کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: کافر کے غلام آزاد کرنے اور اسے مدبر بنانے کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ عَتَاقَةٍ وَصِلَةِ رَحِمٍ، هَلْ لِي فِيهَا مِنْ أَجْرٍ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَلَفَ لَكَ مِنْ خَيْرٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مَعْمَرٍ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ، سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کا کیا خیال ہے ان کاموں کے بارے میں جو میں جاہلیت میں عبادت کے طور پر کیا کرتا تھا، یعنی غلام آزاد کرنا اور صلہ رحمی، کیا مجھے ان میں کوئی اجر ملے گا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے اسلام قبول کیا ہے اس پر جو بھلائی پہلے گزر چکی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المدبر / حدیث: 21596
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ شَيْئًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ هِشَامٌ: يَعْنِي: أَتَبَرَّرُ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْلَمْتَ عَلَى صَالِحِ مَا سَلَفَ ⦗٥٣٤⦘ لَكَ "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَا أَدَعُ شَيْئًا صَنَعْتُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لِلَّهِ إِلَّا صَنَعْتُ لِلَّهِ فِي الْإِسْلَامِ مِثْلَهُ، قَالَ: فَكَانَ أَعْتَقَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِائَةَ رَقَبَةٍ، فَأَعْتَقَ فِي الْإِسْلَامِ مِثْلَهَا مِائَةَ رَقَبَةٍ، وَسَاقَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِائَةَ بَدَنَةٍ، وَسَاقَ فِي الْإِسْلَامِ مِائَةَ بَدَنَةٍ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَابْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کا کیا خیال ہے، ان کاموں کے بارے میں جو میں جاہلیت میں عبادت کے طور پر کیا کرتا تھا؟ ہشام کہتے ہیں: یعنی میں انہیں نیکی کے طور پر کرتا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے اس بھلائی پر اسلام قبول کیا جو پہلے گزر چکی۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! جو کام میں جاہلیت خالص اللہ کے لیے کیا کرتا تھا، اسلام کے اندر بھی ویسے ہی کروں گا۔ انہوں نے جاہلیت میں سو غلام آزاد کیے تھے تو قبولِ اسلام کے بعد بھی سو غلام آزاد کیے۔ اگر جاہلیت میں سو اونٹ کی قربانی دی تھی تو اسلام میں بھی سو اونٹ کی قربانی دی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المدبر / حدیث: 21597
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»