حدیث نمبر: 21600
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا} [النور: 33] قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا أَذِنَ أَنْ يُكَاتِبَ مَنْ يَعْقِلُ مَا يَطْلُبُ، لَا مَنْ لَا يَعْقِلُ أَنْ يَبْتَغِيَ الْكِتَابَةَ مِنْ صَبِيٍّ وَلَا مَعْتُوهٍ.
حافظ ثناء اللہ
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا﴾ ”اور تمہارے غلاموں میں سے جو مکاتبت (کا معاہدہ) کرنا چاہیں تو ان سے مکاتبت کر لو اگر تم ان میں بھلائی جانتے ہو۔“ [سورة النور: 33]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف اسی (غلام) سے مکاتبت کی اجازت دی ہے جو یہ سمجھتا ہو کہ وہ کیا طلب کر رہا ہے، نہ کہ اس سے جو مکاتبت طلب کرنے کی سمجھ ہی نہ رکھتا ہو، جیسے بچہ یا دیوانہ۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف اسی (غلام) سے مکاتبت کی اجازت دی ہے جو یہ سمجھتا ہو کہ وہ کیا طلب کر رہا ہے، نہ کہ اس سے جو مکاتبت طلب کرنے کی سمجھ ہی نہ رکھتا ہو، جیسے بچہ یا دیوانہ۔“
حدیث نمبر: 21600
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَفِيقَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَبْلُغَ ". وَرَوَيْنَا فِيمَا مَضَى، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ..
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تین اشخاص سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: سونے والا یہاں تک کہ بیدار ہو اور پاگل کہ کچھ افاقہ ہو جائے اور بچہ کہ بالغ ہو جائے۔“