کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: جھولے جھولنے کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الدَّارِمِيُّ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَمْلَاهُ عَلَيْنَا، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسِتِّ سِنِينَ، وَبَنَى بِي وَأَنَا ابْنَةُ تِسْعِ سِنِينَ "، قَالَتْ: " فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَوُعِكْتُ شَهْرًا، فَوَافَى شَعْرِي جُمَيْمَةً، فَأَتَتْنِي أُمُّ رُومَانَ وَأَنَا عَلَى أُرْجُوحَةٍ وَمَعِي صَوَاحِبِي، فَصَرَخَتْ بِي، فَأَتَيْتُهَا وَمَا أَدْرِي مَا يُرَادُ بِي، فَأَخَذَتْ بِيَدِي فَأَوْقَفَتْنِي عَلَى الْبَابِ، فَقُلْتُ: هَذِهِ، هَذِهِ، حَتَّى ذَهَبَ نَفَسِي، فَأَدْخَلَتْنِي بَيْتًا، فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقُلْنَ: عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ، وعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ، فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِنَّ، فَغَسَلْنَ رَأْسِي وَأَصْلَحْنَنِي، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمْنَنِي إِلَيْهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے شادی کی تو میری عمر 6 برس کی تھی اور میری رخصتی ہوئی تو میری عمر 9 سال کی تھی۔ میں مدینہ آئی تو مہینہ بھر بخار رہا، میرے جُمہ (کندھوں تک لٹکنے والے) بال تھے۔ میرے پاس ام رومان رضی اللہ عنہا آئیں، میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ جھولے پر تھی۔ انہوں نے مجھے پکارا، میں ان کے پاس آئی۔ مجھے معلوم نہ تھا ان کا ارادہ کیا ہے، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر دروازے کی دہلیز پر لے آئیں۔ میں نے کہا: یہ کیا، یہاں تک کہ میرے دل کا خوف ختم ہو گیا۔ انہوں نے مجھے گھر میں داخل کر دیا، جہاں انصاری عورتیں تھیں، انہوں نے کہا: آپ کے لیے خیر و برکت ہو۔ انہوں نے مجھے ان عورتوں کے سپرد کر دیا۔ انہوں نے میرا سر دھویا اور مجھے تیار کیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا تو ان عورتوں نے مجھے رسول اللہ ﷺ کے سپرد کر دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20984
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " تَزَوَّجَنِي "، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " لِسِتِّ سِنِينَ، فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ نَزَلْنَا السُّنْحَ فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ "، قَالَتْ: " فَإِنِّي لَأَرْجِحُ بَيْنَ عِذْقَيْنِ وَأَنَا ابْنَةُ تِسْعٍ، إِذْ جَاءَتْ أُمِّي فَأَنْزَلَتْنِي، ثُمَّ مَشَتْ بِي حَتَّى انْتَهَتْ بِي إِلَى الْبَابِ وَأَنَا أُنْهِجُ، فَمَسَحَتْ وَجْهِي بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ، وَفَرَقَتْ جُمَيْمَةً كَانَتْ لِي، وَدَخَلَتْ بِي عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ، فَقَالَتْ: هَؤُلَاءِ أَهْلُكَ، فَبَارَكَ اللهُ لَكَ فِيهِمْ، وَبَارَكْ لَهُمْ فِيكَ، وَقَامَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ وَخَرَجُوا، وَبَنَى بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”میری شادی نبی ﷺ سے چھ سال کی عمر میں ہوئی۔ جب ہم مدینہ میں آئے تو بنو حارث بن خزرج کے ہاں سنح میں اترے۔ میں کھجور کے دو تنوں کے درمیان جھولا جھول رہی تھی، اس وقت میری عمر نو برس کی تھی، کہ اچانک میری والدہ آئیں، مجھے (جھولے سے) اتارا، پھر مجھے لے کر چلیں اور دروازے تک جا پہنچیں۔ میرا سانس پھولا ہوا تھا۔ میری والدہ نے میرا چہرہ تھوڑے سے پانی سے صاف کیا اور میری مانگ نکالی اور مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گئیں۔ گھر میں مرد اور عورتیں تھے، تو انہوں نے کہا: یہ آپ کے گھر والے ہیں، اللہ آپ کو ان میں برکت دے اور ان کو آپ میں برکت دے۔ مرد اور عورتیں اٹھ کر چلے گئے اور نبی ﷺ نے مجھ سے بنا کی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20985
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا، حَدَّثَنِي أَبِي، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ زِيَادٍ أَبِي عُمَرَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَ بِقَطْعِ الْمَرَاجِيحِ. . هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ مَوْصُولًا وَلَيْسَ بِشَيْءٍ، وَكَانَ أَبُو بُرْدَةَ، وَطَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ يَكْرَهَانِهَا.
حافظ ثناء اللہ
صالح ابو الخلیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”جھولوں کو کاٹنے کا“ حکم دیا۔
یہ روایت منقطع ہے، اور ایک دوسری ضعیف سند سے موصولاً بھی مروی ہے، لیکن وہ کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20986
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»