کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس نے کہا: آدمی پر واجب ہے کہ وہ اپنے طاقتور اور امانت دار غلام کو مکاتب بنائے، اور جس نے کہا: اسے اس پر مجبور نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس بات کا احتمال ہے کہ یہ آیت بطورِ رہنمائی یا اباحت (جواز) ہو نہ کہ بطورِ فرض (حتمی)۔
حدیث نمبر: 21615
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: أَرَادَنِي سِيرِينُ عَلَى الْمُكَاتَبَةِ فَأَبَيْتُ عَلَيْهِ، فَأَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَأَقْبَلَ عَلَيَّ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - يَعْنِي: بِالدِّرَّةِ فَقَالَ: " كَاتِبْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیرین نے مجھ سے مکاتبت کا ارادہ کیا، میں نے انکار کر دیا، وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے تذکرہ کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کوڑا لے کر میرے پاس آئے اور کہنے لگے: مکاتبت کرو۔
حدیث نمبر: 21616
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَوَاجِبٌ عَلَيَّ إِذَا عَلِمْتُ أَنَّ فِيهِ خَيْرًا أَنْ أُكَاتِبَهُ؟ قَالَ: " مَا أَرَاهُ إِلَّا وَاجِبًا ". وَقَالَهَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَقُلْتُ لِعَطَاءٍ: تَأْثُرُهَا عَنْ أَحَدٍ؟ قَالَ: لَا.
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: کیا مکاتبت کرنا میرے اوپر لازم ہے، اگر غلام کے پاس مال ہو؟ انہوں نے کہا: میں اسے واجب خیال کرتا ہوں۔ عمرو بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: کیا آپ اسے کسی سے نقل کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔
حدیث نمبر: 21617
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: " لَيْسَتْ بِعَزْمَةٍ، إِنْ شَاءَ كَاتَبَ، وَإِنْ شَاءَ لَمْ يُكَاتِبْ ". ⦗٥٣٩⦘ وَرُوِّينَا مِثْلَهُ عَنِ الشَّعْبِيِّ..
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مکاتبت کرنا ضروری نہیں ہے، اگر چاہے تو مکاتبت کر لے، اگر نہ چاہے تو نہ کرے۔
حدیث نمبر: 21618
وَفِيمَا رَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَى، عَنْ حِبَّانَ بْنِ أَبِي جَبَلَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ أَحَدٍ أَحَقُّ بِمَالِهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَذَكَرَهُ. هَذَا مُرْسَلٌ، حِبَّانُ بْنُ أَبِي جَبَلَةَ الْقُرَشِيُّ مِنَ التَّابِعِينَ..
حافظ ثناء اللہ
حبان بن ابی جیلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر ایک اپنے مال کا زیادہ حق دار ہے اپنی اولاد، والدین اور تمام لوگوں سے۔“