کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ولد الزنا (زنا سے پیدا ہونے والے بچے) کی گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: 21180
قَدْ مَضَى فِي حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُؤْمِنُونَ شُهَدَاءُ اللهِ فِي الْأَرْضِ "، وَرُوِّينَا عَنْ عَطَاءٍ وَالشَّعْبِيِّ أَنَّهُمَا قَالَا: " تَجُوزُ شَهَادَةُ وَلَدِ الزِّنَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں گزر چکا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مومن زمین میں اللہ کے گواہ ہیں۔“
اور ہمیں عطاء اور شعبی رحمہما اللہ سے روایت پہنچی ہے کہ ان دونوں نے فرمایا: ”ولد الزنا (ناجائز اولاد) کی گواہی جائز ہے۔“
اور ہمیں عطاء اور شعبی رحمہما اللہ سے روایت پہنچی ہے کہ ان دونوں نے فرمایا: ”ولد الزنا (ناجائز اولاد) کی گواہی جائز ہے۔“
حدیث نمبر: 21180
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا السَّرَّاجُ، ثنا زِيَادُ بْنُ ⦗٤٢٢⦘ أَيُّوبَ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي وَلَدِ الزِّنَا، قَالَ: " لَا يَفْضُلُهُ وَلَدُ الرِّشْدَةِ إِلَّا بِالتَّقْوَى ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ حرامی بچے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ صحیح النسب بچہ اس سے صرف تقویٰ کی بنیاد پر فضیلت رکھتا ہے۔
حدیث نمبر: 21181
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، كَانُوا يَقُولُونَ فِي وَلَدِ الزِّنَا: " إِنَّ أَصْلَهُ لَأَصْلُ سُوءٍ، وَإِذَا حَسُنَتْ حَالَتُهُ وَمُرُوءَتُهُ جَازَتْ شَهَادَتُهُ "، وَكَانُوا يَرَوْنَ عِتْقَهُ حَسَنًا.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی زناد رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ مدینہ کے معتبر فقہاء سے نقل فرماتے ہیں کہ حرامی بچہ کی اصل بری ہے، جب اس کی حالت اور صحبت اچھی ہو تو پھر وہ گواہی کے قابل ہے اور اس کو آزاد کر دینا بھی اچھا ہے۔