حدیث نمبر: 21192
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: عَنْ سُفْيَانَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا هُشَيْمٌ، جَمِيعًا عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ رَجُلَيْنِ شَهِدَا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى رَجُلٍ بِالسَّرِقَةِ، فَقَطَعَ عَلِيٌّ يَدَهُ، ثُمَّ جَاءَا بِآخَرَ فَقَالَا: هَذَا هُوَ السَّارِقُ، لَا الْأَوَّلُ، فَأْغَرَمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الشَّاهِدَيْنِ دِيَةَ يَدِ الْمَقْطُوعِ الْأَوَّلِ، وَقَالَ: " لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكُمَا تَعَمَّدْتُمَا لَقَطَعْتُ أَيْدِيَكُمَا "، وَلَمْ يَقْطَعِ الثَّانِيَ. لَفْظُ حَدِيثِ هُشَيْمٍ، وَفِي رِوَايَةِ سُفْيَانَ، عَنْ مُطَرِّفٍ فَقَالَا: " وَأَخْطَأْنَا عَلَى الْأَوَّلِ ".
حافظ ثناء اللہ
مطرف، شعبی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس دو لوگوں نے ایک آدمی کے خلاف چوری کی گواہی دی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا، پھر وہ دوسرے آدمی کو لے کر آئے کہ یہ چور ہے پہلا نہیں ہے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پہلے چور کے ہاتھ کی دیت ان پر ڈال دی اور فرمانے لگے: اگر مجھے علم ہو جاتا کہ تم نے جان بوجھ کر کیا ہے تو میں تمہارے ہاتھ کاٹ دیتا، لیکن انہوں نے دوسرے کے ہاتھ کو نہیں کاٹا۔
حدیث نمبر: 21193
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: " إِذَا شَهِدَ شَاهِدَانِ عَلَى قَتْلٍ، ثُمَّ قُتِلَ الْقَاتِلُ، ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُ الشَّاهِدِينَ قُتِلَ ". قَالَ الشَّيْخُ: " وَهَذَا فِيهِ إِذَا قَالَ: عَمِدْتُ أَنْ أَشْهَدَ عَلَيْهِ لِيُقْتَلَ، وَالْأَوَّلُ فِي الْخَطَأِ ".
حافظ ثناء اللہ
منصور، حسن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ کسی کے قتل پر دو آدمی گواہی دے دیں، پھر قاتل کو قتل کر دیا جائے۔ پھر ایک گواہ رجوع کر لے تو اس کو قتل کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 21194
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ: شَهِدَ عِنْدَهُ رَجُلٌ بِشَهَادَةٍ، وَأَمْضَى شُرَيْحٌ الْحُكْمَ فِيهَا، فَرَجَعَ الرَّجُلُ بَعْدُ، فَلَمْ يُصَدِّقْ قَوْلَهُ، يَعْنِي: فَلَمْ يَنْقُضِ الْأَوَّلَ، وَلَمْ يُصَدِّقْ قَوْلَهُ فِي الرُّجُوعِ ثُمَّ التَّغْرِيمِ فِيمَا يَكُونُ إِتْلَافًا عَلَى مَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
ابو حصین، قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی نے گواہی دی تو قاضی شریح رحمہ اللہ نے اس کے مطابق فیصلہ فرما دیا؛ اس کے بعد اس نے نہ تو رجوع کیا، نہ تصدیق کی اور نہ ہی اپنی پہلی بات سے پھرا، لیکن جو چیز تلف ہوئی اس پر جرمانہ بھر دیا۔
حدیث نمبر: 21195
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ رَجُلٍ شَهِدَ عِنْدَ الْإِمَامِ، فَأَثْبَتَ الْإِمَامُ شَهَادَتَهُ، ثُمَّ دُعِيَ لَهَا فَبَدَّلَهَا، أَتَجُوزُ شَهَادَتُهُ الْأُولَى، أَوِ الْآخِرَةُ؟ قَالَ: " لَا شَهَادَةَ لَهُ فِي الْأُولَى وَلَا فِي الْآخِرَةِ ". قَالَ الشَّيْخُ: " وَهَذَا فِي الرُّجُوعِ قَبْلَ إِمْضَاءِ الْحُكْمِ بِالْأُولَى ".
حافظ ثناء اللہ
اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے زہری رحمہ اللہ سے ایک آدمی کے متعلق سوال کیا، جس نے امام احمد رحمہ اللہ کے پاس گواہی دی تو انہوں نے اس کی گواہی کو ثابت رکھا، لیکن دوبارہ اس نے اپنی گواہی تبدیل کر دی۔
پوچھا گیا: پہلی گواہی درست ہے یا بعد والی؟ فرمایا: کوئی بھی قابل قبول نہیں ہے۔
پوچھا گیا: پہلی گواہی درست ہے یا بعد والی؟ فرمایا: کوئی بھی قابل قبول نہیں ہے۔