کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس نے اپنے غلام کو مکاتب بنانے کو مکروہ نہیں سمجھا، اگرچہ وہ طاقتور اور امانت دار نہ ہو۔
حدیث نمبر: 21619
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ، عَنْ حِزَامِ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى عُمَيْرِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ مَنْ قِبَلَكَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَنْ يُكَاتِبُوا أَرِقَّاءَهُمْ عَلَى مَسْأَلَةِ النَّاسِ ".
حافظ ثناء اللہ
حرام بن حکیم فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمیر بن سعید رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ مسلمانوں کو منع کریں کہ وہ لوگوں سے سوال کرنے پر غلاموں سے مکاتبت کریں۔
حدیث نمبر: 21620
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْفَرَّاءِ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ أَبِي ثَرْوَانَ الْحَارِثِيُّ، عَنِ ابْنِ التَّيَّاحِ، أَنَّهُ أَتَى عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أُرِيدُ أَنْ أُكَاتِبَ، فَقَالَ: " أَعِنْدَكَ شَيْءٌ؟ "، قَالَ: لَا، قَالَ: فَجَمَعَهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: " أَعِينُوا أَخَاكُمْ "، فَجَمَعُوا لَهُ، قَالَ: فَبَقِيَ بَقِيَّةٌ عَنْ مُكَاتَبَتِهِ قَالَ: فَأَتَى عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ عَنِ الْفَضْلَةِ، فَقَالَ: " اجْعَلْهَا فِي الْمُكَاتَبِينَ ". هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْمُكَاتَبَ إِنَّمَا يُعْطَى مِنَ الصَّدَقَاتِ مِنْ سَهْمِ الرِّقَابِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَنْ يَعْتِقَ..
حافظ ثناء اللہ
ابن نباح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: میں مکاتبت کا ارادہ رکھتا ہوں، انہوں نے پوچھا: کیا تیرے پاس کوئی چیز ہے؟ کہنے لگے: نہیں۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو اور اس کے لیے مال جمع کرو۔ وہ کہتے ہیں: جو باقی بچے اس سے مکاتبت کر لینا، پھر وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور باقی ماندہ کے بارے میں سوال کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: آپ ان کو مکاتبین میں شمار کریں۔ یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ مکاتب آدمی صدقات سے پیسے وصول کر کے آزادی حاصل کر سکتا ہے۔