کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مسلمان کسی نصرانی کو آزاد کرے یا نصرانی کسی مسلمان کو آزاد کرے۔
حدیث نمبر: 21469
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " فَالْوَلَاءُ ثَابِتٌ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ "..
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے اپنے ساتھی پر حق ولاء ثابت ہے...“
حدیث نمبر: 21469
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي قِصَّةِ بَرِيرَةَ قَالَتْ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْتَرِيهَا، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي عُمَرَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " لَمْ يَخُصَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدًا مِنْهُمَا دُونَ الْآخَرِ، وَإِنْ مَاتَ الْمُعْتِقُ لَمْ يَرِثْهُ مَوْلَاهُ بِاخْتِلَافِ الدِّينَيْنِ "..
حافظ ثناء اللہ
اسود فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بریرہ کے قصے کے بارے میں فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”آپ خرید لیں، ولاء تو آزاد کرنے والے ہی کے لیے ہوتی ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: نبی ﷺ نے تخصیص نہیں کی۔ اگر آزاد کرنے والا مر جائے تو یہ غلام اس کا وارث نہ ہو گا، دین کے اختلاف کی وجہ سے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: نبی ﷺ نے تخصیص نہیں کی۔ اگر آزاد کرنے والا مر جائے تو یہ غلام اس کا وارث نہ ہو گا، دین کے اختلاف کی وجہ سے۔
حدیث نمبر: 21470
وَاحْتَجَّ بِمَا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، قَالَا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَرِثُ الْكَافِرَ، وَأَنَّ الْكَافِرَ لَا يَرِثُ الْمُسْلِمَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کی طرف سے ان کو خبر ملی کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مسلم کافر کا وارث نہ ہوگا اور کافر مسلم کا وارث نہ ہوگا۔“
حدیث نمبر: 21471
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَعْتَقَ عَبْدًا لَهُ نَصْرَانِيًّا، فَتُوُفِّيَ، فَقَالَ إِسْمَاعِيلُ: فَأَمَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنْ آخُذَ مِيرَاثَهُ، فَأَجْعَلَهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ..
حافظ ثناء اللہ
اسماعیل بن ابی حکیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ایک عیسائی غلام آزاد کیا۔ وہ فوت ہو گیا، اسماعیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے مجھے حکم دیا کہ اس کی میراث لے کر بیت المال میں جمع کروا دو۔
(8) باب: «مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا لَهُ سَائِبَةً» ”جس نے اپنا غلام بطور سائبہ آزاد کیا“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: «فَالْعِتْقُ مَاضٍ وَلَهُ وَلَاؤُهُ» ”پس آزادی نافذ ہو گئی اور اس کی ولاء اسی کی ہو گی۔“
(8) باب: «مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا لَهُ سَائِبَةً» ”جس نے اپنا غلام بطور سائبہ آزاد کیا“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: «فَالْعِتْقُ مَاضٍ وَلَهُ وَلَاؤُهُ» ”پس آزادی نافذ ہو گئی اور اس کی ولاء اسی کی ہو گی۔“
حدیث نمبر: 21472
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ وَابْنُ مِلْحَانَ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ بَرِيرَةَ ⦗٥٠٥⦘ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ، فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي، فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا فَأَبَوْا، وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لَنَا، فَذَكَرْتَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ابْتَاعِي وَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ "، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ؟ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَلَيْسَ لَهُ، وَإِنْ شَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ، شَرْطُ اللهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ بریرہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اپنی مکاتبت میں مدد چاہی، ابھی تک انہوں نے کچھ ادا بھی نہ کیا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جاؤ، اگر وہ پسند کریں تو میں تمہاری مکاتبت ادا کر دیتی ہوں اور ولاء میرے لیے ہوگی، پھر بریرہ رضی اللہ عنہا نے (ان سے) ذکر کیا لیکن انہوں نے اس سے انکار کر دیا اور کہا: اگر وہ ثواب چاہتی ہیں تو یہ کام کریں، لیکن ولاء ہمارے لیے ہوگی۔ انہوں نے نبی ﷺ کے سامنے تذکرہ کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”خریدو اور آزاد کرو، ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں! جس نے ایسی شرط لگائی جو اللہ کی کتاب میں نہیں، اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ اگرچہ وہ سو شرطیں بھی لگائیں، اللہ کی شرائط وہ پورا کرنے کے زیادہ لائق ہیں۔“
حدیث نمبر: 21473
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ - يَعْنِي: ابْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ: إِنِّي أَعْتَقْتُ غُلَامًا لِي، وَجَعَلْتُهُ سَائِبَةً، فَمَاتَ وَتَرَكَ مَالًا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " إِنَّ أَهْلَ الْإِسْلَامِ لَا يُسَيِّبُونَ، إِنَّمَا كَانَتْ تُسَيِّبُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، وَأَنْتَ وَارِثُهُ وَوَلِيُّ نِعْمَتِهِ، فَإِنْ تَحَرَّجْتَ مِنْ شَيْءٍ، فَأَدِّنَاهُ نَجْعَلْهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مُخْتَصَرًا، عَنْ قَبِيصَةَ، عَنْ سُفْيَانَ وَرَوَاهُ الشَّعْبِيُّ وَالنَّخَعِيُّ وَغَيْرُهُمَا، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ مُرْسَلًا مُخْتَصَرًا. وَرُوِيَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ مَوْصُولًا، وَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ: " فَإِنْ أَبَيْتَ فَهَاهُنَا وَارِثُونَ كَثِيرٌ، فَجَعَلَهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ "..
حافظ ثناء اللہ
ہزیل بن شرحبیل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے اپنا ایک غلام آزاد کر دیا ہے اور میں نے اس کو سائبہ مقرر کیا تھا۔ وہ فوت ہو گیا اور اس نے مال چھوڑا ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسلمان سائبہ نہ چھوڑتے تھے بلکہ جاہلیت میں سائبہ چھوڑا جاتا تھا، آپ اس کے وارث ہیں اور اس کی ولاء کے بھی حق دار ہیں۔ اگر آپ کو گناہ یا حرج محسوس ہوتا ہے تو ہم اس کو بیت المال میں جمع کرا دیتے ہیں۔
(ب) علقمہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اگر آپ انکار کرتے ہیں تو یہاں وارث بہت ہیں، انہوں نے بیت المال میں جمع کروا دیا۔
(ب) علقمہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اگر آپ انکار کرتے ہیں تو یہاں وارث بہت ہیں، انہوں نے بیت المال میں جمع کروا دیا۔
حدیث نمبر: 21474
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، أَخْبَرَنِي أَبُو طُوَالَةَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ، قَالَ: كَانَ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ مَوْلًى لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهَا عَمْرَةُ بِنْتُ يَعَارٍ أَعْتَقَتْهُ سَائِبَةً، فَقُتِلَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ، فَأَتَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِيرَاثِهِ، فَقَالَ: " أَعْطُوهُ عَمْرَةَ "، فَأَبَتْ أَنْ تَقْبَلَهُ..
حافظ ثناء اللہ
عبد الرحمٰن بن معمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سالم رضی اللہ عنہ، ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام تھے اور ان کی بیوی لونڈی تھی، جس کا نام عمرہ بنت یعار رضی اللہ عنہا تھا۔ اس نے انہیں «سَائِبَة» بنا کر آزاد کر دیا تھا۔ وہ یمامہ کے دن شہید ہو گئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی میراث لائی گئی تو وہ فرمانے لگے: عمرہ کو دو، تو اس نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
حدیث نمبر: 21475
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ قَالَا: ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَيُّوبَ، وَسَلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: نُبِّئْتُ أَنَّ سَالِمًا، مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ أَعْتَقَتْهُ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَقَالَتِ: " اذْهَبْ فَوَالِ مَنْ شِئْتَ "، فَوَالَى أَبَا حُذَيْفَةَ، فَلَمَّا أُصِيبَ اخْتَصَمُوا فِي مِيرَاثِهِ، فَجُعِلَ مِيرَاثُهُ لِلْأَنْصَارِ..
حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی کہ سالم رضی اللہ عنہ جو ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام تھے، انصار کی ایک عورت رضی اللہ عنہا نے ان کو آزاد کر دیا، اس نے کہا: جاؤ جس کو چاہو والی بنا لو۔ انہوں نے ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کو والی مقرر کر لیا، جب وہ شہید ہو گئے تو ان کی وراثت میں جھگڑا کیا گیا تو ان کی وراثت انصار کے لیے رکھ دی گئی۔
حدیث نمبر: 21476
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، أنبأ أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَدِيعَةَ بْنِ خِدَامِ بْنِ خَالِدٍ أَخِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ: كَانَ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ مَوْلًى لِامْرَأَةٍ مِنَّا يُقَالُ لَهَا: سَلْمَى بِنْتُ يَعَارٍ، أَعْتَقَتْهُ سَائِبَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا أُصِيبَ بِالْيَمَامَةِ أَتَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِيرَاثِهِ، فَدَعَا وَدِيعَةَ بْنَ خِدَامٍ، فَقَالَ: " هَذَا مِيرَاثُ مَوْلَاكُمْ، وَأَنْتُمْ أَحَقُّ بِهِ "، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَدْ أَغْنَانَا اللهُ عَنْهُ، قَدْ أَعْتَقَتْهُ صَاحِبَتُنَا سَائِبَةً، فَلَا نُرِيدُ أَنْ نَنْدَى مِنْ أَمْرِهِ شَيْئًا، أَوْ قَالَ: نَرْزَأَ، فَجَعَلَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ. ..
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ودیعہ رضی اللہ عنہما بن خدام بن خالد بنو عمرو بن عوف کے بھائی ہیں، فرماتے ہیں کہ سالم جو ابوحذیفہ رضی اللہ عنہما کے غلام تھے، حقیقت میں ہمارے قبیلہ کی عورت سلمیٰ بنت یعار کے غلام تھے۔ اس نے سائبہ جاہلیت میں بنا کر آزاد کر دیا، جب جنگِ یمامہ میں وہ مارا گیا تو اس کی وراثت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لائی گئی۔ انہوں نے ودیعہ بن خدام رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور فرمایا: یہ تمہارے آزاد کردہ غلام کی وراثت ہے، تم اس کے زیادہ حقدار ہو، وہ کہنے لگے: اے امیر المومنین! اللہ نے ہمیں اس سے غنی کر دیا ہے۔ ہمارے قبیلہ کی عورت نے ان کو سائبہ بنا کر آزاد کر دیا تھا۔ ہمیں اس سے کسی چیز کی ضرورت نہ تھی تو انہوں نے بیت المال میں جمع کروا دیا۔
حدیث نمبر: 21477
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ عَالِيًا، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَدَعَا أَبَا وَدِيعَةَ بْنَ خِدَامٍ، وَكَانَ وَارِثَ سَلْمَى بِنْتِ يَعَارٍ، فَقَالَ: " هَذَا مِيرَاثُ مَوْلَاكُمْ فَخُذُوهُ "، فَقَالَ وَدِيعَةُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَعْتَقَتْهُ صَاحِبَتُنَا سَائِبَةً لِأَبَوَيْهَا، وَقَدْ أَغْنَاهَا اللهُ عَنْهُ، فَلَا حَاجَةَ لَنَا بِهِ، قَالَ: فَجَعَلَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي بَيْتِ مَالِ الْمُسْلِمِينَ. وَرَوَاهُ بِمَعْنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ.
حافظ ثناء اللہ
یعقوب بن ابراہیم بن سعد اپنی سند سے روایت کرتے ہیں، اس کے آخر میں ہے کہ انہوں نے ابو ودیعہ بن خدام کو طلب کیا اور وہ سلمی بنت یعار کے وارث تھے، انہوں نے کہا: یہ تمہارے آزاد کردہ غلام کی وراثت ہے اسے لے لو۔ ودیعہ کہنے لگے: اے امیر المؤمنین! ہمارے قبیلے کی ایک عورت نے اسے سائبہ (اپنے والدین کے نام پر) آزاد کیا تھا، اللہ نے ہمیں اس سے مستغنی کیا ہے، ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے بیت المال میں جمع کروا دیا۔