعَا بِطَعَامٍ فَأُتِيَ بِخُبْزٍ وَأَدَمٍ مِنْ أَدَمِ الْبَيْتِ، فَقَالَ: " أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً عَلَى النَّارِ فِيهَا لَحْمٌ؟ "، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَكَرِهْنَا أَنْ نُطْعِمَكَ مِنْهُ، فَقَالَ: " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ مِنْهَا لَنَا هَدِيَّةٌ ". وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا: " إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ بریرہ (رضی اللہ عنہا) کے بارے میں تین طریقے (سنتیں) ثابت ہوئیں:
1. آزادی کے بعد انہیں ان کے خاوند کے بارے میں اختیار دیا گیا، 2. انہیں گوشت تحفے میں دیا گیا، نبی ﷺ تشریف لائے اور ہنڈیا آگ پر چڑھی ہوئی تھی، آپ ﷺ نے کھانا طلب فرمایا تو روٹی اور گھر کا (عام) سالن پیش کیا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں نے چولہے پر رکھی ہوئی ہنڈیا میں گوشت نہیں دیکھا؟“ عرض کیا گیا: یہ بریرہ پر صدقہ کیا گیا ہے، تو ہم نے ناپسند کیا کہ آپ ﷺ کو کھلائیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: «هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ» ”وہ اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“ اور (3) آپ ﷺ نے فرمایا کہ «الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ» ”ولاء (وراثت کا حق) آزاد کرنے والے کے لیے ہی ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21665
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ متفق عليه»