کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: انسان پر شاعری کے اس قدر غالب ہونے کی کراہت کہ وہ اسے اللہ کے ذکر، علم اور قرآن سے غافل کر دے۔
حدیث نمبر: 21143
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمَحِيُّ الْمَكِّيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کسی ایک کا پیٹ پیپ سے بھر جائے یہ بہتر ہے کہ اشعار سے بھرا جائے۔“
حدیث نمبر: 21144
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاهِدُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيُّ، أنبأ وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحً، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَيْحًا يَرِيَهُ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الْأَعْمَشِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْأَشَجِّ، عَنْ وَكِيعٍ، وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کا پیٹ پیپ سے بھرا ہو، یہ اس سے بہتر ہے کہ اس میں اشعار ہوں۔“
حدیث نمبر: 21145
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَا: ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ يُحَنِّسَ مَوْلَى مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ إِذْ عَرَضَ شَاعِرٌ يُنْشِدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذُوا الشَّيْطَانَ "، أَوْ " أَمْسِكُوا الشَّيْطَانَ، لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ عرج مقام پر چل رہے تھے، اچانک ایک شاعر سامنے آگیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”شیطان کو پکڑو کیونکہ آدمی کے پیٹ کا پیپ سے بھرا ہونا بہتر ہے کہ وہ اشعار سے بھرا ہوا ہو۔“
حدیث نمبر: 21146
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: قَوْلُهُ: " حَتَّى يَرِيَهُ هُوَ مِنَ الْوَرْيِ، وَهُوِ أَنْ يَدْوَى جَوْفُهُ، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَسَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ يُحَدِّثُ عَنِ الشَّرْقِيِّ بْنِ الْقَطَّامِيِّ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا حَتَّى يَرِيَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " يَعْنِي: مِنَ الشِّعْرِ الَّذِي هُجِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ⦗٤١٤⦘ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: " وَالَّذِي عِنْدِي فِي هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرُ هَذَا الْقَوْلِ، لِأَنَّ الَّذِي هُجِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ شَطْرَ بَيْتٍ لَكَانَ كُفْرًا، وَلَكِنَّ وَجْهَهُ عِنْدِي أَنْ يَمْتَلِئَ قَلْبُهُ حَتَّى يَغْلِبَ عَلَيْهِ، فَيَشْغَلَهُ عَنِ الْقُرْآنِ، وَعَنْ ذِكْرِ اللهِ، فَيَكُونَ الْغَالِبَ عَلَيْهِ، مِنْ أِيِّ الشِّعْرِ كَانَ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے ایک کا پیٹ پیپ سے بھرا ہوا ہو، وہ اس کو اپنے لیے بہتر خیال کرے اس سے کہ وہ اشعار سے بھرا ہوا ہو۔“ یعنی ایسے اشعار جس میں نبی ﷺ کی مذمت بیان کی گئی ہو۔
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر نصف شعر بھی ہو جس میں نبی ﷺ کی مذمت بیان کی گئی ہو تو وہ کفر ہے، لیکن میرے نزدیک یہ ہے کہ انسان کے دل پر اشعار غالب آ جائیں جس کی بنا پر وہ اللہ کے ذکر اور قرآن کی تلاوت سے دور رہے۔
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر نصف شعر بھی ہو جس میں نبی ﷺ کی مذمت بیان کی گئی ہو تو وہ کفر ہے، لیکن میرے نزدیک یہ ہے کہ انسان کے دل پر اشعار غالب آ جائیں جس کی بنا پر وہ اللہ کے ذکر اور قرآن کی تلاوت سے دور رہے۔
حدیث نمبر: 21147
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، ثنا أَبُو نَوْفَلِ بْنُ أَبِي عَقْرَبٍ، قَالَ: قِيلَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَكَانَ يُنْشَدُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشِّعْرُ؟ فَقَالَتْ: " كَانَ أَبْغَضَ الْحَدِيثِ إِلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو نوفل بن ابی عقرب فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا گیا: کیا نبی ﷺ کے پاس اشعار پڑھے جاتے تھے؟ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ کو یہ بات بہت زیادہ ناپسند تھی۔